تاریخ اسلام اور اسلامی کہانیاں
8.71K subscribers
870 photos
2.06K videos
43 files
2.85K links
کسی بھی قوم کا رابطہ اگر اپنے ماضی سے ٹوٹ جائے تو اس قوم کا نام و نشان تک باقی نہیں رہتا امت مسلمہ کی تاریخ قیامت تک آنے والے مسلمانوں کے لئے ایک عظیم سرمایہ ہے مسلم تاریخ کی عظیم شخصیات اور بے مثال فتوحات اس چینل میں بیان کی جائے گی-
Download Telegram
⚂⚂⚂.
▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁
✮┣ l ﺑِﺴْـــﻢِﷲِﺍﻟـﺮَّﺣـْﻤـَﻦِﺍلرَّﺣـِﻴﻢ ┫✮
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*■ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﷺ ■*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
★ *پوسٹ-20_* ★
─━━━════●■●════━━━─
*❀_ قریش نے کہا:- اچھا تم آسمان ہی کا ٹکڑا توڑ کر ہم پر گرا دو کیونکہ تمہارا ازعم یہ ہے کہ اگر اللہ چاہے تو ایسا کر سکتا ہے، پس جب تک تم ایسا نہ کرو گے ہم ایمان نہیں لائیں گے_, رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:- یہ اللہ کے اختیار میں ہے, وہ اگر چاہے تو ایسا کرے_,*
*❀_ قریش نے کہا :- محمد صلی اللہ وسلم یہ بتاؤ کہ تمہارے رب نے تمہیں پہلے سے یہ نہ بتلایا کہ ہم تمہیں بلائیں گے اور ایسے ایسے سوال کریں گے، یہ یہ چیزیں طلب کریں گے، ہماری باتوں کا یہ جواب ہے اور اللہ کا منشا ایسا ایسا کرنے کا ہے ؟ چونکہ تمہارے رب نے ایسا نہیں کیا اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ جو کچھ ہم نے سنا ہے وہ صحیح ہے کہ یمامہ میں ایک شخص رہتا ہے، اس کا نام رحمٰن ہے، وہی تجھے ایسی باتیں سکھلاتا ہے، ہم تو رحمٰن پر کبھی ایمان نہیں لائیں گے،( اللہ عزوجل کے اسمائے حسنیٰ جو اسلام نے بتائے ہیں ان میں رحمٰن ایسا نام ہے جس سے عرب ہرگز واقف نہ تھے، اس لیے وہ اللہ کے نام رحمٰن سے بہت چڑا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ یہ کسی گمنام شخص کا نام ہو گا حالانکہ رحمٰن رحمت سے مبالغہ کا صیغہ ہے، یعنی کمال رحمت والا)*

*❀_ محمد صلی اللہ علیہ وسلم دیکھو ! آج ہم نے اپنے سب عزرات سنا دیے ہیں، اب ہم تم سے قسمیہ یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ ہم تمہیں اس تعلیم کی اشاعت کبھی نہیں کرنے دیں گے، حتیٰ کہ ہم مر جائیں یا تم مر جاؤ _،*
*"_ یہاں تک بات چیت ہوئی تھی کہ ایک ان میں سے بولا:- ہم ملائکہ کی عبادت کرتے ہیں جو اللہ کی بیٹیاں ہیں_، دوسرا بولا :- محمد صل اللہ علیہ وسلم ہم تمہاری بات کا یقین نہیں کریں گے جب تک کہ اللہ اور اس کے فرشتے ہمارے سامنے نہ آجائیں _,*
*❀_ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آخری بات سن کر اٹھ کھڑے ہوئے، نبی ﷺ کے ساتھ عبداللہ بن ابو امیہ بن مغیرہ بھی اٹھ کھڑا ہوا، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پھوپھی زاد بھائی ( عاتکہ بنت عبدالمطلب کا بیٹا) تھا, اس نے کہا :- محمد صل اللہ علیہ وسلم ! دیکھو تمہاری قوم نے اپنے لئے کچھ چیزوں کا تم سے سوال کیا, وہ بھی تم نے نہ مانا، پھر انہوں نے یہ چاہا کہ تم خود اپنے ہی لیے ایسی علامات کا اظہار کرو جس سے تمہاری قدر ومنزلت کا ثبوت ہو سکتا ہو، اسے بھی تم نے قبول نہیں کیا، پھر انہوں نے اپنے لئے تھوڑا سا عذاب بھی چاہا جس کا خوف تم دلایا کرتے ہو، تم نے اس کا بھی اقرار نہ کیا، بس اب میں تم پر کبھی ایمان نہیں لاؤنگا، ہاں اگر تم میرے سامنے آسمان کو زینہ لگا کر اوپر چڑ جاؤ اور میرے سامنے اس زینے سے اترو اور تمہارے ساتھ چار فرشتے بھی آئیں اور وہ تمہاری شہادت بھی دیں، میں تو تب بھی تم پر ایمان نہیں لاؤ گا _,*

*❀_ آپ نے دیکھا کہ اسلام کی عداوت میں عبداللہ کتنا سخت ہے، لیکن چند سال نہ گزرنے پائے تھے کہ فتح مکہ سے پہلے یہی عبداللہ اللہ تعالی کی توفیق سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسلام لےآیا، اہل دانش جان سکتے ہیں کہ ایسے شخص کا اسلام لانا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا معجزہ ہے جو آسمان پر زینہ لگا کر چڑھ جانے، فرشتوں کی شہادت دینے سے بھی بڑھ کر ہے، کیونکہ یہ تو وہ باتیں ہیں جن کے دیکھ لینے کے بعد بھی عبداللہ ایمان نہیں لانا چاہتا تھا _, نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس رد و انکار پر بھی برابر قریش کو اسلام کی ہدایت کیا کرتے اور فرمایا کرتے کہ میری تعلیم ہی میں سب کچھ تمہارے لیے موجود ہے، جن دانشمندوں نے ایمان کو قبول کیا اور تعلیمات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر کاربند ہوئے انہیں اس سے بھی زیادہ معروف فوائد حاصل ہو گئے، جن کا سوال قریش نے کیا تھا _,*

*❀_ ہم کو اس موقع پر انجیل کا وہ مقام یاد آتا ہے، جس میں مسیحی علیہ السلام سے آزمائش کے لئے شیطان نے کئی سوال کئے اور مسیحی علیہ السلام نے ان سب کا جواب انکار میں دیا، حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے برگزیدہ رسول علیہ السلام اپنی صداقت کے ثبوت میں اپنی تعلیم کو پیش کیا کرتے ہیں، معجزہ یا خرق عادت کو پیش نہیں کیا کرتے، کیونکہ پھر صفت ایمان بالغیب کی خوبی باقی نہیں رہتی، اگرچہ کسی دیگر اوقات میں کسی ضرورت کے لیے ان سے معجزات کا صدور بھی بکثرت ہوتا رہتا ہے_,*

*📓 رحمة للعالمين ﷺ - مصنف قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری رحمۃ اللہ _,*
•┄┄┅┅━━═۞═━━┅┅┄┄•
⚂⚂⚂.
▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁
✮┣ l ﺑِﺴْـــﻢِﷲِﺍﻟـﺮَّﺣـْﻤـَﻦِﺍلرَّﺣـِﻴﻢ ┫✮
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*■ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﷺ ■*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
★ *پوسٹ-21_* ★
─━━━════●■●════━━━─
*❀__ امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کا ایمان لانا :- نبوت کے چھٹے برس کا ذکر ہے کہ ایک روز ہمارے نبی صل اللہ علیہ وسلم کوہ صفا پر بیٹھے ہوئے تھے، ابو جہل وہاں پہنچ گیا، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے تو گالیاں دیں اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم گالیاں سن کر چپ رہے تو اس نے ایک پتھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر پھینک مارا جس سے خون چلنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تایا حمزہ رضی اللہ عنہ کو خبر ہوئی، وہ ابھی مسلمان نہ ہوئے تھے، قرابت کے جوش میں ابو جہل کے پاس پہنچے اور اس کے سر پر زور سے کمان کھیچ ماری کہ وہ زخمی ہوگیا، حمزہ رضی اللہ عنہ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور کہا:- بھتیجے ! تم یہ سن کر خوش ہوں گے کہ میں نے ابو جہل سے تمہارا بدلہ لے لیا _,*
*"_ نبی صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:- تایا میں ایسی باتوں سے خوش نہیں ہوا کرتا، ہاں تم مسلمان ہو جاؤ تو مجھے بڑی خوشی ہوگی _,امیر حمزہ رضی اللہ عنہ اسی وقت مسلمان ہو گئے _,*

*❀_ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا اسلام لانا :- امیر حمزہ رضی اللہ عنہ سے تین دن پیچھے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مسلمان ہوئے، یہ بڑے دلیر اور بہادر تھے، قریش کی طرف سے بیرونی ممالک کی سفارت کا کام ان سے متعلق تھا، ایک دن عمر رضی اللہ عنہ اپنی بہادری کے بھروسے پر نبی صل اللہ علیہ وسلم کے قتل کا ارادہ کر کے گھر سے نکلے، بدن پر سب ہتھیار سجا رکھے تھے، راستے میں ان کو پتہ لگا کہ بہن اور بہنوئی دونوں مسلمان ہو گئے ہیں، یہ سن کر بہن کے گھر گئے اور ان دونوں کو خوب مارا، ان کی بہن فاطمہ رضی اللہ عنہ نے کہا :- عمر تم پہلے وہ کتاب سن لو جسے سن کر ہم ایمان لے آئے ہیں، اگر وہ تم کو اچھی نہ لگے تو ہم کو مار ڈالنا، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا :- اچھا*

*❀_ اس وقت ان کے گھر میں نبی صل اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی بھی تھے، جو عمر رضی اللہ عنہ کے آ جانے سے چھپ گیے تھے، انہوں نے قرآن مجید ( طہ کا پہلا رکوع) سنایا، عمر فاروق رضی اللہ عنہ قرآن سن رہے تھے اور بے اختیار رو رہے تھے، غرض عمر رضی اللہ عنہ اسی وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن پر ایمان لے آئے، جو شخص گھر سے قاتل بن کر نکلا تھا، وہ جان نثار بن گیا، آگے چل کر ان کا لقب فاروق ہوا _,*
*❀_ اس وقت تک صحابہ کرام نماز اپنے گھروں میں چھپ چھپ کر پڑھا کرتے تھے، اب کعبہ میں جا کر پڑھنے لگے، مشرق یہ دیکھ کر اور بھی زیادہ جلے اور صحابہ کرام کو بے حد تکلیف دینے لگے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی گستاخی سے پیش آتے تھے _,*

*📓 رحمة للعالمين ﷺ - مصنف قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری رحمۃ اللہ _,*
⚂⚂⚂.
▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁
✮┣ l ﺑِﺴْـــﻢِﷲِﺍﻟـﺮَّﺣـْﻤـَﻦِﺍلرَّﺣـِﻴﻢ ┫✮
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*■ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﷺ ■*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
★ *پوسٹ-22_* ★
─━━━════●■●════━━━─
*❀_ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے قبیلہ سمیت تین سال تک پہاڑ کی گھاٹی کے اندر محصور رہے :- جب مشرکین نے دیکھا کہ ایسی اذیتوں اور تکلیفوں پر بھی نبی صل اللہ علیہ وسلم اپنی تعلیم پر قائم ہیں اور بے نظیر جرأت سے اور انتھک محنت سے اپنا کام کیے جاتے ہیں تو بماہ محرم 7 نبوت انہوں نے کہا کہ :- بنو ہاشم جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قبیلہ ہے اگرچہ مسلمان نہیں ہوا پھر بھی نبی صل اللہ علیہ وسلم کا ساتھ نہیں چھوڑتا، آؤ ان سے ناطہ رشتہ کرنا چھوڑ دو، انہیں گلی بازار میں پھرنے نہ دو، ان کو کوئی چیز مول بھی نہ دو _, اس بات کا معاہدہ لکھا گیا اور کعبہ پر لٹکا یا گیا _,*
*❀_ نبی صل اللہ علیہ وسلم اور ان کا قبیلہ مجبور ہو گئے، گھر بار چھوڑ کر پہاڑ کی گھاٹی میں محبوس و محسور ہو کر رہنے لگے، قریشی اجناس خورونی کا ( غلہ و دیگر چیزوں کے لئے) جانا بھی بند کر دیا، بنی ہاشم کے بچے بھوک کے مارے اس قدر رویا کرتے تھے کہ ان کی آواز گھاٹی کے باہر تک سنائی دیتی_,*

*❀_تین برس تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے خاندان نے اسی طرح کاٹے اور جو مسلمان تھے وہ بھی اپنے گھروں میں قیدی بن کر رہنے لگے، حج کے دنوں میں جب مشرکین بھی دشمن سے لڑنا حرام جانتے تھے، نبی صل اللہ علیہ وسلم اس گھاٹی سے باہر نکلا کرتے تھے اور لوگوں کو اللہ پر ایمان لانے کا وعظ سنایا کرتے تھے، کم بخت ابولہب صبح سے شام تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے پھرا کرتا اور کہا کرتا- لوگوں یہ دیوانہ ہے، اس کی بات نہ سنو، جو کوئی اس کی بات سنے گا اور مانے گا وہ تباہ ہو جائے گا_,"*
*❀_ تین برس تک نبی صل اللہ علیہ وسلم نے اس سختی کو نہایت صبر و استقلال سے برداشت کیا، جب مشرکین نے گھاٹی پر سے پہرے اٹھا لئے اور دیمک نے اس معاہدے کے کاغذ کو کھا لیا جو کعبہ پر لٹکایا گیا تھا، تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے اور پھر وعظ کا سلسلہ شروع کر دیا _,*

*❀__ ایک روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد حرام میں داخل ہوئے، وہاں مشرق سردار بیٹھے ہوئے تھے، ابو جہل نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور تمسخر سے کہا :- عبدمناف والوں ! دیکھو تمہارا نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) آ گیا _, عقبہ بن ربیعہ بولا- ہمیں کیا انکار ہے ہم میں سے کوئی نبی بن بیٹھے، کوئی فرشتہ کہلا ئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ باتیں سن کے لوٹے اور ان کے پاس آئے، پہلے عقبہ سے فرمایا :- عقبہ ! تو نے اللہ اور رسول صل اللہ علیہ وسلم کی حمایت کبھی بھی نہ کی، تو اپنی ہی بات کی پیچ پر اڑا رہا _, پھر ابوجہل سے فرمایا:- تیرے لیے وہ وقت بہت قریب آرہا ہے، دور نہیں رہا ہے کہ تو تھوڑا ہنسے گا اور بہت روئے گا _,*
*"_ پھر قریش سے فرمایا:- تمہارے لیے وہ ساعت نزدیک آرہی ہے کہ جس دین کا تم انکار کرتے ہو آخر اسی میں داخل ہو جاؤ گے _,*

*❀_ ابوطالب کا انتقال :- 10 نبوت میں نبی صل اللہ علیہ وسلم کے تایا ابو طالب جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے والد تھے، انتقال ہوگیا، ابوطالب نے لڑکپن سے نبی صل اللہ علیہ وسلم کی تربیت کی تھی اور جب سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کی دعوت اور منادی شروع کی تھی وہ برابر مددگار رہے تھے، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی وفات کا بڑا صدمہ ہوا _,*
*❀_ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کا انتقال :- ان سے تین دن پیچھے نبی صل اللہ علیہ وسلم کی پیاری بیوی طاہرہ خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہا نے انتقال فرمایا، جنہوں نے اپنا سارا مال و زر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی پر قربان اور اللہ کی راہ میں صرف کر دیا تھا، سب سے پہلے اسلام لائ تھیں، جبرائیل علیہ السلام نے ان کو اللہ کا سلام پہنچایا تھا، ان کے گزر جانے کا رنج نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت ہوا _,*

*📓 رحمة للعالمين ﷺ - مصنف قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری رحمۃ اللہ _,*
⚂⚂⚂.
▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁
✮┣ l ﺑِﺴْـــﻢِﷲِﺍﻟـﺮَّﺣـْﻤـَﻦِﺍلرَّﺣـِﻴﻢ ┫✮
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*■ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﷺ ■*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
★ *پوسٹ-23_* ★
─━━━════●■●════━━━─
*❀_ اب قریش نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ سے زیادہ ستانا شروع کردیا، ایک دفعہ ایک شریر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر کیچڑ پھینک دی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح گھر میں داخل ہوئے، نبی صل اللہ علیہ وسلم کی بیٹی اٹھی، وہ سر دھلاتی جاتی تھی اور روتی جاتی تھی، نبی صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:- پیاری بیٹی ! تم کیوں روتی ہو، تیرے باپ کی حفاظت اللہ خود فرمائے گا _,*

*❀_ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تبلیغ کے لیے مختلف قبائل کی جانب سفر کرنا:- اگرچہ ابوطالب کا سہارا جاتا رہا، اگرچہ خدیجہ رضی اللہ عنہا جیسی بیوی جو مصیبتوں اور تکلیفوں میں نہایت غم گسار تھیں، جدا ہو گئیں، مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اب زیادہ جوش سے وعظ کا کام شروع کر دیا، چنانچہ تھوڑے ہی دنوں بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے نکلے اور بیرونی قبائل کو وعظ کے لئے تشریف لے گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس سفر میں زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ تھے، مکہ اور طائف کے درمیان جتنے قبیلے تھے سب کو وعظ سناتے، توحید کی منادی کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پیادہ پا طائف پہنچے،*
*❀_طائف میں بنو ثقیف آباد تھے، سرسبز ملک اور سرد پہاڑ پر رہنے کی وجہ سے ان کے غرور کی کوئی حد نہ تھی, عبدیالیل، مسعود، حبیب تینوں بھائی وہاں کے سردار تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پہلے انہیں سے ملے اور انہیں اسلام کی دعوت فرمائی،*

*❀_ ان میں سے ایک بولا میں کعبہ کے سامنے داڑھی منڈوا دوں اگر تجھے اللہ نے رسول بنایا ہو_, دوسرا بولا :- کیا اللہ کو تیرے سوا اور کوئی بھی رسول بنانے کو نہ ملا، جسے چھڑنے کی سواری بھی میسر نہیں، اس نے رسول بنانا تھا تو کسی حاکم یا سردار کو بنایا ہوتا_, تیسرا بولا کہ میں تجھ سے کبھی بات ہی نہیں کروں گا, کیونکہ اگر تو اللہ کا رسول ہے جیسا کہ تو کہتا ہے تب تو یہ بہت خطرناک بات ہے کہ میں تیرے کلام کو رد کروں اور اگر تو اللہ پر جھوٹ بولتا ہے تو مجھے شایان نہیں کہ تجھ سے بات کروں_,*
*❀_ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:- اب میں تم سے صرف یہ چاہتا ہوں کہ اپنے خیالات اپنے ہی پاس رکھو, ایسا نہ ہو کہ یہ خیالات دوسرے لوگوں کے ٹھوکر کھانے کا سبب بن جائیں_, نبی صل اللہ علیہ وسلم نے وعظ کہنا شروع فرمایا تو ان سرداروں نے اپنے غلاموں اور شہر کے لڑکوں کو سکھلا دیا، وہ لوگ وعظ کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اتنے پتھر پھینکتے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم لہو میں تربتر ہو جاتے، خون بہہ بہہ کر جوتے میں جم جاتا اور وضو کے لیے پاؤں سے جوتا نکالنا مشکل ہو جاتا،*

*❀_ایک دفعہ بدمعاشوں نے نبی صل اللہ علیہ وسلم کو اس قدر گالیاں دیی، تالیاں بجائیں، چیخیں لگائیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مکان کے احاطے میں جانے پر مجبور ہوگئے، یہ جگہ عتبہ و شیبہ فرزندان ربعیہ کی تھی، انہوں نے دور سے اس حالت کو دیکھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ترس کھا کر اپنے غلام عداس کو کہا کہ ایک پلیٹ میں انگور رکھ کر اس شخص کو دے آؤ، غلام نے انگور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیے، نبی صل اللہ علیہ وسلم نے انگوروں کی طرف ہاتھ بڑھایا اور زبان سے فرمایا:- "بسم اللہ" اور پھر انگور کھانا شروع کیے،*

*❀_ اداس نے حیرت سے نبی صل اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا اور پھر کہا :- یہ ایسا کلام ہے کہ یہاں کے باشندے نہیں بولا کرتے_,*
*❀_ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:- تم کہاں کے ہو اور تمہارا مذہب کیا ہے ؟ عداس نے جواب دیا:- میں عیسائی ہوں اور نینویٰ کا باشندہ ہوں_, نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:- کیا تم مرد صالح یونس بن متی علیہ السلام کے شہر کے باشندے ہوں_, عداس نے کہا:- آپ کو کیا خبر ہے کہ یونس بن متی علیہ السلام کون تھے اور کیسے تھے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:- وہ میرے بھائی ہیں، وہ بھی نبی تھے اور میں بھی نبی ہوں_,*.
*❀_ عداس یہ سنتے ہی جھک پڑا اور اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سر، ہاتھ، قدم چوم لیے ‌_, عتبہ و شیبہ نے دور سے غلام کو ایسا کرتے دیکھا اور آپس میں کہنے لگے لو غلام تو ہاتھوں سے نکل گیا, جب عداس اپنے آقا کے پاس لوٹ کر گیا تو انہوں نے کہا: کم بخت تجھے کیا ہوگیا تھا کہ اس شخص کے ہاتھ پاؤں سر چومنے لگ گیا تھا، عداس نے کہا:- حضور عالی! آج اس شخص سے بہتر ‌روئے زمین پر کوئی بھی نہیں، اس نے مجھے ایسی بات بتائی جو صرف نبی ہی بتلا سکتا ہے _, انہوں نے عداس کو ڈاٹ دیا کہ خبردار کہیں اپنا دین نہ چھوڑ بیٹھنا، تیرا دین تو اس کے دین سے بہتر ہے _,*
*"(_ طبری -1/75)*
*❀_اسی مقام پر ایک دفعہ وعظ کرتے ہوئے اللہ کے رسول صل اللہ علیہ وسلم کے اتنی چوٹیں لگیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بے ہوش ہو کر گر پڑے، زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے آپ کو اپنی پیٹھ پر اٹھا یا، آبادی سے باہر لے گئے، پانی کے چھینٹے دیئے، تو ہوش آیا_,*
*❀_ اس سفر میں اتنی تکلیفیں اور ایذاؤں کے بعد ایک شخص تک کے مسلمان نہ ہونے کے رنج اور صدمے کے وقت بھی نبی صل اللہ علیہ وسلم کا دل اللہ کی عظمت اور محبت سے بھرپور تھا، اس وقت جو دعا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مانگی اس کے الفاظ یہ ہیں:- (ترجمہ) الٰہی اپنی کمزوری, بے سرو سامانی اور لوگوں کی تحقیر کی بابت تیرے سامنے فریاد کرتا ہوں تو سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے، درماندہ عاجزوں کا مالک تو ہی ہے اور میرا مالک بھی تو ہی ہے، مجھے کس کے سپرد کیا جاتا ہے، کیا بیگانہ ترش رو کے یا اس دشمن کے جو کام پر قابو رکھتا ہے لیکن جب مجھ پر تیرا غضب نہیں، تو مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں، کیونکہ تیری عافیت میرے لئے زیادہ وسیع ہے، میں تیری ذات کے نور سے پناہ چاہتا ہوں جس سے سب تاریکیاں روشن ہوجاتی ہیں اور دنیا و دین کے کام اس سے ٹھیک ہو جاتے ہیں کہ تیرا غضب مجھ پر اترے یا تیری رضامندی مجھ پر وارد ہو، مجھے تیری ہی رضامندی اور خوشنودی درکار ہے اور نیکی کرنے یا بدی سے بچنے کی طاقت مجھے تیری ہی طرف سے ملتی ہے _,*
*❀_ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف سے واپس ہوتے ہوئے یہ بھی فرمایا:- میں ان لوگوں کی تباہی کے لیے کیوں دعا کرو اگر یہ لوگ اللہ پر ایمان نہیں لاتے تو کیا ہوا، امید ہے کہ ان کی آئندہ نسلیں ضرور ایک اللہ پر ایمان لانے والی ہوں گی _,*
*( بخاری3231- 7389, مسلم -4653)*

*📓 رحمة للعالمين ﷺ - مصنف قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری رحمۃ اللہ _,*
⚂⚂⚂.
▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁
✮┣ l ﺑِﺴْـــﻢِﷲِﺍﻟـﺮَّﺣـْﻤـَﻦِﺍلرَّﺣـِﻴﻢ ┫✮
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*■ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﷺ ■*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
★ *پوسٹ-24_* ★
─━━━════●■●════━━━─
*❀__ مختلف مقامات پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تبلیغ کے لیے جانا:- مکہ میں واپس آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اب ایسا کرنا شروع کیا کہ مختلف قبیلوں کی سکونت گاہوں میں تشریف لے جاتے یا مکہ سے باہر چلے جاتے اور جو کوئی مسافر آتا جاتا مل جاتا اسے ایمان اور اللہ پرستی کا وعظ فرماتے، انہی ایام میں قبیلہ بنو کندہ میں تشریف لے گئے، سردار قبیلے کا نام ملیح تھا، نیز قبیلہ عبداللہ کے ہاں بھی پہونچے، انہیں فرمایا کہ تمہارے باپ کا نام عبداللہ تھا، قبیلہ بنو حنیفہ کے گھروں میں تشریف لے گئے، انہوں نے سارے عرب بھر میں سب سے بدتر طریق پر نبی صل اللہ علیہ وسلم کا انکار کیا،*
*❀_ قبیلہ بنو عامر بن صعصعہ کے پاس گئے، سردار قبیلہ کا نام بحیرہ بن فراس تھا، اس نے دعوت اسلام سن کر نبی صل اللہ علیہ وسلم سے پوچھا :- بھلا اگر ہم تیری بات مان لیں اور تو مخالفین پر غالب آ جائے تو کیا تو یہ وعدہ کرتا ہے کہ تیرے بعد یہ امیر ( نبوت) مجھ سے متعلق ہوگا, نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :- یہ تو اللہ کے اختیار میں ہے، وہ جسے چاہے گا میرے بعد اسے مقرر کرے گا، ‌ بحیرہ بولا:- خوب ! اس وقت تو عرب کے سامنے سینہ سپر ہم بنے اور جب تمہارا کام بن جائے تو مزے کوئی اڑائے، جاؤ ہم کو تیرے کام سے کچھ سروکار نہیں، قبائل کے سفر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے رفیق ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے _،,*

*❀_ سوید بن صامت رضی اللہ عنہ کا ایمان لانا:- انہیں ایام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سوید بن صامت رضی اللہ عنہ ملے، ان کا لقب اپنی قوم میں کامل تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دعوت اسلام فرمائی، وہ بولے - شاید آپ کے پاس وہی کچھ ہے جو میرے پاس بھی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:- تمہارے پاس کیا ہے ؟ وہ بولے:- حکمت لقمان_,"*
*"_ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:- بیان کرو _," انہوں نے اپنے کچھ عمدہ اشعار سنائے, نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:- یہ اچھا کلام ہے، لیکن میرے پاس قرآن جو اس سے افضل تر ہے اور ہدایت اور نور ہے، اور وہ قرآن سن کر اسلام لے آئے، جب یثرب لوٹ کر گئے تو قوم خزرج نے انہیں قتل کر ڈالا _,"* *( طبری 232)*

*❀_ سفارت یثرب میں تبلیغ فرمانا، ایاس بن معاذ کا راہ یاب ہونا:- انہیں ایام میں ابوالحیثر انس بن رافع مکہ آیا، اس کے ساتھ بنی ابدالاثہل کے بھی چند نوجوان تھے، جن میں ایاس بن معاذ بھی تھے، یہ لوگ قریش کے ساتھ اپنی قوم خزرج کی طرف سے معاہدہ کرنے آئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے اور جا کر فرمایا:- ‌ میرے پاس ایسی چیز ہے جس میں تم سب کی بہبود ہے, کیا تمہیں کچھ رغبت ہے ؟ وہ بولے- ایسی کیا چیز ہے؟ فرمایا:- میں اللہ کا رسول ہوں، مخلوق کی طرف مبعوث ہوں، بند گانے الہی کی دعوت دیتا ہوں کہ اللہ ہی کی عبادت کریں اور شرک نہ کریں، مجھ پر اللہ نے کتاب نازل کی ہے_,"*
*❀_ پھر ان کے سامنے اسلام کے اصول بیان فرمائے اور قرآن مجید بھی پڑھ کر سنایا, ایاس بن معاذ جو ابھی نوجوان تھے سنتے ہی بولے :- اے میری قوم ! باخدا یہ تمہارے لئے اس مقصد سے بہتر ہے، جس کے لئے تم یہاں آئے ہو _,"*
*❀_ انس بن رافع نے کنکریوں کی مٹھی بھر کر اٹھائیں اور ایاس کے منہ پر پھینک ماری اور کہاں :- بس چپ رہ، ہم اس کام کے لیے تو نہیں آئے_,"*
*"_ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر چلے گئے، یہ واقعہ جنگ باس سے، جو اوس اور خزرج میں ہوئی، پہلے کا ہے، ایاس واپس جا کر چند روز کے بعد مر گئے، مرتے وقت ان کی زبان پر تسبیح و تمحید و تہلیل و تکبیر جاری تھی، مرحوم کے دل میں نبی صل وسلم کے اسی وعظ سے اسلام کا بیج بویا گیا تھا، جو مرتے وقت پھل پھول آیا تھا _,*

*❀_ ضمادازدی رضی اللہ عنہ کا واقعہ قبول اسلام:- انہی ایام میں ضمادازدی رضی اللہ عنہ مکہ میں آئے، یہ یمن کے باشندے تھے اور عرب کے مشہور افسوں گر تھے، جب انھوں نے سنا کہ محمد صل اللہ علیہ وسلم پر جنات کا اثر ہے تو انہوں نے قریش سے کہا کہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا علاج اپنے منتر سے کر سکتا ہوں، یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا:- محمد صلی اللہ علیہ وسلم آؤ تمہیں منتر سناؤ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پہلے مجھ سے سن لو، پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سنایا:- (ترجمہ) سب تعریف اللہ کے واسطے ہے, ہم اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہیں اور ہر کام میں اسی کی اعانت چاہتے ہیں، جسے اللہ راہ دکھاتا ہے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے اللہ ہی رستہ نہ دکھلائے اس کی کوئی رہبری نہیں کر سکتا، میری شہادت یہ ہے کہ
❤3
اللہ کے سوا عبادت کے لائق کوئی بھی نہیں، وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، میں یہ بھی ظاہر کرتا ہوں ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کا بندہ اور رسول ہے_,"*

*❀_ ضماد رضی اللہ عنہ نے اس قدر سنا تھا بول اٹھے کہ انہی کلمات کو پھر سنا دیجئے، دو تین دفعہ انہوں نے انہیں کلمات کو سنا اور پھر بے اختیار بول اٹھے، میں نے بہترے کاہن دیکھے اور ساحر دیکھے، شاعر سنے، لیکن ایسا کلام تو میں نے کسی سے بھی نہ سنا، یہ کلمات تو ایک اتھاہ سمندر جیسے ہیں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنا ہاتھ بڑھاؤ کہ میں اسلام کی بیعت کرلوں_،"*
*"_ ( مسلم 2008, نسائ 3278, ابن ماجہ 1893)*

*📓 رحمة للعالمين ﷺ - مصنف قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری رحمۃ اللہ _,*
❤1
⚂⚂⚂.
▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁
✮┣ l ﺑِﺴْـــﻢِﷲِﺍﻟـﺮَّﺣـْﻤـَﻦِﺍلرَّﺣـِﻴﻢ ┫✮
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*■ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﷺ ■*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
★ *پوسٹ-25_* ★
─━━━════●■●════━━━─
*❀_معراج:- 27 رجب 10 نبوت کو معراج ہوئی اور اللہ تعالی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو "مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ" کی سیر کرائیں، اول مسجد حرام سے بیت المقدس تک تشریف لے گئے، وہاں امام بن کر جماعت انبیاء علیہ السلام کو نماز پڑھائی، پھر آسمانوں کی سیر کرتے اور انبیاء علیہ السلام سے ان کے مقامات پر ملتے ہوئے "سدرۃالمنتہیٰ" اور "بیت المعمور" تک پہنچے اور وہاں سے قرب حضوری خاص حاصل ہوا اور گوناگو وحی سے مشرف ہوئے _,"*
*❀_ علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ، معاویہ رضی اللہ عنہ و امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ سیر روہ مبارک کو ہوئی تھی اور جسم مبارک اپنی جگہ سے مفقود ( غائب) نہیں ہوا تھا, علمائے جمہور کا قول ہے کہ اسراء بدن مبارک کے ساتھ تھا، (زادالمعاد 3/40)*

*❀_ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد اقصیٰ تک پھر صدرة المنتہیٰ تک اور جہاں تک کہ اللہ نے چاہا، سیر کرائیں گئی، یہ سب کچھ جسم کے ساتھ بیداری میں تھا، لیکن یہ ایک مقام ہے جو مثال اور شہادت کے درمیان برزخ ہے اور ہر دو عالم مذکورہ کے احکام کا جامع ہوتا ہے، پس جسم پر روح کے احکام ظاہر ہوئے اور روح اور معانی نے جسم کو قبول کر کے تمثیل اختیار کیا، اسی لئے ان واقعات میں سے ہر واقعے کی ایک حقیقت ہے _,"*
*❀_ شب معراج نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک برتن دودھ کا، ایک برتن شراب کا پیش کیا گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ کو پسند فرمایا اور جبرائیل علیہ السلام نے بتلا دیا کہ آپ نے فطرت اصلیہ کو پسند فرمایا، اگر شراب کا برتن آپ لے لیتے تو آپ کی امت بھٹک جاتی، دیکھو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو فطرت پر جمع کرنے والے تھے اور دودھ سے مراد یہی ہے کہ امت فطرت کو پسند کرے، دنیاوی لزات کو پسند نہ کرے _,*

*❀_ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا براق پر سوار ہونا، مسجد اقصیٰ تک سیر، انبیاء علیہ السلام کی امامت، انبیاء علیہ السلام کے ساتھ ملاقات اور مفاخرت، آسمان پر یکے بعد دیگرے چڑھنا، درجہ بہ درجہ تعلقات طبعی سے نکل کر مستوی رحمٰن کی طرف جانا، سدرۃ المنتہا، رہے وہ انوار، وہ تجلیات رحمانی اور تدبیرات الہیہ، بیت المعمور، ہر ایک امر کی اپنی حقیقت ہے _,"*
*❀_ پانچ نمازوں کا تقرر بھی زبان تجویزی سے ہوا، یہ پانچ نمازیں سواب میں پچاس کے برابر ہیں، گویا رب کریم نے آہستہ آہستہ یہ سمجھایا کہ ثواب تو (پچاس کے برابر) کامل ہے اور حرج اور مرض اٹھا دیا گیا, یہ مطلب حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سند سے متمثل ( مثل، مانند) کیا گیا ہے, کیونکہ جناب ممدوح (موسیٰ علیہ السلام) امت کی اصلاح و درستی اور اصول سیاست، امت کی شناخت میں اکثر انبیاء علیہ السلام سے بڑھے ہوئے ہیں _,"*

*❀_ اکثر مفسرین نے معراج کا ذکر طائف کی واپسی کے بعد کیا ہے، مگر امام طبری نے اپنی کتاب میں ابتدائے نبوت سے دوسرے دن ہی میراج کا ہونا تحریر کیا ہے، ان کی تائید اس دلیل سے بخوبی ہوتی ہے کہ جب فرضیت نماز کا حکم شب معراج میں ہوا اور نبی صل اللہ علیہ وسلم اور دیگر مسلمان اس وقت سے ہی برابر نماز پڑھتے تھے تو نماز کی فرضیت کا حکم گیارہ سال تک کیوں کر متاخر رہ سکتا ہے، لیکن حسب بیان شاہ عبدالحق محدث دہلوی ( مندرجہ شرح سفر سعادت ص 36) کہ پہلے صرف دو نمازیں فجر و عصر فرض ہوئی تھیں، اب شب معراج کو پانچ نمازیں فرض ہوئیں، کوئی اشقال نہیں رہ جاتا _,*

*📓 رحمة للعالمين ﷺ - مصنف قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری رحمۃ اللہ _,*
❤2
⚂⚂⚂.
▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁
✮┣ l ﺑِﺴْـــﻢِﷲِﺍﻟـﺮَّﺣـْﻤـَﻦِﺍلرَّﺣـِﻴﻢ ┫✮
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*■ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﷺ ■*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
★ *پوسٹ-26_* ★
─━━━════●■●════━━━─
*❀_ طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ کا ایمان لانا :- انہی دنوں طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ مکہ میں آئے, یہ قبیلہ دوس کے سردار تھے اور یمن میں ان کے خاندان میں رئیسانہ حکومت تھی، طفیل رضی اللہ عنہ بذات خود شاعر و دانش مند شخص تھے، اہل مکہ نے آبادی سے باہر جا کر ان کا استقبال کیا اور اعلیٰ پیمانے پر ان کی خدمت اور تواضع کی، طفیل رضی اللہ عنہ کا اپنا بیان ہے کہ مجھے اہل مکہ نے یہ بھی بتلایا کہ یہ شخص جو ہم میں سے نکالا ہے، اس سے ذرا بچنا، اسے جادو آتا ہے، جادو سے باپ بیٹے، زن و شوہر، بھائی بھائی میں جدائی ڈال دیتا ہے، ہماری جمیعت کو پریشان اور ہمارے کام ابتر کر دیے ہیں، ہم نہیں چاہتے کہ تمہاری قوم پر بھی ایسی ہی کوئی مصیبت پڑے، اس لئے ہماری زور سے یہ نصیحت ہے کہ نہ اس کے پاس جانا، نہ اس کی بات سننا اور نہ خود بات چیت کرنا _,"*
*❀_ یہ باتیں انہوں نے ایسی عمدگی سے میرے ذہن نشین کر دیں کہ جب میں کعبہ میں جانا چاہتا تو کانوں کو روئی سے بند کر لیتا، تاکہ محمد صل اللہ علیہ وسلم کی آواز کی بھنک بھی میرے کان میں نہ پڑ جائے، ایک روز میں صبح ہی خانہ کعبہ میں گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، چوںکہ اللہ کی مصیبت یہ تھی کہ ان کی آواز میری سماعت تک ضرور پہنچے، اس لیے میں نے سنا کہ ایک نہایت عجیب کلام وہ پڑھ رہے ہیں،*

*❀_ اس وقت میں اپنے آپ کو ملامت کرنے لگا کہ میں خود شاعر ہوں، با علم ہوں، اچھے برے کی تمیز رکھتا ہوں، پھر کیا وجہ ہے؟ اور کون سی روک ہے کہ میں ان کی بات نہ سنوں، اچھی بات ہوگی تو مانوں گا ورنہ نہیں مانوں گا، میں یہ ارادہ کر کے ٹھہر گیا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس گھر کو چلے گئے، تو میں بھی پیچھے پیچھے ہو لیا، اور جب مکان پر حاضر ہوا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا واقعہ مکہ میں آنے، لوگوں کے بہکانے، کانوں میں روئی لگانے اور آج حضور صل اللہ علیہ وسلم کی زبان سے کچھ سن پانے کا کہہ سنایا اور عرض کیا کہ مجھے اپنی بات سنائیے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن پڑھا، بخُدا ! میں نے ایسا پاکیزہ کلام کبھی سنا ہی نہ تھا, جو اس قدر نیکی اور انصاف کی ہدایت کرتا ہو_,*
*❀_ الغرض طفیل رضی اللہ عنہ اسی وقت مسلمان ہو گئے، جسے قریش بات بات میں مخدوم و مطاع کہتے تھے، وہ بات کی بات میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دل و جان سے خادم اور مطبع بن گیا، قریش کو ایسے شخص کا مسلمان ہونا نہایت شاق و ناگوار گزرا_,*
*®_( ابن سعد فی الطبقات، 14/ 176)*

*❀_ ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کا ایمان لانا:- ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ اپنے شہر یثرب ہی میں تھے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کچھ اڑتی سی خبر سنی، انہوں نے اپنے بھائی سے کہا کہ تم مکہ جاؤ، مکہ میں اس شخص سے مل کر آؤ اور پھر مجھے بتاؤ_, انیس برادر ابوذر ایک مشہور فصیح شاعر، زبان آور تھے، وہ مکہ میں آئے، نبی صل اللہ علیہ وسلم سے ملے، پھر بھائی کو بتایا کہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ایسا شخص پایا جو نیکیوں کے کرنے کا اور شر سے بچنے کا حکم دیتے ہیں _,*

*❀_ ابوذر رضی اللہ عنہ بولے، اتنی بات سے تو کچھ تسلی نہیں ہوتی، آخر خود پیدل چل کر مکہ پہنچے، حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شناخت نہ تھیں اور کسی سے دریافت کرنا بھی وہ پسند نہ کرتے تھے، زمزم کا پانی پی کر کعبہ ہی میں لیٹ رہے، علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ آئے، انہوں نے پاس کھڑے ہو کر کہا کہ یہ تو کوئی مسافر معلوم ہوتا ہے، ابوذر رضی اللہ عنہ بولے, ہاں, علی رضی اللہ عنہ نے کہا- اچھا میرے ہاں چلو، یہ رات کو وہیں رہے، نہ علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے کچھ پوچھا، نہ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کچھ کہا،*
*❀_ صبح ہوئی تو ابوذر رضی اللہ عنہ پھر کعبہ میں آ گئے، دل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش تھی، مگر کسی سے دریافت نہیں کرتے تھے، علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ پھر آ پہنچے، انہوں نے فرمایا- شاید تمہیں اپنا ٹھکانہ نہ ملا، ابوذر رضی اللہ عنہ بولے- ہاں، علی رضی اللہ عنہ پھر ساتھ لے گئے، اب انہوں نے پوچھا- تم کون ہو اور کیوں یہاں آئے ہو ؟ ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا- راز رکھو تو میں بتلا دیتا ہوں، علی رضی اللہ عنہ نے وعدہ کیا _,*

*❀_ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا- میں نے سنا ہے کہ شہر میں ایک شخص ہے جو اپنے آپ کو نبی اللہ بتلاتا ہے، میں نے اپنے بھائی کو بھیجا تھا، وہ یہاں سے کچھ تسلی بخش بات لے کر نہیں گیا، اس لئے میں خود آیا ہوں، علی رضی اللہ عنہ نے کہا:- تم خوب آئے اور خوب ہوا کہ مجھ سے ملے، دیکھو میں انہیں کی خدمت میں جا رہا ہوں،
میرے ساتھ چلو، میں پہلے اندر جا کر دیکھ لوں گا، اگر اس وقت ملنا مناسب نہ ہو گا تو میں دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑا ہو جاؤں گا، گویا جوتا درست کر رہا ہوں_,*
*❀_ ‌الغرض ابوذر رضی اللہ عنہ علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ خدمات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں پہنچے اور عرض کیا کہ مجھے بتلایا جائے کہ اسلام کیا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی بابت بیان فرمایا اور ابوذر رضی اللہ عنہ اسی وقت مسلمان ہو گئے_,*

*❀_ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا- ابو ذر ! تم ابھی اس بات کو چھپائے رکھوں اور اپنے وطن کو چلے جاؤ, جب تمہیں ہمارے ظہور کی خبر مل جائے تب آ جانا, ابو ذر رضی اللہ عنہ بولے- بخدا ! میں تو ان دشمنوں میں اعلان کرنے جاؤں گا، اب ابوذر رضی اللہ عنہ کعبہ کی طرف آئے، قریش جمع تھے، انہوں نے سب کو سنا کر باآواز بلند کلمہ شہادت پڑھا، قریش نے کہا- اس بے دین کو مارو، لوگوں نے انہیں مارنا شروع کر دیا، عباس رضی اللہ عنہ آگئے، انہوں نے انہیں جھک کر دیکھا اور کہا- کم بختوں ! یہ تو قبیلہ بنو غفار کا آدمی ہے, جہاں تم تجارت کو جاتے اور کھجوریں لاتے ہو, لوگ ہٹ گئے، اگلے دن انہوں نے پھر سب کو سنا کر کلمہ پڑھا، پھر لوگوں نے مارا اور عباس رضی اللہ عنہ نے ان کو چھوڑایا اور یہ اپنے وطن کو چلے آئے _,*
*( بخاری - 3522)*

*📓 رحمة للعالمين ﷺ - مصنف قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری رحمۃ اللہ _,*
❤1
⚂⚂⚂.
▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁
✮┣ l ﺑِﺴْـــﻢِﷲِﺍﻟـﺮَّﺣـْﻤـَﻦِﺍلرَّﺣـِﻴﻢ ┫✮
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*■ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﷺ ■*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
★ *پوسٹ-27_* ★
─━━━════●■●════━━━─
*❀_ اسباب ہجرت :- 11 نبوت کے موسم حج کا ذکر ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کی تاریکی میں شہر مکہ سے چند میل پرے مقام عقبہ پر لوگوں کو باتیں کرتے سنا، اس آواز پر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس پہنچے، یہ چھ آدمی تھے، امامہ اسعد بن زرارہ، عوف بن حارثہ، رافع بن مالک، قطبہ بن عامر بن حدید، عقبہ بن عامر اور سعد بن ربیع، یہ یثرب سے آئے تھے، ان کے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی عظمت و جلال کا بیان شروع کیا, ان کی محبت کو اللہ کے ساتھ گرمایا، بتوں سے ان کو نفرت دلائی، نیکی و پاکیزگی کی تعلیم دے کر گناہوں اور برائیوں سے منع فرمایا، قرآن مجید کی تلاوت فرما کر ان کے دلوں کو روشن فرمایا، یہ لوگ اگرچہ بت پرست تھے لیکن انہوں نے اپنے شہر کے یہودیوں کو بار بار یہ ذکر کرتے ہوئے سنا تھا کہ ایک نبی عنقریب ظاہر ہونے والا ہے، اس تعلیم سے وہ اسی وقت ایمان لے آئے اور جب اپنے وطن کو لوٹ کر گئے تو دین حق کے سچے مناد بن گئے _,"*

*❀_ وہ ہر ایک کو یہ خوشخبری سناتے تھے کہ وہ نبی ہیں، جس کا تمام عالم کو انتظار تھا، آ گیا، ہمارے کانوں نے ان کا کلام سنا، ہماری آنکھوں نے ان کا دیدار کیا، انہوں نے ہم کو زندہ رہنے والے الہ سے ملا دیا کہ دنیا کی زندگی اور موت اب ہمارے سامنے ہے، ان لوگوں کی بشارت لے جانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ یثرب کے گھر گھر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہونے لگا اور اگلے سال 12 نبوت کو یثرب کے 12 باشندے مکہ میں حاضر ہوئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیضان سے دولتِ ایمان حاصل کی، ان لوگوں نے جن باتوں پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بعیت کی تھی وہ یہ ہیں:-*
*(١) _ ہم رب واحد کی عبادت کریں گے اور کسی کو اس کا شریک نہیں بنائیں گے،*
*(٢)_ ہم چوری اور زنا کاری نہیں کریں گے،*
*(٣)_ ہم اپنی اولاد( لڑکیوں) کو قتل نہیں کریں گے,*
*(٤)_ ہم کسی پر جھوٹی تہمت نہیں لگائیں گے اور نہ کسی کی چغلی کیا کریں گے،*
*(٥)_ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہر ایک اچھی بات میں کیا کریں گے_,*

*📓 رحمة للعالمين ﷺ - مصنف قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری رحمۃ اللہ _,*
❤1
⚂⚂⚂.
▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁
✮┣ l ﺑِﺴْـــﻢِﷲِﺍﻟـﺮَّﺣـْﻤـَﻦِﺍلرَّﺣـِﻴﻢ ┫✮
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*■ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﷺ ■*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
★ *پوسٹ-28_* ★
─━━━════●■●════━━━─
*❀__ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ:- جب یہ لوگ واپس جانے لگے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تعلیم کے لیے مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو ساتھ کر دیا، مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ امیر گھرانے کے لاڈلے بیٹے تھے، جب گھوڑے پر سوار ہو کر نکلتے تو آگے پیچھے غلام چلا کرتے تھے، بدن پر دو سو درہم سے کم کی پوشاک کبھی نہیں پہنتے، پھر جب ان کو اسلام کے طفیل روحانی عیش حاصل ہوا تب ان جسمانی آرائش اور نمائش کو انہوں نے بالکل چھوڑ دیا تھا، جن دنوں یہ مدینہ میں دین حق کی منادی کرتے اور تبلیغ کیا کرتے تھے، ان دنوں ان کے کندھے پر صرف کمبل کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا ہوتا تھا، جسے اگلی طرف سے کیکر کے کانٹوں سے اٹکا لیا کرتے تھے_,"*

*❀_ بیعت عقبہ ثانیہ :- مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے گھر جاکر اترے تھے اور ان کو مدینے والے "المقرئ" (پڑھانے والا استاد ) کہا کرتے تھے، ایک دن مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ و اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ اور چند مسلمان " بیرمرق " پر جمع ہوئے، یہ غور کرنے کے لیے کہ نبی عبدالاشہل اور بنی ظفر میں کیوں کر اسلام کی منادی کی جائے_,"*
*❀_ سعد بن معاذ اور اسید بن حضیر ان قبائل کے سردار تھے اور ابھی مسلمان نہ ہوئے تھے، انہیں بھی خبر ہوئی، سعد بن معاذ نے اسید بن حضیر سے کہا- تم کس غفلت میں پڑے ہو دیکھو یہ دونوں ہمارے گھروں میں آکر ہمارے بیوقوفوں کو بہکانے لگے، تم جاؤ، انہیں جھڑک دو اور کہہ دو کہ ہمارے محلے میں پھر کبھی نہ آئیں، میں خود ایسا کرتا، مگر اس لیے خاموش ہوں کہ اسعد میری خالہ کا بیٹا ہے _,"*

*❀_ اسید بن حضیر اپنا ہتھیار لے کر روانہ ہوئے، اسعد رضی اللہ عنہ نے مصعب رضی اللہ عنہ کو کہا - دیکھو یہ قبیلے کا سردار آ رہا ہے، اللہ کرے کہ وہ تمہاری بات مان جائے، مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر وہ آکر بیٹھ گیا تو میں اس سے ضرور کلام کروں گا، اتنے میں اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ آ پہنچے اور کھڑے کھڑے گالیاں دیتے رہے اور یہ بھی کہا کہ ہمہارے احمق نادان لوگوں کو پھسلا نے آئے ہو _,*
*❀_مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے کہا:- کاش آپ بیٹھ کر کچھ سن لیں، اگر پسند آئے، قبول فرمائیں، نہ پسند ہو تو اسے چھوڑ جائیں، اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کہا- خیر کیا مضائقہ ہے، مصعب رضی اللہ عنہ نے سمجھایا کہ اسلام کیا ہے اور پھر انہیں قرآن مجید بھی پڑھ کر سنایا، اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے سب کچھ چپ چاپ سنا، بالآخر کہا- ہاں ! یہ بتلاؤ کہ جب کوئی تمہارے دین میں داخل ہونا چاہتا ہے تو تم کیا کرتے ہو ؟*
*❀_ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے کہا :- نہلا کر، پاک کپڑے پہنا کر کلمہ شہادت پڑھا دیتے ہیں اور دو رکعت نفل پڑھوا دیتے ہیں_, اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اٹھے، غسل کیا، کپڑے دھوئے، کلمہ شہادت پڑھا اور نفل ادا کیے، پھر کہا - میرے پیچھے ایک اور شخص ہے، اگر تمہارا پیروں ہو گیا تو پھر کوئی تمہارا مخالف نہ رہے گا اور میں جا کر ابھی تمہارے پاس بھیج دیتا ہوں_,"*
*❀_ اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ چلے گئے، ادھر سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ان کے انتظار میں تھے، دور سے چہرہ دیکھتے ہی بولے - دیکھو اسید کا وہ چہرہ نہیں ہے جو جاتے وقت تھا، جب اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ آ بیٹھے تو سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا ہوا ؟ اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ بولے - میں نے انہیں سمجھا دیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ہم تمہاری منشا کے خلاف کچھ نہ کریں گے, مگر وہاں تو ایک اور حادثہ پیش آیا، بنو حارثہ وہاں آگئے اور اسد بن زرارہ کو اس لیے قتل کرنے پر آمادہ ہیں کہ وہ تمہارا بھائی ہے_,"*

*❀_ یہ سن کر سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ غصہ میں بھر گئے اور اپنا حربہ سنبھال کر کھڑے ہو گئے، انہیں ڈر تھا کہ بنو حارثہ ان کے بھائی کو نہ مار ڈالے، انہوں نے چلتے وقت یہ بھی کہا کہ اسید تم تو کچھ بھی کام نہ بنا کے آئے _,*

*📓 رحمة للعالمين ﷺ - مصنف قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری رحمۃ اللہ _,*
⚂⚂⚂.
▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁
✮┣ l ﺑِﺴْـــﻢِﷲِﺍﻟـﺮَّﺣـْﻤـَﻦِﺍلرَّﺣـِﻴﻢ ┫✮
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*■ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﷺ ■*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
★ *پوسٹ- 29_* ★
─━━━════●■●════━━━─
*❀__ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے وعظ پر سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا ایمان قبول کرنا:- سعد وہاں پہنچے، دیکھا کہ مصعب رضی اللہ عنہ و اسد رضی اللہ عنہ دونوں اطمینان سے بیٹھے ہوئے ہیں، سعد رضی اللہ عنہ سمجھ گئے کہ اسید رضی اللہ عنہ نے مجھے ان کی باتیں سننے کے لیے بھیجا ہے، یہ خیال آتے ہی انہیں گالیاں دینے لگے اور اسد رضی اللہ عنہ کو یہ کہا کہ اگر میرے تمہارے درمیان قرابت نہ ہوتی تو تمہاری کیا مجال تھی کہ ہمارے محلے میں چلے آتے،*
*❀_ اسد رضی اللہ عنہ نے مصعب رضی اللہ عنہ سے کہا - دیکھو یہ بڑے سردار ہیں اور اگر ان کو سمجھا دو تو پھر کوئی دو آدمی بھی تمہارے مخالف نہ رہ جائیں گے _, مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے سعد سے کہا - آئیے بیٹھ جائیے، کوئی بات کریں، ہماری بات پسند آئے تو قبول فرمائیں ورنہ انکار کر دیجئے _"،*

*❀_ سعد رضی اللہ عنہ حربہ رکھ کر بیٹھ گئے، مصعب رضی اللہ عنہ نے ان کے سامنے اسلام کے حقیقت بیان کی اور قرآن مجید بھی سنایا، آخر سعد رضی اللہ عنہ نے بھی وہی سوال کیا جو اسید رضی اللہ عنہ نے کیا تھا، الغرض سعد رضی اللہ عنہ اٹھے، غسل کیا، کپڑے دھوئے، کلمہ پڑھا، نفل ادا کیے اور ہتھیار لے کر اپنی مجلس میں واپس آئے، آتے ہی اپنے قبیلے کے لوگوں کو پکار کر کہا - اے بنی عبد الاشہل ! تم لوگوں کی میرے بارے میں کیا رائے ہے ؟ سب نے کہا کہ تم ہمارے سردار ہو، تمہاری رائے، تمہاری تلاش بہتر اور اعلٰی ہوتی ہے، سعد رضی اللہ عنہ بولے- سنو خواں کوئی مرد ہے یا عورت، میں اس سے بات کرنا حرام سمجھتا ہوں جب تک کہ وہ اللہ اور رسول صل اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لائے _,*
*❀_ ان کے کہنے کا یہ اثر ہوا کہ بنی عبدالاشہل میں شام تک کوئی مرد اسلام سے خالی نہ رہا اور تمام قبیلہ ایک دن میں مسلمان ہو گیا، مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی تعلیم سے اسلام کا چرچا اسی طرح انصار کے تمام قبیلوں میں پھیل گیا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اگلے سال 13 نبوت کو تہتر (73) مرد دو (2) عورتیں یثرب کے قافلے میں مل کر مکہ آئے، ان کو یثرب کے اہل ایمان نے اس لیے بھی بھیجا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے شہر میں آنے کی دعوت دیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منظوری حاصل کریں _,*

*❀_ یہ راستبازوں کا گروہ اسی متہرک مقام پر جہاں دو سال سے اس شہری یثرب کے مشتاق حاضر ہوا کرتے تھے، رات کی تاریکی میں پہنچ گیا اور اللہ کے برگزیدہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنے تایا عباس رضی اللہ عنہ کو ساتھ لیے ہوئے وہاں جا پہنچے،(طبری-244)*
*❀_ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے ( جو ابھی مسلمان نہ ہوئے تھے) اس وقت ایک بات کام کی کہی، انہوں نے کہا- لوگو تمہیں معلوم ہے کہ قریش مکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جانی دشمن ہیں، اگر تم ان سے کوئی عہد و قرار کرنے لگو تو پہلے سمجھ لینا کہ یہ ایک نازک اور مشکل کام ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے عہد و پیمان سرخ و سیاہ لڑائیوں کو دعوت دینا ہے، ( سرخ و سیاہ لڑائی سے مراد سخت خونریز لڑائی ہے اور سیاہ لڑائی سے مراد تاریک انجام والی لڑائی مراد ہوتی ہے) جو کچھ کرو سوچ سمجھ کر کرو ورنہ بہتر ہے کہ کچھ بھی نہ کرو_,"*

*❀_ ان راستبازوں نے عباس رضی اللہ عنہ کو کچھ بھی جواب نہ دیا، ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کچھ ارشاد فرمائیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اللہ کا کلام جو اللہ کا پیغام انسان کی طرف ہے، پڑھ کر سنایا، جس کے سننے سے وہ ایمان و ایقان کے نور سے بھرپور ہوگئے، اب سب لوگوں نے عرض کیا کہ اللہ کے نبی ہمارے شہر میں چل کر بسیں تاکہ ہمیں پورا پورا فیض حاصل ہو سکے،*

*❀_ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:-_ کیا تم دین حق کی اشاعت میں میری پوری پوری مدد کرو گے؟ اور جب میں تمہارے شہر میں جا بسوں اور میرے ساتھیوں کی حمایت اپنے اہل وعیال کی مانند کرو گے ؟ ایمان والوں نے پوچھا:- ایسا کرنے کا ہم کو معاوضہ کیا ملے گا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :- بہشت (جو نجات اور اللہ کی خوشنودی کا محل ہے )*
*❀_ ایمان والوں نے عرض کیا:- اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ تو ہماری تسلی فرما دیجئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو کبھی چھوڑ تو نہ دیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:- میرا جینا، میرا مرنا تمہارے ساتھ ہوگا_,*
*"_ اس آخری فکرے کا سننا تھا کہ عاشقان صداقت عجب سرور و نشاط کے ساتھ جانثاری کی بیعت اسلام کرنے لگے، براء بن معرور رضی اللہ عنہ پہلے بزرگ ہیں جنہوں نے اس شب سب سے پہلے بیعت کی،*
❤1
*❀_ ایک شیطان نے پہاڑ کی چوٹی سے یہ نظارہ دیکھا اور چیخ کر اہل مکہ کو پکار کر کہا :- لوگوں ! آؤ، دیکھو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے فرقے کے لوگ تم سے لڑائی کے مشورے کر رہے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :- تم اس آواز کی پرواہ نہ کرو، عباس بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا :- اگر حضور کی اجازت ہو تو ہم کل ہی مکہ والوں کو اپنی تلوار کے جوہر دکھا دیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا- نہیں مجھے جنگ کی اجازت نہیں _,"*
*( زادالمعاد -3/48)*

*📓 رحمة للعالمين ﷺ - مصنف قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری رحمۃ اللہ _,*
❤2
⚂⚂⚂.
▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁
✮┣ l ﺑِﺴْـــﻢِﷲِﺍﻟـﺮَّﺣـْﻤـَﻦِﺍلرَّﺣـِﻴﻢ ┫✮
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*■ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﷺ ■*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
★ *پوسٹ-30_* ★
─━━━════●■●════━━━─
*❀_ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے 12 نقیب :- اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے بارہ اشخاص کا انتخاب کیا اور ان کا نام نقیب رکھا اور یہ بھی فرمایا کہ جس طرح عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے اپنے لیے بارہ شخصوں کو چن لیا تھا اسی طرح میں تمہیں انتخاب کرتا ہوں، تاکہ اہل یثرب میں جا کر دین کی اشاعت کرو، مکہ والوں میں میں خود یہ کام کروں گا_,*

*❀_ ان کے نام یہ ہیں:- قبیلہ بنو خزرج کے 9 - اسد بن زرارہ رضی اللہ عنہ, رافع بن مالک رضی اللہ عنہ، عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ( یہ تینوں عقبہ اولیٰ میں بھی تھے) سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ، منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ، براہ بن معرور رضی اللہ عنہ، عبداللہ عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ، سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ،*
*"_ قبیلہ اوس کے 3 - اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ، سعد بن خیثمہ رضی اللہ عنہ، ابوالہشیم بن تیہان رضی اللہ عنہ،*

*❀_ عقبہ ثانیہ کی بیعت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مسلمانوں کو جو مکہ سے باہر نہ گئے تھے لیکن جن پر اب اتنے ظلم و ستم ہونے لگے تھے کہ پیارا وطن ان کے لیے آگ کا پہاڑ بن گیا، یثرب چلے جانے کی اجازت فرمادی، ان ایمان والوں کو گھربار، قریبی رشتے دار و اقارب ، باپ، بھائی، زن و فرزند کے چھوڑنے کا ذرا بھی غم نہ تھا بلکہ خوشی یہ تھی کہ یثرب جاکر اللہ وحدہٗ لاشریک کی عبادت پوری آسانی سے کر سکیں گے_,"*

*❀_ ہجرت کرنے والوں اور گھر بار چھوڑ کر جانے والوں کو قریش کی سخت مزاحمت کا مقابلہ کرنا پڑتا تھا، صہیب رومی رضی اللہ عنہ جب ہجرت کر کے جانے لگے تو قریش نے انہیں آ گھیرا، کہا - صہیب جب تو مکہ آیا تھا تو مفلس و قلاش تھا، یہاں ٹھہر کر تو نے ہزاروں کمائے، آج یہاں سے جاتا ہے اور چاہتا ہے کہ سب مال و زر لے کر چلا جائے گا، یہ تو کبھی نہیں ہونے والا، صہیب رضی اللہ عنہ نے کہا- اچھا اگر میں اپنا سارا مال و متاع تمہیں دے دوں تب تم مجھے جانے دو گے ؟ کہا- ہاں, حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے سارا مال انہیں دے دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ قصہ سن کر فرمایا کہ اس سودے میں صہیب رضی اللہ عنہ نے نفع کمایا _," ( سیرت ابن ہشام -168)*

*📓 رحمة للعالمين ﷺ - مصنف قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری رحمۃ اللہ _,*
⚂⚂⚂.
▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁
✮┣ l ﺑِﺴْـــﻢِﷲِﺍﻟـﺮَّﺣـْﻤـَﻦِﺍلرَّﺣـِﻴﻢ ┫✮
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*■ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﷺ ■*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
★ *پوسٹ-31_* ★
─━━━════●■●════━━━─
*❀_حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے شوہر ابو سلمہ رضی اللہ عنہ نے ہجرت کا ارادہ کیا، مجھے اونٹ پر چڑھیا، میری گود میں میرا بچہ سلمیٰ تھا، جب ہم چل پڑے تو بنو مغیرہ نے آکر ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کو گھیر لیا، کہا - تو جا سکتا ہے، مگر ہماری لڑکی کو نہیں لے جا سکتا، اب بنو عبدلاسد بھی آگئے، انہوں نے ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے کہا- تو جا سکتا ہے مگر بچہ کو جو ہمارے قبیلے کا بچہ ہے، تو نہیں لے جا سکتا,*

*❀_ غرض انہوں نے ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے اونٹ کی مہار لے کر اونٹ بٹھا دیا، بنو عبدالاسد تو گود کے بچے کو ماں سے چھین کے لے گئے اور بنو مغیرہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو لے آئے، ابو سلمہ رضی اللہ عنہ جو دین کے لیے ہجرت کرنا فرض سمجھتے تھے اپنے بیوی بچے کے بغیر روانہ ہوگئے _,"*

*❀_ ام سلمہ رضی اللہ عنہا روز شام کو اسی جگہ جہاں بچہ اور شوہر سے الگ ہو گئی تھی پہنچ جاتی، گھنٹوں رو دھو کر واپس آ جاتی، ایک سال اسی طرح روتے چلاتے گزر گیا، آخر ان کے ایک چچیرے بھائی کو رحم آیا اور ہر دو قبائل سے کہہ سن کر ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو اجازت دلا دی کہ اپنے شوہر کے پاس چلی جائے، بچہ بھی ان کو واپس دے دیا گیا، ام سلمہ رضی اللہ عنہا ایک اونٹ پر سوار ہو کر مدینہ کو تنہا چل دیں_," ( سیرت ابن ہشام- 108)*

*❀_ ایسی ہی مشکلات کا سامنا تقریباً ہر ایک صحابی کو کرنا پڑا تھا،*

*📓 رحمة للعالمين ﷺ - مصنف قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری رحمۃ اللہ _,*
⚂⚂⚂.
▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁
✮┣ l ﺑِﺴْـــﻢِﷲِﺍﻟـﺮَّﺣـْﻤـَﻦِﺍلرَّﺣـِﻴﻢ ┫✮
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*■ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﷺ ■*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
★ *پوسٹ-32_* ★
─━━━════●■●════━━━─
*❀_ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ عیاش رضی اللہ عنہ اور ہشام رضی اللہ عنہ صحابی بھی ان کے ساتھ مدینہ چلنے کو تیار ہوئے تھے، عیاش بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہ تو روانگی کے وقت جائے مقررہ پر پہنچ گئے، مگر ہشام بن العاص رضی اللہ عنہ کی بابت مشرکین کو خبر لگ گیی، ان کو قریش نے قید کر دیا، عیاش رضی اللہ عنہ مدینہ جا پہنچے تھے کہ ابوجہل اپنے بھائی حرث کے ساتھ مدینہ پہنچا، عیاش رضی اللہ عنہ ان کے چچیرے بھائی تھے اور تینوں کی ایک ماں تھی_,"*

*❀_ ابوجہل و حرث نے کہا کہ تمہارے بعد والدہ کی بری حالت ہو رہی ہے، اس نے قسم کھائی ہے کہ عیاش کا منہ دیکھنے تک نہ سر میں کنگھی کروں گی اور نہ سایہ میں بیٹھوں گی، اس لئے بھائی تم چلو اور ماں کو تسکین دے کر آ جانا _,"*
*❀_ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کہا - عیاش رضی اللہ عنہ مجھے تو یہ فریب معلوم ہوتا ہے، تمہاری ماں کے سر میں کوئی جوں پڑ گئی تو وہ خود ہی کنگھی کر لے گی اور مکہ کی دھوپ نے ذرا خبر لی تو وہ خود ہی سایہ میں جا بیٹھےگی، میری رائے تو یہ ہے کہ تم کو جانا نہیں چاہیے، عیاش رضی اللہ عنہ بولے - نہیں، میں والدہ کی قسم پوری کرکے واپس آ جاؤں گا، عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کہا - اچھا اگر یہی رائے ہے تو سواری کے لئے میری ناقہ لے جاؤ، یہ بہت تیز رفتار ہے، اگر راستے میں تمہیں ذرا بھی ان سے شبہ گزرے تو تم اس ناقہ پر باآسانی ان کی گرفت سے بچ کر آ سکو گے_,"*

*❀_ عیاش رضی اللہ عنہ نے ناقہ لے لی، یہ تینوں چل پڑے، ایک روز راہ میں (مکہ کے قریب) ابوجہل نے کہا- بھائی ہمارا اونٹ تو ناقہ کے ساتھ چلتا چلتا رہ گیا، بہتر ہے کہ تم مجھے اپنے ساتھ سوار کرلو، عیاش رضی اللہ عنہ بولے- بہتر, جب عیاش رضی اللہ عنہ نے ناقہ بٹھائیں تو دونوں بھائیوں نے انہیں پکڑ لیا، مشکیں کس لیں اور مکہ میں اسی طرح لے کر داخل ہوئے، یہ دونوں بڑے فخر سے کہتے تھے کہ دیکھو، بے وقوفوں، احمقوں کو یوں سجا دیا کرتے ہیں، اب عیاش کو بھی ہشام بن العاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ قید کر دیا گیا،*

*❀_ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ پہنچ گئے، تب حضور کی تمنا پوری کرنے کے لیے ولید بن مغیرہ رضی اللہ عنہ مکہ میں آئے، زندان خانے سے دونوں کو شباشب نکال کر لے گئے، ( سیرت ابن ہشام - 1/167)*

*❀_ ان حکایات سے قارئین یہ معلوم کر سکتے ہیں کہ ہجرت کے وقت بھی صحابہ کرام کو کیسی سخت مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا، گھر چھوڑنا بھی بلا خاص جدوجہد اور ابتلاء وامتحان کے آسان نہ تھا_,*

*📓 رحمة للعالمين ﷺ - مصنف قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری رحمۃ اللہ _,*
⚂⚂⚂.
▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁
✮┣ l ﺑِﺴْـــﻢِﷲِﺍﻟـﺮَّﺣـْﻤـَﻦِﺍلرَّﺣـِﻴﻢ ┫✮
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*■ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﷺ ■*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
★ *پوسٹ-33_* ★
─━━━════●■●════━━━─
*❀_نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کی تدبیر :- جب صحابہ کرام مکہ میں گنتی کے رہ گئے اور مشہور صحابہ میں سے صرف ابوبکر و علی رضی اللہ عنہم ہی باقی رہے تو قریش مکہ نے کہا کہ اب محمد ﷺ کے قتل کر دینے کا اچھا موقع ہے، تدبیر قتل پر غور کرنے کے لیے دارلندوہ میں خفیہ اجلاس ہوا، دار الندوہ کو قصی بن کلاب نے قائم کیا تھا، یہ گویا قریش کا ایوان ( مکان) پارلیمنٹ تھا، اس اجلاس میں نجدی کا ایک تجربہ کار بوڑھا شیطان بھی آ کر شامل ہوا تھا اور قریش کے مشہور قبائل میں سے مشہور سردار موجود تھے، ایک بولا- اسے پکڑ کر گلے میں طوق و زنجیر ڈال کر ایک مکان میں قید کر دو اور مکان کا دروازہ دہ تیغہ کر دوں تاکہ یہ بھی زہیر و نابعہ شاعروں کی موت کا مزہ چکھنا ہوا مر جائے، بوڑھا نجدی بولا - نہیں، یہ ٹھیک نہیں، محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے قید ہونے کی خبر باہر نکلے بغیر نہ رہے گی, مسلمان اسے چھڑا لے جائیں گے اور طاقت پا کر تمہیں بھی فنا کر دیں گے_,"*

*❀_ دوسرا بولا - ایک سرکش اونٹ پر بٹھلا کر ہم اسے یہاں سے نکال دیں، ہماری طرف سے کہیں جائے، کہیں رہے، جی جئیے چاہے مرے، بوڑھا نجدی بولا - نہیں یہ رائے بھی ٹھیک نہیں, کیا تم محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی دلائل آویز باتوں کو بھول گئے ہو، کیا تم نہیں دیکھتے کہ وہ جس سے بات کرتا ہے اس کو اپنا بنا لیتا ہے، وہ دلوں پر کیسی آسانی سے قابو پا لیتا ہے، جہاں جائے گا، وہیں کے باشندے اس کے ساتھ لگ جائیں گے اور وہ بالآخر تم سے اپنے نبی کا بدلہ لے کے چھوڑیں گے_, آخر ابوجہل نے ایسی تدبیر بتلائیں جسے تمام جلسہ نے بلا اتفاق منظورکرلیا- تجویز اور تدبیر یہ تھی کہ عرب کے ہر ایک مشہور قبیلے سے ایک ایک جواں مرد کا انتخاب کیا جائے، یہ سب بہادر رات کی تاریکی میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے گھر کو گھیر لیں اور جب محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) صبح کی نماز کے لیے باہر نکلے, اس وقت یہ سب سے بہادر اپنی اپنی تلوار سے وار کریں اور اس کی بوٹی بوٹی کر دیں، اس تدبیر کا یہ فائدہ بتایا گیا کہ جس قتل میں تمام قبیلے شامل ہوں گے، اس کا بدلہ نہ تو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا قبیلہ لے سکے گا اور نہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کو سچا ماننے والے کچھ شر و فساد اٹھا سکیں گے_,*

*❀_ انسانی تدبیر کے مقابلے میں الہی تدبیر:- انسانی تدبیر کے مقابلے اب الہی طاقت اور ربانی حمایت کو دیکھیے کہ جب رات کو ان لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر آ گھیرا، اس وقت اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیارے بھائی علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا- تم میرے بستر پر میری چادر لے کر سو رہو، ذرا فکر نہ کرنا، کوئی شخص تمہارا بال بھی بیکا نہ کر سکے گا، حضرت علی رضی اللہ عنہ تو ان تلواروں کے سائے میں نہایت بے فکری سے مزے کی نیند سو رہے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی حفاظت میں باہر نکلے اور ان دل کے اندھوں کی آنکھوں میں خاک ڈالتے ہوئے اور سورہ یسن پڑھتے ہوئے صاف نکل گئے، کسی نے نبی صلی وسلم کو جاتے نہ دیکھا، یہ واقعہ 27 صفر 13 نبوت بروز جمعرات (12 ستمبر 621) کا ہے،*

*❀_ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پیارے دوست ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر پہنچے اور انہوں نے جلدی سے سفر کا ضروری سامان درست کیا، ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیٹی اسماء رضی اللہ عنہا نے اپنا کمر بند کاٹ کر ستوؤں کے تھیلے کا منہ باندھ دیا، اسی شب کی تاریکی میں دونوں بزرگوار چل پڑے، مکہ سے چار میل کے فاصلے پر کوہ ثور ہے، اس کی چڑھائی سر توڑ ہے، راستہ سنگلاخ تھا، نوکیلے پتھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نازک پاؤں کو زخمی کر رہے تھے اور ٹھوکر لگنے سے بھی تکلیف ہوتی تھی، ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے کندھے پر اٹھا لیا اور ایک غار پر پہنچے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو باہر ٹھہرایا، خود اندر جا کر غار کو صاف کیا، تن کے کپڑے پھاڑ پھاڑ کر غار کے سوراخ بند کیے اور پھر عرض کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئیں _, صبح ہوئی حضرت علی رضی اللہ عنہ حسب معمول خواب سے بیدار ہوئے، قریش نے قریب جا کر انہیں پہچانا، پوچھا - محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا- مجھے کیا خبر, کیا میرا پہرہ تھا، تم لوگوں نے انہیں نکل جانے دیا اور وہ نکل گئے، قریش غصے اور ندامت سے علی رضی اللہ عنہ پر پل پڑے، ان کو مارا اور خانہ کعبہ تک پکڑ لائے اور تھوڑی دیر کے لئے رکھا، آخر چھوڑ دیا _,*
❤1
*❀_ اب قریش ابو بکر رضی اللہ عنہ کے گھر آئے، دروازہ کھٹکھٹایا، اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا باہر نکلی، ابو جہل نے پوچھا- لڑکی تیرا باپ کدھر ہے ؟ وہ بولی- بخدا مجھے معلوم نہیں، بدزبان ابوجہل نے ایسا طمانچہ کھینچ مارا کہ اسماء رضی اللہ عنہا کے کان کی بالی نیچے گر گئی_,*
*( طبری -247)*

*📓 رحمة للعالمين ﷺ - مصنف قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری رحمۃ اللہ _,*
⚂⚂⚂.
▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁
✮┣ l ﺑِﺴْـــﻢِﷲِﺍﻟـﺮَّﺣـْﻤـَﻦِﺍلرَّﺣـِﻴﻢ ┫✮
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*■ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﷺ ■*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
★ *پوسٹ-34_* ★
─━━━════●■●════━━━─
*❀_ ایک لڑکی کی قوت ایمانی :- ہجرت کے متعلق ایک چھوٹی سی بات قابل ذکر ہے کہ اسماء بنت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے والد جاتے ہوئے گھر سے نقد روپیہ سب اٹھا کر لے گئے تھے، یہ پانچ یا چھ ہزار روپے تھے، والد کے چلے جانے کے بعد میرے دادا ابو قحافہ نے کہا- بیٹی میں سمجھتا ہوں کہ ابو بکر نے تم کو دوہری مصیبت میں ڈال دیا ہے، وہ خود بھی چلا گیا اور نقد و مال بھی ساتھ لے گیا_,"*

*❀_ ابو قحافہ اس وقت تک مسلمان نہ ہوئے تھے، فتح مکہ کے دن یہ مسلمان ہوئے تھے، ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے خاندان کو جملہ صحابہ میں یہ خاص خصوصیت حاصل ہے کہ ان کے خاندان کی چار نسلیں صحابی ہیں_,*

*❀_ اسماء رضی اللہ عنہا بولی :- نہیں دادا جان، وہ ہمارے لئے کافی روپیہ چھوڑ گئے ہیں، اسماء رضی اللہ عنہا نے ایک پتھر لیا، اس پر کپڑا لپیٹا اور جس گھڑے میں روپیہ ہوا کرتا تھا وہاں رکھ دیا اور پھر دادا کا ہاتھ پکڑ کر لے گئی، ابو قحافہ کی آنکھیں جاتی رہی تھیں، کہا - دادا جان ہاتھ لگا کر دیکھو کہ مال موجود ہے،*

*❀_ بوڑھے نے اسے ٹٹولا اور پھر کہا:- خیر جب تمہارے پاس سرمایہ کافی ہے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے جانے کا اس قدر غم نہیں، یہ ابو بکر نے اچھا کیا اور میں سمجھتا ہوں کہ تمہارے لئے کافی انتظام کر گیا ہے_,"*

*❀_ اسماء رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ یہ تدبیر میں نے بوڑھے دادا کے اطمینان قلب کے لئے کی تھی ورنہ والد بزرگوار تو سب کچھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کے لیے ساتھ لے گئے تھے_,*
*®_( ابن ہشام -173)"*

*📓 رحمة للعالمين ﷺ - مصنف قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری رحمۃ اللہ _,*