𝙌𝙪𝙧𝙖𝙣 𝙠𝙖𝙧𝙚𝙚𝙢 📖
123 subscribers
82 photos
142 videos
1 file
56 links
Book of Allah 📗

Content
https://linktr.ee/iqurhan

 
Suggestion @nasazain
Download Telegram
*FRIDAY UAE KHUTBA 21-08-2026* 🎙️🇦🇪

*مالك بن أنس رحمه الله
*
*Malik bin Anas*

https://whatsapp.com/channel/0029Vb6SWfI8vd1UUc3bFr30
*FRIDAY UAE KHUTBA 21-08-2026* 🎙️🇦🇪

*مالك بن أنس رحمه الله*

*Malik bin Anas*

*الخطبة الأولى:*

الـحمد لله رب الأرض والسماء، جعل العلماء ورثة الأنبياء، ونشهد أن لا إله إلا الله، ونشهد أن سيدنا ونبينا محمدا رسول الله، صلى الله وسلم وبارك عليه وعلى آله وصحبه ومن والاه.

أما بعد: فأوصيكم عباد الله ونفسي بتقوى الله، قال جل في علاه: ﴿واتقوا الله ويعلمكم الله والله بكل شيء عليم﴾.

أيها المؤمنون: في شهر ربيع الأول، تهب علينا نسمات ذكرى مولد نبينا محمد ﷺ، فتزداد في القلوب محبته، وتحيا في النفوس سيرته، ويعظم فينا الاقتداء بهديه، عملا بقول الله تعالى: ﴿لتؤمنوا بالله ورسوله وتعزروه وتوقروه وتسبحوه بكرة وأصيلا﴾.

ومن صدق محبته، وحسن الاعتناء بهديه ﷺ: أن نعرف قدر أولئك العلماء الأجلاء، الذين وهبوا أعمارهم لخدمة حديثه ﷺ، ومن أعلامهم: الإمام مالك بن أنس رحمه الله، عالم المدينة المنورة، الذي ملأ الأرض علما، وانتشر مذهبه شرقا وغربا، حتى قيل: إذا ذكر العلماء فمالك النجم. ولد بالمدينة المنورة، ونشأ في بيت كان للعلم منبعا، ولراغبي الهدي النبوي موردا، فجده من علماء التابعين، ووالده وعماه من المحدثين، وأما أمه، فكانت امرأة حصيفة؛ تقدر العلم وتعرف أهله، فعندما جاءها مالك -وهو صغير- يستأذنها في طلب العلم: قالت له: تعال، فالبس ثياب العلم، فألبسته أحسن الثياب، ثم قالت: اذهب، فاكتب العلم. ووجهته إلى معينه الصافي، ومصدره الموثوق، ربيعة بن أبي عبد الرحمن، وكان من أفقه أهل زمانه، وقالت له: تعلم من أدبه قبل علمه، فزكا بذلك خلقه، وترقى فهمه، وأقبل على طلب حديث رسول الله ﷺ منذ صغره، يبذل في سبيل ذلك جهده، ويحفظ قدر معلمه، قال رحمه الله: كنت آتي نافعا نصف النهار، وما تظلني الشجر من الشمس إلى خروجه، فإذا خرج أدعه ساعة ثم أسلم عليه، وأقول له: ‌كيف ‌قال ‌ابن ‌عمر ‌في ‌كذا وكذا؟ فيجيبني،

وقد أثمر إخلاصه وجده، فتمكن في علمه، وجلس للفتيا وله إحدى وعشرون سنة، بعد أن شهد له سبعون عالما من علماء أهل زمانه، وقصده طلبة العلم من الآفاق.

عباد الله: لقد كان الإمام مالك رحمه الله يجل حديث رسول الله ﷺ أعظم إجلال، ويتحرى الدقة في نقله، فـإذا شك في حديث طرحه كله، حرصا منه -رحمه الله- على دقة النقل عن رسول الله ﷺ، وإذا جاءه طلاب الحديث ‌دخل ‌‌فاغتسل ‌وتطيب، ولبس أنفس ثيابه، فيخرج إليهم وعليه الخشوع، ويقول أحب أن أعظم حديث رسول الله ﷺ،

وكان يقول: ما أحب لأحد أنعم الله عليه إلا أن يرى أثر نعمته عليه، وبخاصة أهل العلم؛ إجلالا للعلم. ومن نصائحه لطلبة العلم قوله: حق على من طلب العلم أن يكون له وقار، وسكينة وخشية، فمجلسه مجلس وقار وعلم لا جدال فيه، فهو القائل: الجدال في العلم يذهب بنور العلم من قلب العبد، ويورث الضغائن.

وكان يقول لطلابه: من رفع صوته عند حديث رسول الله فكأنما رفع صوته فوق صوت رسول الله ﷺ، ويذكرهم بقول ربهم: ﴿يا أيها الذين آمنوا لا ترفعوا أصواتكم فوق صوت النبي﴾، ﴿يا أيها الذين آمنوا أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولي الأمر منكم﴾.

أقول قولي هذا وأستغفر الله لي ولكم، فاستغفروه.

الخطبة الثانية:

الحمد لله وحده، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده.

أما بعد: فيا أيها المؤمنون: لقد كان الإمام مالك رحمه الله يدرك أن العلم والفتوى أمانة، ويعمل بقوله سبحانه: ﴿يا أيها الذين آمنوا لا تخونوا الله والرسول وتخونوا أماناتكم وأنتم تعلمون﴾، سأله رجل عن مسألة فقال: لا أحسنها، فقال: سافرت إليك من بلد بعيد. قال: فأخبر قومك أني لا أحسنها، فتأملوا أمانته في الفتوى، واستشعاره لمسؤوليتها، وتدبروا كيف كان يعلم طلابه الاستعانة بالله، فإذا سئل عن مسألة؛ قال قبل أن يسمع السؤال: ﴿ما شاء الله لا قوة إلا بالله﴾، وعاش عمره مشغولا بالعلم وطاعة ربه، وملأ بهما نهاره وليله.

وكان من أحسن الناس خلقا مع أهله وولده، ويقول: في ذلك مرضاة لربك، ومثراة في مالك، ومنسأة في أجلك، ولما حضرته الوفاة تشهد ثم قال: ﴿لله الأمر من قبل ومن بعد﴾، وتوفي بالمدينة المنورة في مثل هذه الأيام من شهر ربيع الأول سنة تسع وسبعين ومائة، ودفن بالبقيع جوار إبراهيم ولد النبي ﷺ، فرحمه الله رحمة واسعة، وسائر الأئمة الأربعة؛ عاش وتعلم في وطنه، وأخذ العلم عن الثقات في وقته، ونفع الناس بعلمه، وعرف بجده واجتهاده، وتحريه في العلم وتثبته، واعتداله وتسامحه، وسعة فقهه، وإخلاصه وهيبته، وتواضعه وخشيته؛ فخذ يا عبد الله بوصيته، إذ يقول: عليك بمجالسة من يزيد في علمك قوله، ويدعوك لحال الآخرة فعله، واقرأ سيرته، وتعلم فقهه، واقتد بهديه، واجتهد في طلب العلم من مؤسسات الوطن، ومن أراد الاستزادة فليسلك قنواتها الرسمية؛ فالعلم أمانة، وتحري مصدره أمان.

هذا وصل اللهم وسلم وبارك على سيدنا ونبينا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين، وارض اللهم عن أبي بكر وعمر وعثمان وعلي، وعن سائر الصحابة الأكرمين.
اللهم إنا نسألك جوامع الخير، ومعاقد البر، وخزائن فضلك، وسعة عفوك.

اللهم أدم على دولة الإمارات عزها ونصرها، واستقرارها وازدهارها، وخيرها ورخاءها. اللهم احفظ الشيخ محمد بن زايد رئيس الدولة بحفظك، وكن له عونا وسندا، وبارك في عمره وعمله، اللهم وفقه ونوابه وإخوانه حكام الإمارات، وولي عهده الأمين؛ لما تحبه وترضاه.

اللهم ارحم الشيخ زايد، والشيخ راشد، وشيوخ الإمارات الذين انتقلوا إلى رحمتك، وأدخلهم بفضلك فسيح جناتك. اللهم اشمل شهداء الوطن برحمتك وغفرانك.

اللهم ارحم المسلمين والمسلمات: الأحياء منهم والأموات.

عباد الله: اذكروا الله العظيم الجليل يذكركم، واشكروه على نعمه يزدكم. وأقم الصلاة.
*FRIDAY UAE KHUTBA 21-08-2026* 🎙️🇦🇪

*مالك بن أنس رحمه الله*

*Malik bin Anas*

الْخُطْبَةُ الْأُولَى:
الْـحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْأَرْضِ وَالسَّمَاءِ، جَعَلَ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةَ الْأَنْبِيَاءِ، وَنَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَنَشْهَدُ أَنَّ سَيِّدَنَا وَنَبِيَّنَا مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ وَسَلَّمَ وَبَارَكَ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَمَنْ وَالَاهُ.

أَمَّا بَعْدُ: فَأُوصِيكُمْ عِبَادَ اللَّهِ وَنَفْسِي بِتَقْوَى اللَّهِ، قَالَ جَلَّ فِي عُلَاهُ:﴿وَاتَّقُوا اللَّهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللَّهُ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ﴾.

برادرانِ اِیمان، میرے عزیز ساتھیو! ربیع الاول کا با برکت مہینہ ہم پر سایہ فگن ہو چکا ہے، اور اسکی معطر ہوائیں، ہماری پُررونق فضا میں خوشبو بکھیررہی ہیں، ہر سُو نبی کریم، رسولِ اَمین، محمدِ مصطفٰی اَحمدِ مجتبٰیﷺ کی وِلادت با سعادت کا تذکرہ ہو رہا ہے، ہر دل آپ علیہ السلام کی محبت سے سرشار ہے، اورہر زبان پر آپ کی پیاری سیرت کا بیان جاری ہے، جس سے دلوں کو سکون و قرار حاصل ہوتا ہے،آپ علیہ السلام کی سیرتِ مبارکہ پر عمل کرنے کا جذبہ بیدار ہوتا ہے، اور اللہ رب العزت کے اس فرمان کی تعمیل ہوتی ہے:﴿لِتُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُ وَتُسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا﴾. تاکہ (اے لوگو) تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، اور اس کی مدد کرو، اور اس کی تعظیم کرو، اور صبح و شام اللہ کی تسبیح کرو، تو میرے بھائیو! آپ علیہ الصلاۃ والسلام سے سچی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ان جلیل القدر علماء کرام کی قدر کریں اور انکے علمی کمالات کو جانیں جنہوں نے اپنی ساری زندگیاں نبی کریمﷺکی اَحادیث مبارکہ کی خدمت کے لیے وقف کر دِیں، چنانچہ اُنہیں مشہور مُحدِّثین کرام میں حضرت امام مالک بن انس رحمہ اللہ کا نام سرِفہرست ہے، جو مدینہ منورہ کے عظیم عالم تھے، جن کے علم سے زمین کا گوشہ گوشہ منور ہوا، جن کا فقہی مسلک اتنا مقبول ہوا کہ مشرق و مغرب تک پھیل گیا، یہاں تک کہ ان کے بارے میں یہ کہا گیا کہ: جب کبھی بھی، کہیں بھی علماء کرام کا تذکرہ کیا جائے گا تو امام مالک ان میں روشن ستارے کی مانند چمکتے نظر آئیں گے.

میرے بھائیو! اسلام کے اس عظيم محدث و فقیہ نے مدینہ منورہ میں آنکھ کھولی، اور ایک ایسے گھرانے میں پرورش پائی جو علم و عمل کا گہوارہ تھا، علمِ حدیث کی پیاس رکھنے والوں کی سیرابی کا مرکز تھا، چنانچہ اُن کے جَدِّ اَمجدتابعین علماء کرام میں سے تھے، اُن کے والد اور دونوں چچا کا شمار محدثین کرام میں ہوتا ہے جبکہ اُنکی والدہ ماجدہ ایک نيك اور ذہین خاتون تھیں جو علم کی قدر و منزلت جانتی تھیں، اوراہلِ علم کا مقام و مرتبہ پہنچانتی تھیں، چنانچہ امام مالک رحمہ اللہ نے جب اپنی کمسِنی میں اپنی والدہ سے حصولِ علم کى اجازت چاہی، تو والدہ محترمہ نے فرمایا کہ آؤ پہلے علم کے شایانِ شان لباس پہنو، پھر ان کو سب سے عمدہ لباس پہنایا اور کہا کہ اب جاؤ، علم حاصل کرو اور اسے لکھو. پھر امام مالک رحمہ اللہ کو ایسی علمی شخصیت کے پاس بھیجا جو اپنے زمانے کے سب سے بڑے فقیہ تھے، علم و معرفت کا سرچشمہ تھے، اورعلم کی گہرائی اور پختگی میں حرفِ اعتماد سمجھے جاتے تھے، ان کا نام ربیعہ بن ابو عبد الرحمن تھا، چنانچہ امام مالک رحمہ اللہ کی والدہ محترمہ نے امام مالک کو ان کے استاد حضرت ربیعہ رحمہ اللہ کے متعلق نصیحت فرمائی اور کہا کہ: اُن کے علم سے فیضیاب ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ پہلے ان کا ادب و احترام سیکھو، توحضرت امام مالک رحمہ اللہ نے اپنی والدہ کی نصیحت پر عمل کیا، اپنے استاد کاحددرجہ ادب و احترام کیا، چنانچہ اس نورانی ماحول میں ان کے اخلاق کو پاکیزگی اور فہم وفراست کو بلندی حاصل ہوئی،اور وہ کم عمری سے ہی اَحادیث نبویہ (علی صاحبہا الصلاۃ والسلام) کا علم حاصل کرنے میں مصروف ہو گئے، اور اپنی تمام تر توانائیاں حصولِ علم کی راہ میں خرچ کر دِیں، امام مالک رحمہ اللہ اپنےعلمی سفر کی داستان سناتے ہوئے فرماتے ہیں، کہ میں اپنے استاد حضرت نافع رحمہ اللہ کی خدمت میں دوپہر کے وقت حاضر ہوتا تھا، جب سورج اپنے عروج پر ہوتا اور کوئی درخت تک نظر نہیں آتا تھا کہ میں اُس کی چھاؤں میں کھڑا ہو سکوں، بہر حال میں حضرت نافع کے گھر سے باہر تشریف لانے کا انتظار کرتا رہتا، پھر جب وہ تشریف لاتے تو جلدی بازی کی بجائے میں ان کے آرام سے بیٹھنے کا انتظارکرتا پھرانہیں سلام کرتا اور ان سے مختلف علمی سؤالات کرتا اور ان سے دریافت کرتا کہ فلاں فلاں مسئلہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کیا فرماتے ہیں؟ ، تو وہ مجھے اس کا تسلی بخش جواب عنایت فرماتے
تو میرے بھائیو، حصولِ علم کے لیے اخلاص حضرت امام مالک رحمہ اللہ کے دل و جان میں جاگُزیں ہو چکا تھا، لہذا اللہ رب العزت نے ان کے اخلاص اورجد و جہد کو شرفِ قبولیت سے نوازا، اور انہیں یہ اعزاز بخشا کہ صرف اکیس سال کی عمر میں وه مَسنَدِ اِفتاء پر تشریف فرما ہوئے، جبکہ اِس سے پہلے اس زمانے کے ستر سے زائد علماء کرام اُن کے علم و فقاہت کی گواہی دے چکے تھے.پھر چہار دانگِ عالَم سے طلباء کرام اپنی علمی پیاس بُجھانے اُن کی خدمت میں حاضر ہونے لگے

اللہ کے نیک بندو! امام مالک رحمہ اللہ نبی کریم ﷺکی احادیث مبارکہ کی بے حد تعظیم فرمایا کرتے، اور اُن کو روایت کرنے میں حد درجہ احتیاط فرماتے، اگر انہیں کسی حدیث کی صِحّت میں کوئی شک ہوتا تو وہ اسے آگے نقل کرنے سےمکمل گُریز فرماتے اور اس کا مقصد نبی کریم ﷺکی طرف احادیث کی نسبت کرنے میں کمال درجے کا احتیاط تھا، اسی طرح ان کے اخلاص واہتمام کا یہ عالَم تھا کہ جب طلبۂ عزیز حدیثِ پاک کے درس کے لیے ان کے پاس حاضر ہوتے تو حضرت امام مالک اس موقع پرغسل فرماتے، خوشبو لگاتے، اپنا سب سے عمدہ اور قیمتی لباس زیبِ تَن فرماتے، پھر جب درسِ حدیث کے لیے درسگاہ آتے تو اُن پر خشوع و خضوع کے آثار نُمایاں نظر آتے، اور یہ فرماتے کہ مجھے یہ پسند ہے کہ میں رسول اللہ ﷺکی اَحادیث کا مکمل احترام اورپوری تعظیم کروں، اور یہ بھی فرماتے کہ مجھے یہ بات ہرگز پسند نہیں کہ اللہ کسی بندے کو اپنی نعمتوں سے نوازے، پھراس پر ان نعمتوں کا کوئی اثر نظر نہ آئے، بالخصوص اہل علم پر، یعنی علماء میں علمی شان ضرور نظر آنی چاہیے اور ایسا انہوں نے علم کی تعظیم و تکریم کے لیے فرمایا. علاوہ اَزیں طلبۂ علم کو آپ یہ نصیحت فرمایا کرتے تھے، کہ طالب علم کو باوقار، حلیم الطبع اور خشیتِ الٰہی سے معمور ہونا چاہیے، یہی وجہ تھی کہ امام مالک رحمہ اللہ کی مجالس علم و حکمت سےمزیّن ہوتیں،سکون و وقار سے آراستہ ہوتیں،اور لا یعنی بحث و مناظرے سے پاک ہوتِیں، إمام مالک رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ حصولِ علم میں بحث و جدال انسان کے دل سے علم کا نور ختم کر دیتا ہے، اور سینوں میں نفرتیں اور کدورتیں بھر دیتا ہے. اسی طرح آپ اپنے تلامذہ کو بتلاتے کہ جہاں نبی کریم ﷺکی اَحادیثِ مُبارکہ بيان كى جا رہى ہو وہاں اونچی آواز سے بات کرنے والا ایسا ہے کہ گویا اس نے رسولِ پاک ﷺکی آواز مبارک پر اپنی آواز بلند کی ہو. پھر طلبۂ عزیز کو اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان یاد دِلاتے :﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ﴾، اے ایمان والو ! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے بلند مت کیا کرو.

میرے مؤمن بھائیو! امام مالک رحمہ اللہ اس بات کو بخوبی جانتے تھے کہ علم اور فتویٰ ایک عظیم امانت ہے، اور وہ اس علمى امانت کو بخوبی نبھاتے اور ہمیشہ اللہ رب العزت کے اس ارشاد کو پیش ِ نظر ركهتے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَخُونُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُوا أَمَانَاتِكُمْ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ﴾،اے ایمان والو ! اللہ اور رسول سے بے وفائی نہ کرنا، اور نہ جانتے بوجھتے اپنی امانتوں میں خیانت کے مرتکب ہونا، چنانچہ ایک شخص دور دراز کا سفر کر کے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ایک مسئلہ دریافت کیا، تو امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: لَا أُحْسِنُهَا، میں یہ مسئلہ اچھی طرح نہیں جانتا، (اس لیے بتا نہیں سکتا)، تو وہ سائل کہنے لگا کہ میں بہت دور سے سفر کر کے یہ مسئلہ پوچھنے آپ کے پاس آیا ہوں، تو امام مالک رحمہ اللہ نے پھر فرمایا، کہ اپنی قوم کو یہی بتانا کہ میں اس مسئلے کی بھرپور آگہی نہیں رکھتا. تو میرے بھائیو! ذرا غور فرمائیں کہ اپنے وقت کے امام، فقیہِ زمان ایک فتویٰ دینے میں کس قدر امانت داری کا مظاہرہ کر رہے ہیں، اپنی ذمہ داری کس قدر شعور و احساس کے ساتھ نِبھا رہے ہیں، بلکہ آپ کی عادت مبارکہ تو یہ تھی کہ جب کوئی آپ سے مسئلہ پوچھنا چاہتا تو آپ سائل کا سوال سننے سے پہلے:﴿مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ﴾، پڑھتے، یعنی اللہ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے، اللہ کی توفیق کے بغیر کسی میں کوئی طاقت نہیں، اور یہی طرزِ عمل وہ اپنے طلبہ کو سکھاتے کہ وہ مسئلہ بیان کرنے سے پہلے اللہ رب العزت سے توفیق و نصرت طلب کریں.

میرے دوستو! امام مالک رحمہ اللہ نے اپنی ساری زندگی تعلیم و تعلُّم اور اِطاعتِ اِلٰہی میں گزاری، اپنے شب و روز کو اِنہی نیک اعمال کے لیے وقف کر دیا.
جبکہ دوسری جانب لوگوں میں آپ سب سے زیادہ سے زیادہ با اخلاق تھے ہرایک کے ساتھ عمدہ اَخلاق سے پیش آنے والے تھے، اپنے اہل و عیال کے ساتھ نہایت رحیمانہ و شفیقانہ برتاؤ کرنے والے تھے، اور فرماتے کہ ایسا کرنے سے رب تعالیٰ کی رضا حاصل ہوتی ہے، مال میں فراوانی ہوتی ہے، اور عمر میں برکت نصیب ہوتی ہے، اور جب اُن پر نزع کی کیفیت طاری ہوئی تو کلمۂ شہادت پڑھا اور رب تعالیٰ کا یہ فرمان تلاوت کیا: ﴿لِلَّهِ الْأَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ﴾،سارا اختیار اللہ ہی کا ہے پہلے بھی اور بعد میں بھی، اور یہ کہہ کر اپنی جان، جانِ آفریں کے سپرد کر دی، آپ کی وفات (179ھ) ایک سو اُناسی ہجری کے ماہِ ربیع الاول کے اِنہی ایام میں پیش آئی، آپ کی تدفین جنت البقیع میں نبی کریمﷺکے لختِ جگر حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کے پہلو میں ہوئی اللہ تعالیٰ امام مالک رحمہ اللہ سمیت تمام ائمۂ اربعہ رحمہم اللہ پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے.

میرے بھائیو! امام مالک رحمہ اللہ نے ساری زندگی اپنے وطن ہی میں گزاری، وہیں علم حاصل کیا، وہیں اپنے زمانے کے معتبر اہلِ علم سے استفادہ کیا، پھر وہیں اپنا علم آگے لوگوں تک پہنچایا، وہ اپنی محنت اور جدوجہد کی وجہ سے معروف ہوئے، علمی تحقیق اور احتیاط ان کا امتیاز تھا، علم میں گہرائی اور پُختگی ان کی پہچان تھی، وہ اعتدال اور رواداری کے پیکر تھے، ان کا فقہی دائرۂ کار انتہائی وسیع تھا، اخلاص اور ہیبت ان کی شان تھی، ساتھ ہی وہ تواضع اور خشیت سے بھی مالا مال تھے، علاوہ اَزیں وہ طلبہ کرام کو ایک وصیت فرمایا کرتے تھے،میرے عزیزو آپ بھی اسے غور سے سنیے اور اس پر عمل کیجیے، وہ فرمایا کرتے کہ: ایسے لوگوں کی صحبت اختیار کرو جن کی گفتگو تمہارے علم میں اضافہ کرے، اور جن کے عمل کو دیکھ کر تم فکرِآخرت کی طرف متوجہ ہو جاؤ

تو میرے بھائیو! حضرت امام مالک علیہ الرحمہ کی سیرت کا مطالعہ کریں، ان کے فقہی علوم کو سیکھیں، حصولِ علم کے سلسلے میں ان کے طریقے کو اپنے لیے نمونہ بنائیں، اپنے وطن کے علمی اِداروں سے خوب محنت اور دلجمعی کے ساتھ علم حاصل کریں، جو مزید علم حاصل کرنا چاہے، وہ وطن عزیز کے سرکاری اور رسمی تعلیمی وسائل سے استفادہ کرے، کیونکہ علم ایک امانت ہے، اور اسے صحیح ماخذ سے حاصل کرنے ہی میں اَمان ہے. باری تعالٰی ہم سب کو علمِ نافع اور عملِ صالح کی توفیق عطا فرمائے ۔.

هَذَا وَصَلِّ اللَّهُمَّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا وَنَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ، وَارْضَ اللَّهُمَّ عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ وَعَلِيٍّ، وَعَنْ سَائِرِ الصَّحَابَةِ الْأَكْرَمِينَ.

اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ جَوَامِعَ الْخَيْرِ، وَمَعَاقِدَ الْبِرِّ، وَخَزَائِنَ فَضْلِكَ، وَسَعَةَ عَفْوِكَ.

اللَّهُمَّ أَدِمْ عَلَى دَوْلَةِ الْإِمَارَاتِ عِزَّهَا وَنَصْرَهَا، وَاسْتِقْرَارَهَا وَازْدِهَارَهَا، وَخَيْرَهَا وَرَخَاءَهَا.

اللَّهُمَّ احْفَظِ الشّيخ مُحَمَّد بْن زَايد رَئِيسَ الدَّوْلَةِ بِحِفْظِكَ، وَكُنْ لَهُ عَوْنًا وَسَنَدًا، وَبَارِكْ فِي عُمْرِهِ وَعَمَلِهِ، اللَّهُمَّ وَفِّقْهُ وَنُوَّابَهُ وَإِخْوَانَهُ حُكَّامَ الْإِمَارَاتِ، وَوَلِيَّ عَهْدِهِ الْأَمِينَ؛ لِمَا تُحِبُّهُ وَتَرْضَاهُ.

اللَّهُمَّ ارْحَمِ الشّيخ زَايد، وَالشّيخ رَاشِد، وَشُيُوخَ الْإِمَارَاتِ الَّذِينَ انْتَقَلُوا إِلَى رَحْمَتِكَ، وَأَدْخِلْهُمْ بِفَضْلِكَ فَسِيحَ جَنَّاتِكَ.

اللَّهُمَّ اشْمَلْ شُهَدَاءَ الْوَطَنِ بِرَحْمَتِكَ وَغُفْرَانِكَ.

اللَّهُمَّ ارْحَمِ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ: الْأَحْيَاءَ مِنْهُمْ وَالْأَمْوَاتَ. برحمتك يا ارحم الراحمين

والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ابهى آپ حضرات كے سامنے متحده عرب امارا ت كے خطبۂ جمعہ كا اردو ترجَمہ پيش كيا گیا
FRIDAY UAE KHUTBA 21-08-2026* 🎙️🇦🇪

*مالك بن أنس رحمه الله*

*Malik bin Anas*

First Sermon:

All praise is due to Allah, Lord of the earth and the heavens, who has made the scholars the inheritors of the prophets. We bear witness that there is no god but Allah, and we bear witness that our Prophet Muhammad is the servant of Allah and His Messenger. May the peace, and blessings of Allah be upon him, his family, his companions, and those who follow them.

To proceed: I advise you, o servants of Allah, and myself to have taqwa of Allah. Allah, the Exalted, says: ﴿وَاتَّقُوا اللَّهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللَّهُ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ﴾

And fear Allah. And Allah teaches you. And Allah is Knowing of all things (Al-Baqarah: 282).

O believers: In the month of Rabi' al-Awwal, the gentle breezes of the remembrance of the birth of our Prophet Muhammad (peace and blessings be upon him) blow upon us. With this, his love increases in our hearts, his biography lives on in our souls, and the emulation of his guidance grows within us, acting in accordance with the words of Allah the Almighty:

﴿لِتُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُ وَتُسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا﴾

That you may believe in Allah and His Messenger and honor him and respect the Prophet and exalt Allah morning and afternoon (Al-Fath: 9).

And part of the sincerity of loving him and the excellence of caring for his guidance (peace and blessings be upon him) is to recognize the status of those noble scholars who dedicated their lives to serving his Hadith (peace and blessings be upon him). Among their most prominent figures is Imam Malik bin Anas, may Allah have mercy on him, the scholar of Al-Madinah Al-Munawwarah, who filled the earth with knowledge, and whose school of thought (Madhhab) spread in the East and the West, until it was said: When the scholars are mentioned, Malik is the star.

He was born in Al-Madinah Al-Munawwarah and grew up in a household that was a wellspring of knowledge and a destination for those seeking Prophetic guidance. His grandfather was among the scholars of the Tabi'in (the generation following the Companions), and his father and both his uncles were Hadith scholars. As for his mother, she was a prudent and wise woman who valued knowledge and recognized its people. When Malik came to her as a young boy, seeking her permission to pursue knowledge, she said to him, Come, put on the clothes of knowledge. She dressed him in his finest garments and then said, Go now, and record knowledge. She directed him to its pure wellspring and its trusted source, Rabi'ah bin Abi 'Abdul-Rahman, who was among the most learned people of his time, and she told him, Learn from his manners before his knowledge. تَعَلَّمْ مِنْ أَدَبِهِ قَبْلَ عِلْمِهِ

Through this, his character was refined, his understanding progressed, and he dedicated himself to seeking the Hadith of the Messenger of Allah (peace and blessings be upon him) from his early youth, exerting his utmost effort in that path and upholding the high status of his teacher.

He (may Allah have mercy on him) said: I used to come to Nafi' at midday, with no trees to shade me from the sun, until he came out. When he emerged, I would leave him for a while, then greet him and ask him: 'What did Ibn Umar say about such-and-such?' And he would answer me.

Sincerity in seeking knowledge had filled his heart, and so his efforts were blessed, and he began issuing fatwas at the age of twenty-one, after seventy scholars of his time had attested to his qualifications, and students of knowledge sought him out from all horizons.

O servants of Allah: Imam Malik (may Allah have mercy on him) used to revere the Hadith of the Messenger of Allah (peace and blessings be upon him) with the utmost reverence, and he would exercise extreme precision in transmitting it. Thus, if he doubted a Hadith, he would discard it entirely, out of his eagerness for the accuracy of transmission from the Messenger of Allah (peace and blessings be upon him).
When students of Hadith came to him, he would go in, bathe, apply perfume, and wear his finest clothes, then he would come out to them with a sense of humility (Khushu'), saying, I love to honor the Hadith of the Messenger of Allah (peace and blessings be upon him). He used to say: I do not love for anyone whom Allah has blessed, except that the effect of His blessing be seen upon him, especially the people of knowledge, in honor of knowledge.

Among his pieces of advice to students of knowledge is his saying: It is incumbent upon one who seeks knowledge to possess dignity, tranquillity, and fear (of Allah).

His assembly was one of dignity and knowledge, free from disputation, for he was the one who said: Disputation in knowledge removes the light of knowledge from the heart of the servant and breeds resentment. He used to say to his students: Whoever raises his voice while the Hadith of the Messenger of Allah is being recited is as if he has raised his voice above the voice of the Messenger of Allah (peace and blessings be upon him). He would remind them of the words of their Lord:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ﴾

O you who have believed, do not raise your voices above the voice of the Prophet (Al-Hujurat: 2),

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ﴾

O you who have believed, obey Allah and obey the Messenger and those in authority among you (An-Nisa': 59).

I say this, and I seek forgiveness from Allah for myself and for you, so seek His forgiveness.

Second Sermon:

All praise is due to Allah alone, and may peace and blessings be upon our Prophet Muhammad, after whom there is no prophet.

To proceed: O believers, Imam Malik (may Allah have mercy on him) realized that knowledge and issuing fatwas (legal rulings) are a trust, and he acted according to the saying of the Almighty:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَخُونُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُوا أَمَانَاتِكُمْ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ﴾

O you who have believed, do not betray Allah and the Messenger or betray your trusts while you know [the consequence] (Al-Anfal: 27).

A man asked him about a matter, and he said, I do not know it. The man said, I have travelled to you from a distant land. He replied, Then inform your people that I do not know it. So, contemplate his integrity in issuing fatwas and his deep sense of responsibility regarding them. Reflect also on how he taught his students to seek help from Allah; for if he was asked about a matter, he would say before even hearing the question: What Allah wills; there is no power except by Allah. ﴿مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ﴾

He lived his entire life preoccupied with knowledge and the obedience of his Lord, filling both his day and night with them.

He was among the best of people in character toward his family and children, and he used to say: In that lies the pleasure of your Lord, an increase in your wealth, and an extension of your lifespan.

When death approached him, he testified to the Oneness of Allah (recited the Shahadah) and then said: To Allah belongs the command before and after (Ar-Rum: 4). ﴿لِلَّهِ الْأَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ﴾

He passed away in Al-Madinah Al-Munawwara in these very days of the month of Rabi' al-Awwal in the year 179 AH, and he was buried in Al-Baqi' next to Ibrahim, the son of the Prophet (peace and blessings be upon him). May Allah grant him, and all the other four Imams, vast mercy.

He lived and studied in his homeland, took knowledge from trustworthy sources in his time, and benefited people with his knowledge. He was known for his diligence and hard work, his careful verification and exactitude in knowledge, his moderation and tolerance, the breadth of his jurisprudence, his sincerity, his dignity, his humility, and his fear of Allah. So, take hold, O servant of Allah, of his advice, as he says: It is upon you to sit with the one whose words increase your knowledge and whose actions invite you to the state of the Hereafter.
Read his biography, learn his jurisprudence, emulate his guidance, and strive diligently to seek knowledge from the institutions of the homeland.

And whoever wishes to seek more, let him follow its official channels, for knowledge is a trust, and verifying its source is safety.

O Allah, send prayers, peace, and blessings upon our Prophet Muhammad, and upon all his family and companions. And be pleased, O Allah, with Abu Bakr, Umar, Uthman, and Ali, and with all the noble Companions

O Allah, we ask You for comprehensive goodness, the sources of righteousness, the treasures of Your bounty, and the vastness of Your forgiveness.

O Allah, perpetuate for the State of the UAE its glory, victory, stability, prosperity, goodness, and affluence.

O Allah, protect Sheikh Mohamed bin Zayed, the President of the State, be for him a helper and a supporter, and bless his life and his deeds.

O Allah, grant success to him, his Vice-Presidents, his brothers the Rulers of the Emirates, and his trustworthy Crown Prince, in what You love and are pleased with.

O Allah, have mercy on Sheikh Zayed, Sheikh Rashid, and the Sheikhs of the Emirates who have passed on to Your mercy, and admit them by Your grace into Your spacious gardens.

O Allah, encompass the martyrs of the homeland with Your mercy and forgiveness.

O Allah, have mercy on the Muslim men and Muslim women: the living among them and the dead.

Servants of Allah: Remember Allah, the Supreme and Majestic, and He will remember you, and thank Him for His blessings, and He will increase you. And establish the prayer.
യുഎഇ വെള്ളിയാഴ്ച ഖുത്ബ 21-08-2026 🎙️🇦🇪

മാലിക് ബിൻ അനസ് رحمه الله
مالك بن أنس رحمه الله

ആദ്യ ഖുത്ബ

ഭൂമിയുടെയും ആകാശങ്ങളുടെയും രക്ഷിതാവായ അല്ലാഹുവിനാണ് എല്ലാ സ്തുതിയും. പണ്ഡിതന്മാരെ പ്രവാചകന്മാരുടെ അനന്തരാവകാശികളാക്കിയവനാണ് അവൻ. അല്ലാഹുവല്ലാതെ ആരാധനയ്ക്ക് അർഹനായ മറ്റാരുമില്ലെന്ന് ഞങ്ങൾ സാക്ഷ്യം വഹിക്കുന്നു. നമ്മുടെ പ്രവാചകനായ മുഹമ്മദ് ﷺ അല്ലാഹുവിന്റെ ദാസനും ദൂതനുമാണെന്നും ഞങ്ങൾ സാക്ഷ്യം വഹിക്കുന്നു. അദ്ദേഹത്തിനും കുടുംബത്തിനും സ്വഹാബികൾക്കും അവരെ പിന്തുടരുന്ന എല്ലാവർക്കും അല്ലാഹുവിന്റെ സമാധാനവും അനുഗ്രഹവും ഉണ്ടാകട്ടെ.

ഇനി പറയാനുള്ളത്:

അല്ലാഹുവിന്റെ ദാസന്മാരേ, നിങ്ങളെയും എന്നെയും ഞാൻ അല്ലാഹുവിനെ സൂക്ഷിക്കാൻ ഉപദേശിക്കുന്നു.

അല്ലാഹു പറയുന്നു:

﴿وَاتَّقُوا اللَّهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللَّهُ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ﴾

“അല്ലാഹുവിനെ സൂക്ഷിക്കുക. അല്ലാഹു നിങ്ങളെ പഠിപ്പിക്കുന്നു. അല്ലാഹു എല്ലാ കാര്യങ്ങളെക്കുറിച്ചും അറിവുള്ളവനാകുന്നു.” (അൽ ബഖറ 2:282)

വിശ്വാസികളേ,

റബീഉൽ അവ്വൽ മാസത്തിൽ നമ്മുടെ പ്രവാചകനായ മുഹമ്മദ് ﷺ യുടെ ജനനത്തിന്റെ ഓർമ്മകൾ നമ്മുടെ ഹൃദയങ്ങളിൽ വീണ്ടും പുതുമയേകുന്നു. അതോടൊപ്പം അദ്ദേഹത്തോടുള്ള സ്നേഹം നമ്മുടെ ഹൃദയങ്ങളിൽ വർധിക്കുകയും, അദ്ദേഹത്തിന്റെ സീറത്ത് നമ്മുടെ ആത്മാക്കളിൽ ജീവിക്കുകയും, അദ്ദേഹത്തിന്റെ മാർഗ്ഗനിർദ്ദേശം പിന്തുടരാനുള്ള നമ്മുടെ ആഗ്രഹം ശക്തിപ്പെടുകയും ചെയ്യുന്നു.

അല്ലാഹു പറയുന്നു:

﴿لِتُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُ وَتُسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا﴾

“നിങ്ങൾ അല്ലാഹുവിലും അവന്റെ ദൂതനിലും വിശ്വസിക്കുകയും, അദ്ദേഹത്തെ സഹായിക്കുകയും ആദരിക്കുകയും, രാവിലെയും വൈകുന്നേരവും അല്ലാഹുവിനെ മഹത്വപ്പെടുത്തുകയും ചെയ്യുന്നതിനുവേണ്ടി.” (അൽ ഫത്ഹ് 48:9)

പ്രവാചകൻ ﷺ യോടുള്ള സ്നേഹത്തിന്റെ ആത്മാർത്ഥതയും അദ്ദേഹത്തിന്റെ മാർഗ്ഗനിർദ്ദേശത്തോടുള്ള നമ്മുടെ കരുതലും പ്രകടമാക്കുന്നതിന്റെ ഭാഗമാണ് അദ്ദേഹത്തിന്റെ ഹദീസുകൾ സംരക്ഷിക്കുന്നതിനായി ജീവിതം സമർപ്പിച്ച മഹാന്മാരായ പണ്ഡിതന്മാരുടെ സ്ഥാനം മനസ്സിലാക്കുക.

അവരിൽ ഏറ്റവും പ്രമുഖനായ ഒരാളാണ് ഇമാം മാലിക് ബിൻ അനസ് رحمه الله.

മദീനത്തുൽ മുനവ്വറയിലെ മഹാപണ്ഡിതൻ.

അദ്ദേഹത്തിന്റെ അറിവ് ലോകമെങ്ങും വ്യാപിച്ചു.

അദ്ദേഹത്തിന്റെ മദ്ഹബ് കിഴക്കും പടിഞ്ഞാറും വ്യാപിച്ചു.

പണ്ഡിതന്മാരെക്കുറിച്ച് പറയുമ്പോൾ:

“മാലിക് ഒരു നക്ഷത്രമാണ്” എന്ന് പറയപ്പെടുമായിരുന്നു.

മദീനത്തുൽ മുനവ്വറയിലാണ് അദ്ദേഹം ജനിച്ചതും വളർന്നതും.

അറിവിന്റെ ഉറവിടവും പ്രവാചക മാർഗ്ഗനിർദ്ദേശം തേടുന്നവരുടെ കേന്ദ്രവുമായ ഒരു കുടുംബത്തിലായിരുന്നു അദ്ദേഹത്തിന്റെ വളർച്ച.

അദ്ദേഹത്തിന്റെ പിതാമഹൻ താബിഈൻ തലമുറയിലെ പണ്ഡിതന്മാരിൽ ഒരാളായിരുന്നു.

അദ്ദേഹത്തിന്റെ പിതാവും രണ്ട് അമ്മാവന്മാരും ഹദീസ് പണ്ഡിതന്മാരായിരുന്നു.

അദ്ദേഹത്തിന്റെ മാതാവ് ബുദ്ധിമതിയും വിവേകശാലിയുമായ സ്ത്രീയായിരുന്നു. അറിവിന്റെ മഹത്വവും പണ്ഡിതന്മാരുടെ സ്ഥാനവും അവർ മനസ്സിലാക്കിയിരുന്നു.

ചെറുപ്പത്തിൽ മാലിക് അറിവ് തേടാൻ അനുവാദം ചോദിച്ച് മാതാവിന്റെ അടുത്തെത്തിയപ്പോൾ അവർ പറഞ്ഞു:

“വരൂ, അറിവിന്റെ വസ്ത്രം ധരിക്കൂ.”

അവർ അദ്ദേഹത്തെ ഏറ്റവും നല്ല വസ്ത്രം ധരിപ്പിച്ചു.

ശേഷം പറഞ്ഞു:

“ഇനി പോകൂ, അറിവ് രേഖപ്പെടുത്തൂ.”

അറിവിന്റെ ശുദ്ധമായ ഉറവിടത്തിലേക്കാണ് അവർ അദ്ദേഹത്തെ നയിച്ചത് — റബീഅ ബിൻ അബ്ദുറഹ്മാൻ എന്ന മഹാപണ്ഡിതന്റെ അടുത്തേക്ക്.

അദ്ദേഹത്തോട് പഠിക്കുമ്പോൾ മാതാവ് മാലിക്കിനോട് പറഞ്ഞു:

تَعَلَّمْ مِنْ أَدَبِهِ قَبْلَ عِلْمِهِ

“അദ്ദേഹത്തിന്റെ അറിവിന് മുമ്പ് അദ്ദേഹത്തിന്റെ സ്വഭാവവും മര്യാദയും പഠിക്കുക.”

ഇതിലൂടെ അദ്ദേഹത്തിന്റെ സ്വഭാവം ശുദ്ധീകരിക്കപ്പെട്ടു.

അറിവ് വളർന്നു.

ചെറുപ്പം മുതലേ അദ്ദേഹം നബി ﷺ യുടെ ഹദീസുകൾ പഠിക്കുന്നതിൽ മുഴുകി.

അതിനായി തന്റെ മുഴുവൻ കഴിവും പരിശ്രമവും വിനിയോഗിച്ചു.

തന്റെ അധ്യാപകരുടെ മഹത്വം അദ്ദേഹം എന്നും കാത്തുസൂക്ഷിച്ചു.

അദ്ദേഹം പറഞ്ഞു:

“ഉച്ചസമയത്ത് ഞാൻ നാഫിഇന്റെ അടുത്തേക്ക് പോകുമായിരുന്നു. എന്നെ സൂര്യനിൽ നിന്ന് സംരക്ഷിക്കാൻ ഒരു മരത്തിന്റെ നിഴൽ പോലും ഉണ്ടായിരുന്നില്ല. അദ്ദേഹം പുറത്തുവരുന്നതുവരെ ഞാൻ കാത്തിരിക്കും. അദ്ദേഹം പുറത്തുവന്നാൽ കുറച്ച് സമയം കാത്തിരുന്ന ശേഷം അദ്ദേഹത്തെ സലാം ചെയ്ത് ചോദിക്കും: ‘ഇബ്നു ഉമർ ഇങ്ങനെ ഒരു കാര്യത്തെക്കുറിച്ച് എന്താണ് പറഞ്ഞത്?’ അദ്ദേഹം എനിക്ക് മറുപടി നൽകും.”

അറിവ് തേടുന്നതിലെ ആത്മാർത്ഥത അദ്ദേഹത്തിന്റെ ഹൃദയം നിറച്ചിരുന്നു.

അതുകൊണ്ട് അദ്ദേഹത്തിന്റെ പരിശ്രമങ്ങളിൽ അല്ലാഹു അനുഗ്രഹം നൽകി.

ഇരുപത്തിയൊന്നാം വയസ്സിൽ അദ്ദേഹം ഫത്‌വ നൽകാൻ തുടങ്ങി.

അദ്ദേഹത്തിന്റെ യോഗ്യതയ്ക്ക് അക്കാലത്തെ എഴുപത് പണ്ഡിതന്മാർ സാക്ഷ്യം വഹിച്ചതിന് ശേഷമായിരുന്നു അത്.

ലോകത്തിന്റെ വിവിധ ഭാഗങ്ങളിൽ നിന്നുള്ള വിദ്യാർത്ഥികൾ അദ്ദേഹത്തെ തേടിയെത്തി.

അല്ലാഹുവിന്റെ ദാസന്മാരേ,
ഇമാം മാലിക് رحمه الله നബി ﷺ യുടെ ഹദീസിനെ അത്യന്തം ആദരവോടെ സമീപിച്ചിരുന്നു.

ഹദീസ് കൈമാറുന്നതിൽ അദ്ദേഹം വളരെ കൃത്യത പുലർത്തി.

ഒരു ഹദീസിന്റെ വിശ്വാസ്യതയെക്കുറിച്ച് അദ്ദേഹത്തിന് സംശയം തോന്നിയാൽ, നബി ﷺ യിൽ നിന്ന് അത് ശരിയായി ഉദ്ധരിക്കപ്പെടണമെന്ന അതിയായ ജാഗ്രതകൊണ്ട് അദ്ദേഹം അത് ഉപേക്ഷിക്കുമായിരുന്നു.

ഹദീസ് പഠിക്കാൻ വിദ്യാർത്ഥികൾ അദ്ദേഹത്തിന്റെ അടുത്തെത്തുമ്പോൾ അദ്ദേഹം അകത്തേക്ക് പോയി കുളിക്കുകയും സുഗന്ധം പുരട്ടുകയും ഏറ്റവും നല്ല വസ്ത്രം ധരിക്കുകയും ചെയ്ത ശേഷം അവരിലേക്ക് ഖുശൂഅോടെയും വിനയത്തോടെയും വരുമായിരുന്നു.

അദ്ദേഹം പറയുമായിരുന്നു:

“നബി ﷺ യുടെ ഹദീസിനെ ആദരിക്കാൻ ഞാൻ ഇഷ്ടപ്പെടുന്നു.”

അദ്ദേഹം മറ്റൊരു സന്ദർഭത്തിൽ പറഞ്ഞു:

“അല്ലാഹു ഒരാൾക്ക് അനുഗ്രഹം നൽകിയിട്ടുണ്ടെങ്കിൽ, പ്രത്യേകിച്ച് അറിവുള്ളവരിൽ, ആ അനുഗ്രഹത്തിന്റെ അടയാളം അവരിൽ കാണപ്പെടുന്നത് ഞാൻ ഇഷ്ടപ്പെടുന്നു; അറിവിനെ ആദരിക്കുന്നതിന്റെ ഭാഗമായാണ് അത്.”

അറിവ് തേടുന്ന വിദ്യാർത്ഥികൾക്ക് അദ്ദേഹം നൽകിയ ഉപദേശങ്ങളിൽ ഒന്നാണ്:

“അറിവ് തേടുന്നവന് മാന്യതയും ശാന്തതയും അല്ലാഹുവിനോടുള്ള ഭയവും ഉണ്ടായിരിക്കണം.”

അദ്ദേഹത്തിന്റെ സദസ്സ് ഗൗരവവും അറിവും നിറഞ്ഞതായിരുന്നു.

വാദപ്രതിവാദങ്ങളിൽ നിന്ന് അത് മുക്തമായിരുന്നു.

അദ്ദേഹം പറഞ്ഞു:

“അറിവിലെ തർക്കം ദാസന്റെ ഹൃദയത്തിൽ നിന്നുള്ള അറിവിന്റെ പ്രകാശം നീക്കം ചെയ്യുകയും വിദ്വേഷം വളർത്തുകയും ചെയ്യുന്നു.”

നബി ﷺ യുടെ ഹദീസ് പാരായണം ചെയ്യുമ്പോൾ ആരെങ്കിലും ശബ്ദം ഉയർത്തിയാൽ അദ്ദേഹം പറയുമായിരുന്നു:

“അത് നബി ﷺ യുടെ ശബ്ദത്തിന് മുകളിൽ ശബ്ദം ഉയർത്തുന്നതുപോലെയാണ്.”

അല്ലാഹുവിന്റെ വചനം അദ്ദേഹം ഓർമ്മിപ്പിക്കുമായിരുന്നു:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ﴾

“വിശ്വസിച്ചവരേ, പ്രവാചകന്റെ ശബ്ദത്തിന് മുകളിൽ നിങ്ങളുടെ ശബ്ദങ്ങൾ ഉയർത്തരുത്.” (അൽ ഹുജുറാത്ത് 49:2)

അല്ലാഹു പറയുന്നു:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ﴾

“വിശ്വസിച്ചവരേ, അല്ലാഹുവിനെയും ദൂതനെയും നിങ്ങളിലെ അധികാരികളെയും അനുസരിക്കൂ.” (അന്നിസാഅ് 4:59)

ഞാൻ പറഞ്ഞ ഈ വാക്കുകളോടെ എനിക്കും നിങ്ങൾക്കും വേണ്ടി അല്ലാഹുവിനോട് പാപമോചനം തേടുന്നു. അതിനാൽ അവനോട് പാപമോചനം തേടുക.



രണ്ടാം ഖുത്ബ

അല്ലാഹുവിനാണ് എല്ലാ സ്തുതിയും.

അവസാന പ്രവാചകനായ നമ്മുടെ മുഹമ്മദ് ﷺ ക്ക് സമാധാനവും അനുഗ്രഹവും ഉണ്ടാകട്ടെ.

വിശ്വാസികളേ,

ഇമാം മാലിക് رحمه الله മനസ്സിലാക്കിയിരുന്നു — അറിവും ഫത്‌വ നൽകുന്നതും ഒരു അമാനത്താണ്.

അല്ലാഹു പറയുന്നു:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَخُونُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُوا أَمَانَاتِكُمْ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ﴾

“വിശ്വസിച്ചവരേ, നിങ്ങൾ അറിഞ്ഞുകൊണ്ട് അല്ലാഹുവിനെയും ദൂതനെയും വഞ്ചിക്കരുത്; നിങ്ങളുടെ അമാനത്തുകളിലും വഞ്ചന കാണിക്കരുത്.” (അൽ അൻഫാൽ 8:27)

ഒരു മനുഷ്യൻ ഇമാം മാലിക്കിനോട് ഒരു വിഷയത്തെക്കുറിച്ച് ചോദിച്ചു.

അദ്ദേഹം പറഞ്ഞു:

“എനിക്കറിയില്ല.”

ആ മനുഷ്യൻ പറഞ്ഞു:

“ഞാൻ ദൂരെയുള്ള ഒരു നാട്ടിൽ നിന്ന് യാത്ര ചെയ്ത് താങ്കളുടെ അടുത്തെത്തിയതാണ്.”

അപ്പോൾ അദ്ദേഹം പറഞ്ഞു:

“എന്നാൽ നിങ്ങളുടെ നാട്ടുകാരോട് ‘മാലിക്കിന് അറിയില്ല’ എന്ന് പറഞ്ഞുകൊടുക്കുക.”

ഫത്‌വ നൽകുന്നതിലെ അദ്ദേഹത്തിന്റെ ആത്മാർത്ഥതയും ഉത്തരവാദിത്തബോധവും എത്ര മഹത്തായതാണ്!

വിദ്യാർത്ഥികളെ അല്ലാഹുവിൽ സഹായം തേടാനും അദ്ദേഹം പഠിപ്പിച്ചു.

ഒരു വിഷയത്തെക്കുറിച്ച് ചോദിക്കപ്പെടുന്നതിന് മുമ്പുതന്നെ അദ്ദേഹം പറയുമായിരുന്നു:

مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ

“അല്ലാഹു ഉദ്ദേശിച്ചതാണ് സംഭവിക്കുക; അല്ലാഹുവല്ലാതെ യാതൊരു ശക്തിയുമില്ല.”

അറിവിലും റബ്ബിന്റെ അനുസരണയിലും മുഴുകിയായിരുന്നു അദ്ദേഹത്തിന്റെ ജീവിതം.

അദ്ദേഹത്തിന്റെ രാവും പകലും അറിവിനും ആരാധനയ്ക്കുമായി സമർപ്പിക്കപ്പെട്ടിരുന്നു.

കുടുംബത്തോടും മക്കളോടും അദ്ദേഹം ഏറ്റവും നല്ല സ്വഭാവത്തോടെയായിരുന്നു പെരുമാറിയിരുന്നത്.

അദ്ദേഹം പറയുമായിരുന്നു:

“ഇതിലാണ് നിങ്ങളുടെ റബ്ബിന്റെ തൃപ്തി, നിങ്ങളുടെ സമ്പത്തിൽ വർധന, നിങ്ങളുടെ ആയുസ്സിൽ ദീർഘീകരണം.”

മരണം അടുത്തപ്പോൾ അദ്ദേഹം തൗഹീദിന്റെ സാക്ഷ്യം ഉച്ചരിച്ച ശേഷം പറഞ്ഞു:

﴿لِلَّهِ الْأَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ﴾

“കാര്യങ്ങളുടെ അധികാരം മുമ്പും ശേഷവും അല്ലാഹുവിനാണ്.” (അർറൂം 30:4)

ഹിജ്റ 179-ാം വർഷം റബീഉൽ അവ്വൽ മാസത്തിലെ ഈ ദിവസങ്ങളിൽ തന്നെ അദ്ദേഹം മദീനത്തുൽ മുനവ്വറയിൽ മരണപ്പെട്ടു.

പ്രവാചകൻ ﷺ യുടെ മകൻ ഇബ്രാഹീമിന്റെ സമീപത്തുള്ള ജന്നത്തുൽ ബഖീഅിൽ അദ്ദേഹത്തെ സംസ്കരിച്ചു.

അല്ലാഹു അദ്ദേഹത്തിനും മറ്റു നാല് ഇമാമുകൾക്കും വിശാലമായ കരുണ നൽകട്ടെ.

അദ്ദേഹം തന്റെ നാട്ടിൽ ജീവിക്കുകയും പഠിക്കുകയും ചെയ്തു.

അക്കാലത്തെ വിശ്വസ്തരായ പണ്ഡിതന്മാരിൽ നിന്ന് അറിവ് സ്വീകരിക്കുകയും തന്റെ അറിവിലൂടെ ജനങ്ങൾക്ക് പ്രയോജനം നൽകുകയും ചെയ്തു.
പരിശ്രമം, കൃത്യത, അറിവ് പരിശോധിക്കുന്നതിലെ സൂക്ഷ്മത, മിതത്വം, സഹിഷ്ണുത, വിശാലമായ ഫിഖ്ഹ് പരിജ്ഞാനം, ആത്മാർത്ഥത, മാന്യത, വിനയം, അല്ലാഹുവിനോടുള്ള ഭയം എന്നിവയാൽ അദ്ദേഹം അറിയപ്പെട്ടു.

അല്ലാഹുവിന്റെ ദാസന്മാരേ,

അദ്ദേഹത്തിന്റെ ഉപദേശം സ്വീകരിക്കുക.

അദ്ദേഹം പറഞ്ഞു:

“നിന്റെ അറിവ് വർധിപ്പിക്കുന്ന വാക്കുകളും പരലോകത്തെ ഓർമ്മിപ്പിക്കുന്ന പ്രവൃത്തികളും ഉള്ള വ്യക്തിയോടൊപ്പം ഇരിക്കുക.”

അദ്ദേഹത്തിന്റെ ജീവചരിത്രം വായിക്കുക.

അദ്ദേഹത്തിന്റെ ഫിഖ്ഹ് പഠിക്കുക.

അദ്ദേഹത്തിന്റെ മാർഗ്ഗനിർദ്ദേശം പിന്തുടരുക.

നിങ്ങളുടെ രാജ്യത്തെ വിശ്വസനീയമായ സ്ഥാപനങ്ങളിൽ നിന്ന് അറിവ് നേടാൻ ആത്മാർത്ഥമായി പരിശ്രമിക്കുക.

കൂടുതൽ അറിവ് തേടുന്നവർ ഔദ്യോഗിക മാർഗങ്ങളെയും ഉറവിടങ്ങളെയും പിന്തുടരട്ടെ.

കാരണം അറിവ് ഒരു അമാനത്താണ്; അതിന്റെ ഉറവിടം പരിശോധിക്കുന്നത് സുരക്ഷയാണ്.

അല്ലാഹുവേ,

നമ്മുടെ പ്രവാചകനായ മുഹമ്മദ് ﷺ ക്കും കുടുംബത്തിനും എല്ലാ സ്വഹാബികൾക്കും സ്വലാത്തും സലാമും അനുഗ്രഹവും നൽകണമേ.

അബൂബക്കർ, ഉമർ, ഉസ്മാൻ, അലി (റ) എന്നിവരോടും എല്ലാ മഹത്തായ സ്വഹാബികളോടും നീ തൃപ്തനാകണമേ.

അല്ലാഹുവേ,

സമഗ്രമായ എല്ലാ നന്മകളും, സൽകർമ്മങ്ങളുടെ ഉറവിടങ്ങളും, നിന്റെ അനുഗ്രഹങ്ങളുടെ നിധികളും, നിന്റെ വിശാലമായ പാപമോചനവും ഞങ്ങൾ നിനക്കോട് ചോദിക്കുന്നു.

അല്ലാഹുവേ,

യു.എ.ഇ.യുടെ മഹത്വവും വിജയവും സുരക്ഷയും സ്ഥിരതയും സമൃദ്ധിയും നന്മയും ക്ഷേമവും എന്നും നിലനിർത്തണമേ.

അല്ലാഹുവേ,

രാഷ്ട്രപതിയായ ശൈഖ് മുഹമ്മദ് ബിൻ സായിദിനെ സംരക്ഷിക്കണമേ.

അദ്ദേഹത്തിന് സഹായിയും പിന്തുണയും ആയിരിക്കണമേ.

അദ്ദേഹത്തിന്റെ ജീവിതത്തിലും പ്രവർത്തനങ്ങളിലും അനുഗ്രഹം നൽകണമേ.

അദ്ദേഹത്തിനും ഉപരാഷ്ട്രപതിമാർക്കും എമിറേറ്റുകളുടെ ഭരണാധികാരികളായ സഹോദരന്മാർക്കും വിശ്വസ്തനായ കിരീടാവകാശിക്കും നീ ഇഷ്ടപ്പെടുന്നതും പ്രസാദിക്കുന്നതുമായ കാര്യങ്ങളിൽ വിജയം നൽകണമേ.

അല്ലാഹുവേ,

ശൈഖ് സായിദിനും ശൈഖ് റാഷിദിനും നിന്റെ കരുണയിലേക്ക് മടങ്ങിപ്പോയ എമിറേറ്റുകളിലെ എല്ലാ ശൈഖുമാർക്കും കരുണ നൽകണമേ.

നിന്റെ അനുഗ്രഹത്താൽ അവരെ വിശാലമായ സ്വർഗ്ഗോദ്യാനങ്ങളിൽ പ്രവേശിപ്പിക്കണമേ.

അല്ലാഹുവേ,

നമ്മുടെ രാജ്യത്തിന്റെ ശഹീദുമാരെ നിന്റെ കരുണയാലും പൊറുപ്പാലും പൊതിയണമേ.

അല്ലാഹുവേ,

ജീവിച്ചിരിക്കുന്നവരും മരണപ്പെട്ടവരുമായ എല്ലാ മുസ്ലിം പുരുഷന്മാർക്കും സ്ത്രീകൾക്കും കരുണ നൽകണമേ.

അല്ലാഹുവിന്റെ ദാസന്മാരേ,

അല്ലാഹുവിനെ സ്മരിക്കൂ; അവൻ നിങ്ങളെ സ്മരിക്കും.

അവന്റെ അനുഗ്രഹങ്ങൾക്ക് നന്ദി പറയൂ; അവൻ നിങ്ങളെ കൂടുതൽ അനുഗ്രഹിക്കും.

നമസ്കാരം സ്ഥാപിക്കുവിൻ.
*FRIDAY UAE KHUTBA 28-08-2026* 🎙️🇦🇪

المولد النبوي

*The Prophet's birth*
FRIDAY UAE KHUTBA 28-08-2026 🎙️🇦🇪
المولد النبوي
The Prophet's birth الخطبة الأولى:
الحمد لله الذي أرسل رسوله بالهدى والنور المبين، وجعل مولده رحمة للعالمين، ونشهد أن لا إله إلا الله، ونشهد أن سيدنا ونبينا محمدا رسول الله، صلى الله وسلم وبارك عليه وعلى آله وصحبه ومن والاه.
أما بعد: فأوصيكم عباد الله ونفسي بتقوى الله، قال جل في علاه: ﴿يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله وآمنوا برسوله يؤتكم كفلين من رحمته ويجعل لكم نورا تمشون به ويغفر لكم والله غفور رحيم﴾.
أيها المؤمنون: في ليلة مباركة من ليالي شهر ربيع الأول، أشرق على الدنيا أعظم مواليدها، وأسعد أهلها؛ ولد الذي تتابعت البشارات به، وطال انتظار الأمم له، إنه دعوة أبيه إبراهيم عليه السلام إذ قال: ﴿ربنا وابعث فيهم رسولا منهم﴾ وهو بشارة أخيه عيسى ابن مريم عليه السلام، إذ قال الله تعالى على لسانه: ﴿ومبشرا برسول يأتي من بعدي اسمه أحمد﴾. وها هي ذكرى مولده ﷺ تعود إلينا عطرة ندية؛ فنفتح صفحات سيرته فتفوح أريجا، ونتأمل شمائله فتزداد القلوب له حبا وتعظيما، ولد ﷺ يتيما، فرعته أمه، وكفله جده، وسماه محمدا، وقال: أردت أن يحمده الله تعالى في السماء، وخلقه في الأرض، وصدق والله هذا الرجاء؛ فما عرفت البشرية رجلا حمدت سيرته، وعلا قدره، وطاب ذكره، وتعلقت القلوب به؛ كمحمد ﷺ؛ صدق فيه قول ربه: ﴿ورفعنا لك ذكرك﴾، أجل؛ رفع الله ذكره، وأثنى عليه في كتابه، فهو ﷺ أزكى البشر نفسا، وأرحمهم قلبا، وأصدقهم لسانا، وأرجحهم عقلا، وأكرمهم خلقا، وأنداهم يدا، وأعظمهم وفاء، وأنقاهم سريرة، وأكرمهم عشرة، سمحا كريما، عطوفا رحيما، وحسبه أن زكى ربه خلقه فقال: ﴿وإنك لعلى خلق عظيم﴾ بأبي هو وأمي ﷺ، وصفته أم معبد فقالت: رأيت رجلا ظاهر الوضاءة، منير الوجه، حسن الخلقة، عريض الجبين، واسع العينين، حسن الحاجبين، إن صمت علاه الوقار، وإن تكلم علاه البهاء، أجمل الناس من بعيد، وأحسنهم من قريب، حلو المنطق، واضح الكلام، كأن كلماته لآلئ منظومة تتحدر، نعم، كان ﷺ إذا تكلم رئي كالنور يخرج من بين ثناياه، وإذا تبسم كأن القمر يتلألأ في محياه، رآه جابر بن سمرة رضي الله عنه في ليلة مقمرة، فقال: جعلت أنظر إلى رسول الله ﷺ وإلى القمر ... فإذا هو عندي أحسن من القمر، بأبي هو وأمي ﷺ، كان ينتشر الطيب من فوح طيبه ﷺ، قال أنس رضي الله عنه: ما مسست حريرا ولا ديباجا ألين من كف النبي ﷺ، ولا شممت ريحا قط أو عرفا قط -أي: طيبا- أطيب من ريح أو عرف النبي ﷺ. يقول من يصفه: لم أر قبله ولا بعده مثله ﷺ. فصلوات ربي وسلامه عليك يا رسول الله، يا من بعثك ربي بأعظم رسالة إلى خلقه، فجئت بالكمال من كل فضيلة، وبالجمال من كل شيمة، فكنت والله نورا أضاء الله بك دروب البشرية، وهذب بك النفوس السوية، وأخرج بك ﴿الناس من الظلمات إلى النور﴾،
فاللهم صل وسلم وبارك عليك يا حبيبي يا رسول الله، وعلى آلك الأطهار، وصحابتك الأبرار، ما تعاقب الليل والنهار.
﴿يا أيها الذين آمنوا أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولي الأمر منكم﴾.
أقول قولي هذا وأستغفر الله لي ولكم، فاستغفروه.
الخطبة الثانية:
الحمد لله وحده، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده.
أما بعد: فيا أيها المؤمنون: تطل علينا ذكرى ميلاد نبينا ﷺ؛ متزامنة مع إشراقة عام دراسي جديد، فنسأل الله لأبنائنا التوفيق والتأييد، ونذكرهم بأن أول نور أضاء به الوحي في غار حراء كان قول الله تعالى: ﴿اقرأ﴾؛ فكانت مولدا للعلم والقراءة؛ فاقرؤوا لتعلموا، وتعلموا لترتقوا، وارتقوا لتبنوا أنفسكم وأوطانكم.
وأنتم أيها الآباء: اعلموا أن أبناءكم أمانة؛ فكونوا لهم سندا، واصطحبوهم في أول يوم، وازرعوا فيهم حب العلم، وتابعوا تحصيلهم وشجعوهم، فكلمة ثناء قد تفتح في النفس بابا إلى النجاح.
ويا أيها المعلمون والمعلمات: بين أيديكم عقول تتشكل، ونفوس تتأثر، ومستقبل يبنى؛ فعلموا بمحبة، ووجهوا بحكمة، وكونوا لطلابكم قدوة؛ فما أسعد من فاز منكم ببشرى رسول الله ﷺ القائل: «إن الله وملائكته وأهل السموات والأرضين حتى النملة في جحرها وحتى الحوت ليصلون على معلم الناس الخير».
هذا وصل اللهم وسلم وبارك على سيدنا ونبينا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين، وارض اللهم عن أبي بكر وعمر وعثمان وعلي، وعن سائر الصحابة الأكرمين.
اللهم إنا نسألك الخير كله، ما علمنا منه وما لم نعلم، ونعوذ بك من الشر كله، ما علمنا منه وما لم نعلم.
اللهم احفظ أبناءنا في الخدمة الوطنية، وضاعف أجرهم، وسدد خطاهم، وبارك في جهودهم، واجعلهم عزا لوطنهم، وفخرا لأهلهم، يا رب العالمين.
اللهم أدم على دولة الإمارات عزها ونصرها، واستقرارها وازدهارها، وخيرها ورخاءها.
اللهم احفظ الشيخ محمد بن زايد رئيس الدولة بحفظك، وكن له عونا وسندا، وبارك في عمره وعمله، اللهم وفقه ونوابه وإخوانه حكام الإمارات، وولي عهده الأمين؛ لما تحبه وترضاه.
اللهم ارحم الشيخ زايد، والشيخ راشد، وشيوخ الإمارات الذين انتقلوا إلى رحمتك، وأدخلهم بفضلك فسيح جناتك.
اللهم اشمل شهداء الوطن برحمتك وغفرانك. اللهم ارحم المسلمين والمسلمات: الأحياء منهم والأموات.
عباد الله: اذكروا الله العظيم الجليل يذكركم، واشكروه على نعمه يزدكم. وأقم الصلاة.
FRIDAY UAE KHUTBA 28-08-2026 🎙️🇦🇪
المولد النبوي
The Prophet's birth
الْخُطْبَةُ الْأُولَى: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَالنُّورِ الْمُبِينِ، وَجَعَلَ مَوْلِدَهُ رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ، وَنَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَنَشْهَدُ أَنَّ سَيِّدَنَا وَنَبِيَّنَا مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ وَسَلَّمَ وَبَارَكَ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَمَنْ وَالَاهُ.
أَمَّا بَعْدُ: فَأُوصِيكُمْ عِبَادَ اللَّهِ وَنَفْسِي بِتَقْوَى اللَّهِ، قَالَ جَلَّ فِي عُلَاهُ:﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَآمِنُوا بِرَسُولِهِ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِنْ رَحْمَتِهِ وَيَجْعَلْ لَكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِهِ وَيَغْفِرْ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴾.
برادرانِ اِیمان، میرے عزیز ساتھیو! ماہِ ربیع الاول کی پُر نُور راتوں میں سے ایک مبارک رات تھی، کہ جب رُوئے اَرض پر اُس کی سب سے عظیم ترین ہستی جلوہ اَفروز ہوئی، اُس ذاتِ گرامی کی وِلادت با سعادت ہوئی کہ چَشمِ فَلَک نے کُل کائنات میں اُس سے اَعلی و اَرفع کوئی بَشَر نہ دیکھا تھا، اُس نبیِ مَوعُود کی تشریف آوری ہوئی کہ جس کی مبارک آمد کی پے دَر پے بشارتیں انبیاءِ کرام علیہم السلام کو دی گئیں، جس شمسِ ہدایت کے طلوع ہونے کا انتظار سبھی امتوں کو تھا، یہ وہ رسولِ مبعوث تھے جن کی بعثت کے لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یوں دعا فرمائی : ﴿رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ﴾، اور اے ہمارے پروردگار! ان میں ایک ایسا رسول بھیجنا جو انہی میں سے ہو، یہ وہ رسولِ اَمین تھے کہ جن کی تشریف آوری کی بشارت الله کے نبی حضرت عیسٰی علیہ السلام نے سنائی ُ ، اور یہ بشارت اللہ تعالٰی نے ہی ان کی زبان سےاس طرح جاری فرمائی: ﴿وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ﴾. اور اس رسول کی خوشخبری دینے والا ہوں جو میرے بعد آئے گا جس کا نام احمد ہے.
جی ہاں میرے بھائیو! آمنہ کے دُرِّ یتیم، عبد اللہ کے لختِ جگر، محمدِ مصطفیٰ احمدِ مجتبیﷺ کی ولادت با سعادت کی مبارک تاریخ ایک بار پھر آگئی ہے اور یہ حسین یادگار ہمارے درمیان جلوہ افروز ہوچکی ہے ،بلاشبہ آپ کی آمد کے تذکرہ سے دل و جان تازہ دم ہو جاتے ہیں، کون و مکان مہک جاتے ہیں، آپ کی معطر سیرت کے اوراق کھولیں تو چَہار سُو ان کی عِطر بِیزی سے جُھوم اُٹھتے ہیں، آپ کے خصائلِ حمیدہ
او رعاداتِ مبارکہ میں غور و فکر کریں تو دلوں میں ان کی محبت جوش مارنے لگتی ہے، روح و جان ان کے احترام و تعظیم سے لبریز ہو جاتے ہیں.
میرے ایمانی بھائیو! ہادئ اَعظم، سروَرِ عالَم ﷺ نے یتیمی کی حالت میں دنیا میں آنکھ کھولی آپ کے سر پر باپ کا سایہ نہ تھا، آپ علیہ السلام کی پرورش آپکی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ نے فرمائی، آپ کی کفالت کا سِہرا آپ کے دادا جنابِ عبد المطلب کے سَر سَجا، اور انہوں نے ہی آپ کا نام محمد رکھا، اور یہ فرمایا: : أَرَدْتُ أَنْ يَحْمَدَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِي السَّمَاءِ، وَخَلْقُهُ فِي الْأَرْضِ، میں نےاپنے پوتے کا نام محمد اس لیے رکھا ہے تاکہ عرش والا آسمانوں میں اس کی تعریف کرے، اور الله کی مخلوق زمین میں اس کی تعریف کرے. تو بخُدا ان کی اس خواہش نے حقیقت کا رُوپ دھارا، اور انسانی تاریخ میں ایسا کوئی بندہ کوئی بشر پیدا نہ ہوا، جس کی سیرت کی ثناء خوانی محمد ﷺکی طرح کی گئی ہو، جس کا مقام و مرتبہ محمد ﷺ کی طرح بلند و بالا ہوا ہو، جس کے پاکیزہ شمائل کو محمدﷺ کی طرح اُجاگر کیا گیا ہو، جس کی محبت و چاہت دلوں میں ایسے پیوَست ہوئی ہو جیسے محمد ﷺ کی محبت پیوست ہوئی ہے . ان کے بارے میں اللہ رب العزت کا یہ فرمان مکمل طور پر صادق آتا ہے: ﴿وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ﴾ اور ہم نےآپ خاطر آپ کے تذکرے کو اونچا مقام عطا کردیا ہے
جی ہاں میرے دوستو! اللہ رب العزت نے آپﷺ کےذِکرِخیرکو قیامت تک کے لیے دوام بخشا آپ کے تذکرہ کو رِفعت عطا فرمائی،اوراپنی کتاب قرآن مجید میں آپ علیہ السلام کی مدح سرائی فرمائی بلاشبہ کائنات کے پاکیزہ ترین بشر محمد ﷺ ہیں، سب سے پاک و صاف دل والے محمدﷺ ہیں، سب سے سچے اور صادق محمدﷺ ہیں، سب سے عاقل و دانا محمد، سب سے عمدہ اَخلاق والے محمد، جُود و سَخا میں اَعلی محمد، رحمدلی میں لا جواب محمد، وفا شعاری کا پیکر محمد، حُسنِ معاشرت میں بے مثال محمد، سخی و فیاض اور نَرم خُو محمد، شفیق و مہربان، رحمتٌ للعالمین محمدﷺ ، آپ علیہ السلام کی پاکیزہ شان اور عمدہ اَخلاق کی گواہی رب تعالیٰ نے دی اور ارشاد فرمایا: ﴿وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ﴾ اور یقینا آپ اخلاق کے اعلی درجے پر ہیں