اسلامک اردو شاعری - Islamic Urdu Poetry
3.76K subscribers
401 photos
468 videos
5 files
470 links
اچھے اشعار کا مطالعہ کیا جائے تو وہ انسان کو بھلائی کے راستے پر لگاتے ہیں لیکن اس کے برعکس اگر لغویہ،محبتوں،محض ذکرِ بُتاں اور تذکرۂ شراب و کباب والے اشعار ہوں تو وہ انسان کو تباہی تک لے جاتے ہیں۔ اردو،عربی،فارسی،پشتو،سندھی اشعار کیلئے چینل سے منسلک ہوں ـ
Download Telegram
اسلامک اردو شاعری - Islamic Urdu Poetry
Photo
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«كَيْفَ بِكَ يَا سُرَاقَةُ إِذَا لَبِسْتَ سِوَارَيْ كِسْرَى؟»

“اے سراقہ! اُس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب تم کسریٰ کے دونوں کنگن پہنو گے؟”

یہ واقعہ ہجرت کے سفر میں پیش آیا، جب سراقہ بن مالکؓ نبی ﷺ کا تعاقب کر رہے تھے۔ بعد میں حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں کسریٰ کے خزانے سے کنگن لائے گئے اور سراقہؓ کو پہنائے گئے، یوں نبی ﷺ کی پیش گوئی پوری ہوئی۔

معانی اور مطلب👇

بڈّھے بلوچ کی نصیحت بیٹے کو
ارمغانِ حجاز

غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دو میں
پہناتی ہے درویش کو تاجِ سرِ دارا

معانی: غیرت: اپنی عزت یا عزت نفس برقرار رکھنے کا جذبہ ۔ جہان تگ و دو: یہ دنیا جہاں زندگی گزارنے کے لیے بڑی دوڑ دھوپ کرنی پڑتی ہے ۔ درویش: خدا سے لو لگائے ہوئے دنیاوی سازوسامان سے بے گانہ شخص ۔ تاج سردارا: دارا کے سر کا تاج، دارا ایران کا ایک بادشاہ گزرا ہے ۔
مطلب: انسان کے لیے اصل سرمایہ دنیا کا سازوسامان اور آرائش و آسائش نہیں بلکہ اپنی عزت اور عزت نفس کو برقرار رکھنا ہے ۔ یہ وہ جذبہ ہے جو خدا مست اور دنیا سے بے نیاز شخص کو دارا کا تاج پہناتی ہے ۔ وہ بوریا نشیں ہو کر بھی تخت نشیں ہوتا ہے اس لیے تو اسے علاقے میں دلی اور بخارا جیسی رونق نہ ہونے کو دیکھ بلکہ یہ دیکھ کہ جو عزت نفس تو یہاں ملحوظ خاطر رکھ سکتا ہے وہ ان شہروں میں نہیں ہے ۔
❤2
Forwarded from 🌹 Islamic Quiz 🌹
2488. قرآن کے مطابق کونسا ایسا گناہ ہے جو اللہ پاک کبھی معاف نہیں کریگا...؟؟؟
Anonymous Quiz
3%
زنا خوری
2%
قتل
91%
شرک
2%
شراب نوشی
1%
ان میں سے کوئی نہیں
1%
رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا
معانی اور مطلب👇

غزل
نالہ ہے بلبلِ شوریدہ ترا خام ابھی

بانگِ دا

بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی

معانی: بے خطر: بے خوف ہو کر ۔ آتشِ نمرود: حضرت ابراہیم کے زمانے کے بادشاہ نمرود کی بھڑکائی ہوئی آگ جس میں آپ کو ڈالا گیا تو وہ حکم خدا سے گلزار بن گئی ۔ عشق: اشارہ ہے حضرت ابراہیم کی طرف جو محبوب حقیقی کے عشق سے سرشار تھے ۔ محو: مصروف، ڈوبی ہوئی ۔ تماشائے لبِ بام: چھت پر نظارہ کرنے کا عالم ۔
مطلب: اس کا ثبوت یہ ہے کہ حضرت ابراہیم عشق الہٰی کے طفیل انجام کی پرو اکیے بغیر نمرود کی آگ میں کود پڑے ۔ اس کے برعکس اگر یہ عمل عقل و دانش تک محدود ہوتا تو وہ پہلے تمام حالات کا احتیاط سے جائزہ لیتے اور فوری عمل سے گریز کرتے ۔
❤4
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
لگتا نہیں ہے دل مرا اُجڑے دیار میں
بہادر شاہ ظفر ؒ
-------------
لگتا نہیں ہے دل مرا اُجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالمِ ناپائدار میں

بُلبُل کو باغباں سے نہ صَیَّاد سے گلہ
قسمت میں قید لکّھی تھی فصلِ بہار میں

کہہ دو اِن حسرتوں سے کہیں اور جا بسیں
اتنی جگہ کہاں ہے دلِ داغدار میں

ایک شاخ گل پہ بیٹھ کے بلبل ہے شادمان
کانٹے بچھا دیے ہیں دل لالہ زار میں

عُمْرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں

دِن زندگی کے ختم ہوئے شام ہو گئی
پھیلا کے پاؤں سوئیں گے کُنجِ مزار میں

کتنا ہے بدنصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
❤3
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
والد کی وفات پر - ندا فاضلی

اپنے والد کی وفات پر کہی گئی ایک بہت ہی جذباتی نظم

تمہاری قبر پر
میں فاتحہ پڑھنے نہیں آیا

مجھے معلوم تھا
تم مر نہیں سکتے

تمہاری موت کی سچی خبر جس نے اڑائی تھی ، وہ جھوٹا تھا
ظریفانہ
بانگِ درا

جان جائے ہاتھ سے جائے نہ ست
ہے یہی اک بات ہر مذہب کا تت
چَٹّے بَٹّے ایک ہی تھیلی کے ہیں
ساہُو کاری، بِسوہ داری، سلطنت

ست: سچ یا صداقت۔
تَت: نچوڑ یا اصل حقیقت
چٹے بٹے ایک ہی تھیلی کے ہیں: سب ایک ہی قماش اور فطرت کے حامل ہیں
۔اہُو کاری، بِسوہ داری، سلطنت: سود خور (ساہوکار)، زمیندار/جاگیردار (بسوہ دار)، اور حکمران طبقہ (سلطنت)۔

ترجمہ: انسانی جان چلی جائے لیکن سچ (ست) ہاتھ سے نہ جانے پائے، تمام مذاہب کا نچوڑ یہی صداقت ہے۔سرمایہ دارانہ نظام کے سود خور، جاگیردار اور حکمران—یہ سب عوام کا استحصال کرنے میں ایک ہی جیسے ہیں۔ ان میں کوئی فرق نہیں۔
👌2❤1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤️ شریکِ حیات صرف زندگی کا ساتھی نہیں، دل کا سکون بھی ہوتا ہے۔

اچھا شریکِ حیات وہ ہے جو خوشی میں ساتھ دے، مشکل وقت میں حوصلہ بنے، اور ایک دوسرے کو اللہ کے قریب کرنے کا ذریعہ بنے۔ 🤍

اپنے شریکِ حیات کی قدر کیجیے، کیونکہ محبت صرف الفاظ سے نہیں، رویّے سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔

#شریک_حیات #ازدواجی_زندگی #میاں_بیوی #محبت #نکاح اسلامی_باتیں اسلامی_ویڈیو خاندانی_زندگی نصیحت Deen IslamicReminder
❤3👍2
فرمانِ خدا
(فرشتوں سے)

بالِ جبریل

کیوں خالق و مخلوق میں حائل رہیں پردے
پیرانِ کلیسا کو کلیسا سے اٹھا دو

خدا اور مخلوق کے درمیان پادریوں اور دوسرے مذہبی پیشواؤں نے جو بے جواز پردے حائل کر دیے ہیں اس کا تدارک اسی طرح سے ممکن ہے کہ ان پادریوں اور مذہبی پیشواؤں کو ان عبادت گاہوں سے اٹھا کر باہر پھینک دو اور وہاں ان کی اجارہ داری کا خاتمہ کر دو ۔ مراد یہ ہے کہ مذہبی پیشواؤں نے عوام میں جو اپنی دکانداری چمکا رکھی ہے کہ ان کے توسط کے بغیر مجھ تک ان کی رسائی نہیں ہو سکتی اس تاثر کو ختم کرنا ضروری ہے ۔
تم عشق میں بہکتی ہوئی زلیخا کو دیکھ کر رشک کرتے ہو
کیا تم نے رب کے عذاب سے ڈرتا حضرت یوسف نہیں دیکھا
❤3
حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی
خدا کرے کہ جوانی تری رہے بے داغ
مبتلائے درد کوئی عضو ہو روتی ہے آنکھ
کس قدر ہمدرد سارے جسم کی ہوتی ہے آنکھ
❤5👍2
جلالِ پادشا ہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو
جُدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
ڈاکٹر علامہ اقبال .
❤1
ایک قطرہ ہی سہی مجھے ایسی صفت دے
مولا
کوئی پیاسا جو دیکھوں تو دریا بن جاؤں
❤7👍1👌1
خودی کا نشیمن ترے دل میں ہے
فلک جس طرح آنکھ کے تِل میں ہے

شرح
آنکھ کی پتلی ایک ننھا سا نقطہ ہے مگر پورا آسمان اسی میں سما جاتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ خودی کا ٹھکانا بھی انسان کا دل ہے۔ دل جسم کے لحاظ سے چھوٹا ہے مگر اس میں وہ وسعت ہے جو افلاک کو اپنے اندر سمو لے۔
یہ تشبیہ دو باتیں سکھاتی ہے۔ پہلی یہ کہ خودی کو باہر نہیں ڈھونڈنا، وہ انسان کے اپنے باطن میں ہے۔ دوسری یہ کہ ظاہری چھوٹا پن حقیقی چھوٹے پن کی دلیل نہیں۔ ساقی نامہ میں اس شعر کے فوراً بعد اقبال خبردار کرتے ہیں کہ خودی کے نگہبان کے لیے وہ روٹی زہر ہے جس سے اس کی آبرو جاتی رہے۔ یعنی جو چیز دل میں اتنی وسعت رکھتی ہے اس کی حفاظت بھی اتنی ہی ضروری ہے۔

کتاب: بالِ جبریل | منظومات | نظم: ساقی نامہ
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حـــضـــرت امـــیـــر الـــمـــجاہـــدیـــن
  مـــولانـــا مـــحـــمـــد مـــــسعـــود ازھـــر
کے آڈیو کلپ  نمبر 357

Clip 00357 :Molana Muhammad M.A (Hafizahullah)

#وَ_لَكُمْ_فِی_الْقِصَاصِ_حَیٰوةٌ
#قصاص_میں_زندگی_ہے
#اب_ہمارا_ایک_ہی_کام_انتقام_انتقام
#امیر_المجاہدین_حفظہ_اللہ_تعالیٰ
❤1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
پیر نصیر الدین نصیر گیلانی رحمتہ اللہ علیہ 🤍🥀
.
❤1👌1
خودی میں ڈوب جا غافل! یہ سِرِّ زندگانی ہے
نکل کر حلقۂ شام و سحَر سے جاوداں ہو جا

شرح
غافل وہ ہے جو اپنی حقیقت سے بے خبر ہو۔ اقبال اسے پکارتے ہیں کہ خودی میں ڈوب جا کیونکہ زندگی کا بھید یہی ہے۔ ڈوبنا یہاں گہرائی میں اترنے کا استعارہ ہے، سطحی زندگی سے نکل کر اپنے باطن کی تہ تک پہنچنا۔
دوسرا مصرع اقبال کے فلسفۂ وقت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ حلقۂ شام و سحر وہ وقت ہے جو گھڑی سے ناپا جاتا ہے، دن رات کا چکر جس میں انسان قید رہتا ہے۔ تشکیلِ جدید کے دوسرے خطبے میں اقبال اسی ناپے جانے والے وقت اور خالص دوام میں فرق کرتے ہیں، اور مسجدِ قرطبہ میں "سلسلۂ روز و شب" کا ذکر اسی پس منظر میں ہے۔ جو خودی میں ڈوب جاتا ہے وہ اس چکر سے بلند ہو کر دوام کا حصہ بن جاتا ہے۔

کتاب: بانگِ درا | منظومات، حصّہ سوم | نظم: طلوعِ اسلام
عالمى مجلس اقبال

جو عالم ایجاد میں ہے صاحب ایجاد
ہر دور میں کرتا ہے طواف اس کا زمانہ