تاریخ اسلام اور اسلامی کہانیاں
8.71K subscribers
870 photos
2.06K videos
43 files
2.85K links
کسی بھی قوم کا رابطہ اگر اپنے ماضی سے ٹوٹ جائے تو اس قوم کا نام و نشان تک باقی نہیں رہتا امت مسلمہ کی تاریخ قیامت تک آنے والے مسلمانوں کے لئے ایک عظیم سرمایہ ہے مسلم تاریخ کی عظیم شخصیات اور بے مثال فتوحات اس چینل میں بیان کی جائے گی-
Download Telegram
میرے ساتھ چلو، میں پہلے اندر جا کر دیکھ لوں گا، اگر اس وقت ملنا مناسب نہ ہو گا تو میں دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑا ہو جاؤں گا، گویا جوتا درست کر رہا ہوں_,*
*❀_ ‌الغرض ابوذر رضی اللہ عنہ علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ خدمات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں پہنچے اور عرض کیا کہ مجھے بتلایا جائے کہ اسلام کیا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی بابت بیان فرمایا اور ابوذر رضی اللہ عنہ اسی وقت مسلمان ہو گئے_,*

*❀_ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا- ابو ذر ! تم ابھی اس بات کو چھپائے رکھوں اور اپنے وطن کو چلے جاؤ, جب تمہیں ہمارے ظہور کی خبر مل جائے تب آ جانا, ابو ذر رضی اللہ عنہ بولے- بخدا ! میں تو ان دشمنوں میں اعلان کرنے جاؤں گا، اب ابوذر رضی اللہ عنہ کعبہ کی طرف آئے، قریش جمع تھے، انہوں نے سب کو سنا کر باآواز بلند کلمہ شہادت پڑھا، قریش نے کہا- اس بے دین کو مارو، لوگوں نے انہیں مارنا شروع کر دیا، عباس رضی اللہ عنہ آگئے، انہوں نے انہیں جھک کر دیکھا اور کہا- کم بختوں ! یہ تو قبیلہ بنو غفار کا آدمی ہے, جہاں تم تجارت کو جاتے اور کھجوریں لاتے ہو, لوگ ہٹ گئے، اگلے دن انہوں نے پھر سب کو سنا کر کلمہ پڑھا، پھر لوگوں نے مارا اور عباس رضی اللہ عنہ نے ان کو چھوڑایا اور یہ اپنے وطن کو چلے آئے _,*
*( بخاری - 3522)*

*📓 رحمة للعالمين ﷺ - مصنف قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری رحمۃ اللہ _,*
❤1
⚂⚂⚂.
▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁
✮┣ l ﺑِﺴْـــﻢِﷲِﺍﻟـﺮَّﺣـْﻤـَﻦِﺍلرَّﺣـِﻴﻢ ┫✮
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*■ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﷺ ■*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
★ *پوسٹ-27_* ★
─━━━════●■●════━━━─
*❀_ اسباب ہجرت :- 11 نبوت کے موسم حج کا ذکر ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کی تاریکی میں شہر مکہ سے چند میل پرے مقام عقبہ پر لوگوں کو باتیں کرتے سنا، اس آواز پر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس پہنچے، یہ چھ آدمی تھے، امامہ اسعد بن زرارہ، عوف بن حارثہ، رافع بن مالک، قطبہ بن عامر بن حدید، عقبہ بن عامر اور سعد بن ربیع، یہ یثرب سے آئے تھے، ان کے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی عظمت و جلال کا بیان شروع کیا, ان کی محبت کو اللہ کے ساتھ گرمایا، بتوں سے ان کو نفرت دلائی، نیکی و پاکیزگی کی تعلیم دے کر گناہوں اور برائیوں سے منع فرمایا، قرآن مجید کی تلاوت فرما کر ان کے دلوں کو روشن فرمایا، یہ لوگ اگرچہ بت پرست تھے لیکن انہوں نے اپنے شہر کے یہودیوں کو بار بار یہ ذکر کرتے ہوئے سنا تھا کہ ایک نبی عنقریب ظاہر ہونے والا ہے، اس تعلیم سے وہ اسی وقت ایمان لے آئے اور جب اپنے وطن کو لوٹ کر گئے تو دین حق کے سچے مناد بن گئے _,"*

*❀_ وہ ہر ایک کو یہ خوشخبری سناتے تھے کہ وہ نبی ہیں، جس کا تمام عالم کو انتظار تھا، آ گیا، ہمارے کانوں نے ان کا کلام سنا، ہماری آنکھوں نے ان کا دیدار کیا، انہوں نے ہم کو زندہ رہنے والے الہ سے ملا دیا کہ دنیا کی زندگی اور موت اب ہمارے سامنے ہے، ان لوگوں کی بشارت لے جانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ یثرب کے گھر گھر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہونے لگا اور اگلے سال 12 نبوت کو یثرب کے 12 باشندے مکہ میں حاضر ہوئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیضان سے دولتِ ایمان حاصل کی، ان لوگوں نے جن باتوں پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بعیت کی تھی وہ یہ ہیں:-*
*(١) _ ہم رب واحد کی عبادت کریں گے اور کسی کو اس کا شریک نہیں بنائیں گے،*
*(٢)_ ہم چوری اور زنا کاری نہیں کریں گے،*
*(٣)_ ہم اپنی اولاد( لڑکیوں) کو قتل نہیں کریں گے,*
*(٤)_ ہم کسی پر جھوٹی تہمت نہیں لگائیں گے اور نہ کسی کی چغلی کیا کریں گے،*
*(٥)_ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہر ایک اچھی بات میں کیا کریں گے_,*

*📓 رحمة للعالمين ﷺ - مصنف قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری رحمۃ اللہ _,*
❤1
⚂⚂⚂.
▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁
✮┣ l ﺑِﺴْـــﻢِﷲِﺍﻟـﺮَّﺣـْﻤـَﻦِﺍلرَّﺣـِﻴﻢ ┫✮
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*■ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﷺ ■*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
★ *پوسٹ-28_* ★
─━━━════●■●════━━━─
*❀__ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ:- جب یہ لوگ واپس جانے لگے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تعلیم کے لیے مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو ساتھ کر دیا، مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ امیر گھرانے کے لاڈلے بیٹے تھے، جب گھوڑے پر سوار ہو کر نکلتے تو آگے پیچھے غلام چلا کرتے تھے، بدن پر دو سو درہم سے کم کی پوشاک کبھی نہیں پہنتے، پھر جب ان کو اسلام کے طفیل روحانی عیش حاصل ہوا تب ان جسمانی آرائش اور نمائش کو انہوں نے بالکل چھوڑ دیا تھا، جن دنوں یہ مدینہ میں دین حق کی منادی کرتے اور تبلیغ کیا کرتے تھے، ان دنوں ان کے کندھے پر صرف کمبل کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا ہوتا تھا، جسے اگلی طرف سے کیکر کے کانٹوں سے اٹکا لیا کرتے تھے_,"*

*❀_ بیعت عقبہ ثانیہ :- مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے گھر جاکر اترے تھے اور ان کو مدینے والے "المقرئ" (پڑھانے والا استاد ) کہا کرتے تھے، ایک دن مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ و اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ اور چند مسلمان " بیرمرق " پر جمع ہوئے، یہ غور کرنے کے لیے کہ نبی عبدالاشہل اور بنی ظفر میں کیوں کر اسلام کی منادی کی جائے_,"*
*❀_ سعد بن معاذ اور اسید بن حضیر ان قبائل کے سردار تھے اور ابھی مسلمان نہ ہوئے تھے، انہیں بھی خبر ہوئی، سعد بن معاذ نے اسید بن حضیر سے کہا- تم کس غفلت میں پڑے ہو دیکھو یہ دونوں ہمارے گھروں میں آکر ہمارے بیوقوفوں کو بہکانے لگے، تم جاؤ، انہیں جھڑک دو اور کہہ دو کہ ہمارے محلے میں پھر کبھی نہ آئیں، میں خود ایسا کرتا، مگر اس لیے خاموش ہوں کہ اسعد میری خالہ کا بیٹا ہے _,"*

*❀_ اسید بن حضیر اپنا ہتھیار لے کر روانہ ہوئے، اسعد رضی اللہ عنہ نے مصعب رضی اللہ عنہ کو کہا - دیکھو یہ قبیلے کا سردار آ رہا ہے، اللہ کرے کہ وہ تمہاری بات مان جائے، مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر وہ آکر بیٹھ گیا تو میں اس سے ضرور کلام کروں گا، اتنے میں اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ آ پہنچے اور کھڑے کھڑے گالیاں دیتے رہے اور یہ بھی کہا کہ ہمہارے احمق نادان لوگوں کو پھسلا نے آئے ہو _,*
*❀_مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے کہا:- کاش آپ بیٹھ کر کچھ سن لیں، اگر پسند آئے، قبول فرمائیں، نہ پسند ہو تو اسے چھوڑ جائیں، اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کہا- خیر کیا مضائقہ ہے، مصعب رضی اللہ عنہ نے سمجھایا کہ اسلام کیا ہے اور پھر انہیں قرآن مجید بھی پڑھ کر سنایا، اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے سب کچھ چپ چاپ سنا، بالآخر کہا- ہاں ! یہ بتلاؤ کہ جب کوئی تمہارے دین میں داخل ہونا چاہتا ہے تو تم کیا کرتے ہو ؟*
*❀_ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے کہا :- نہلا کر، پاک کپڑے پہنا کر کلمہ شہادت پڑھا دیتے ہیں اور دو رکعت نفل پڑھوا دیتے ہیں_, اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اٹھے، غسل کیا، کپڑے دھوئے، کلمہ شہادت پڑھا اور نفل ادا کیے، پھر کہا - میرے پیچھے ایک اور شخص ہے، اگر تمہارا پیروں ہو گیا تو پھر کوئی تمہارا مخالف نہ رہے گا اور میں جا کر ابھی تمہارے پاس بھیج دیتا ہوں_,"*
*❀_ اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ چلے گئے، ادھر سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ان کے انتظار میں تھے، دور سے چہرہ دیکھتے ہی بولے - دیکھو اسید کا وہ چہرہ نہیں ہے جو جاتے وقت تھا، جب اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ آ بیٹھے تو سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا ہوا ؟ اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ بولے - میں نے انہیں سمجھا دیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ہم تمہاری منشا کے خلاف کچھ نہ کریں گے, مگر وہاں تو ایک اور حادثہ پیش آیا، بنو حارثہ وہاں آگئے اور اسد بن زرارہ کو اس لیے قتل کرنے پر آمادہ ہیں کہ وہ تمہارا بھائی ہے_,"*

*❀_ یہ سن کر سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ غصہ میں بھر گئے اور اپنا حربہ سنبھال کر کھڑے ہو گئے، انہیں ڈر تھا کہ بنو حارثہ ان کے بھائی کو نہ مار ڈالے، انہوں نے چلتے وقت یہ بھی کہا کہ اسید تم تو کچھ بھی کام نہ بنا کے آئے _,*

*📓 رحمة للعالمين ﷺ - مصنف قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری رحمۃ اللہ _,*
⚂⚂⚂.
▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁
✮┣ l ﺑِﺴْـــﻢِﷲِﺍﻟـﺮَّﺣـْﻤـَﻦِﺍلرَّﺣـِﻴﻢ ┫✮
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*■ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﷺ ■*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
★ *پوسٹ- 29_* ★
─━━━════●■●════━━━─
*❀__ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے وعظ پر سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا ایمان قبول کرنا:- سعد وہاں پہنچے، دیکھا کہ مصعب رضی اللہ عنہ و اسد رضی اللہ عنہ دونوں اطمینان سے بیٹھے ہوئے ہیں، سعد رضی اللہ عنہ سمجھ گئے کہ اسید رضی اللہ عنہ نے مجھے ان کی باتیں سننے کے لیے بھیجا ہے، یہ خیال آتے ہی انہیں گالیاں دینے لگے اور اسد رضی اللہ عنہ کو یہ کہا کہ اگر میرے تمہارے درمیان قرابت نہ ہوتی تو تمہاری کیا مجال تھی کہ ہمارے محلے میں چلے آتے،*
*❀_ اسد رضی اللہ عنہ نے مصعب رضی اللہ عنہ سے کہا - دیکھو یہ بڑے سردار ہیں اور اگر ان کو سمجھا دو تو پھر کوئی دو آدمی بھی تمہارے مخالف نہ رہ جائیں گے _, مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے سعد سے کہا - آئیے بیٹھ جائیے، کوئی بات کریں، ہماری بات پسند آئے تو قبول فرمائیں ورنہ انکار کر دیجئے _"،*

*❀_ سعد رضی اللہ عنہ حربہ رکھ کر بیٹھ گئے، مصعب رضی اللہ عنہ نے ان کے سامنے اسلام کے حقیقت بیان کی اور قرآن مجید بھی سنایا، آخر سعد رضی اللہ عنہ نے بھی وہی سوال کیا جو اسید رضی اللہ عنہ نے کیا تھا، الغرض سعد رضی اللہ عنہ اٹھے، غسل کیا، کپڑے دھوئے، کلمہ پڑھا، نفل ادا کیے اور ہتھیار لے کر اپنی مجلس میں واپس آئے، آتے ہی اپنے قبیلے کے لوگوں کو پکار کر کہا - اے بنی عبد الاشہل ! تم لوگوں کی میرے بارے میں کیا رائے ہے ؟ سب نے کہا کہ تم ہمارے سردار ہو، تمہاری رائے، تمہاری تلاش بہتر اور اعلٰی ہوتی ہے، سعد رضی اللہ عنہ بولے- سنو خواں کوئی مرد ہے یا عورت، میں اس سے بات کرنا حرام سمجھتا ہوں جب تک کہ وہ اللہ اور رسول صل اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لائے _,*
*❀_ ان کے کہنے کا یہ اثر ہوا کہ بنی عبدالاشہل میں شام تک کوئی مرد اسلام سے خالی نہ رہا اور تمام قبیلہ ایک دن میں مسلمان ہو گیا، مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی تعلیم سے اسلام کا چرچا اسی طرح انصار کے تمام قبیلوں میں پھیل گیا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اگلے سال 13 نبوت کو تہتر (73) مرد دو (2) عورتیں یثرب کے قافلے میں مل کر مکہ آئے، ان کو یثرب کے اہل ایمان نے اس لیے بھی بھیجا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے شہر میں آنے کی دعوت دیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منظوری حاصل کریں _,*

*❀_ یہ راستبازوں کا گروہ اسی متہرک مقام پر جہاں دو سال سے اس شہری یثرب کے مشتاق حاضر ہوا کرتے تھے، رات کی تاریکی میں پہنچ گیا اور اللہ کے برگزیدہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنے تایا عباس رضی اللہ عنہ کو ساتھ لیے ہوئے وہاں جا پہنچے،(طبری-244)*
*❀_ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے ( جو ابھی مسلمان نہ ہوئے تھے) اس وقت ایک بات کام کی کہی، انہوں نے کہا- لوگو تمہیں معلوم ہے کہ قریش مکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جانی دشمن ہیں، اگر تم ان سے کوئی عہد و قرار کرنے لگو تو پہلے سمجھ لینا کہ یہ ایک نازک اور مشکل کام ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے عہد و پیمان سرخ و سیاہ لڑائیوں کو دعوت دینا ہے، ( سرخ و سیاہ لڑائی سے مراد سخت خونریز لڑائی ہے اور سیاہ لڑائی سے مراد تاریک انجام والی لڑائی مراد ہوتی ہے) جو کچھ کرو سوچ سمجھ کر کرو ورنہ بہتر ہے کہ کچھ بھی نہ کرو_,"*

*❀_ ان راستبازوں نے عباس رضی اللہ عنہ کو کچھ بھی جواب نہ دیا، ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کچھ ارشاد فرمائیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اللہ کا کلام جو اللہ کا پیغام انسان کی طرف ہے، پڑھ کر سنایا، جس کے سننے سے وہ ایمان و ایقان کے نور سے بھرپور ہوگئے، اب سب لوگوں نے عرض کیا کہ اللہ کے نبی ہمارے شہر میں چل کر بسیں تاکہ ہمیں پورا پورا فیض حاصل ہو سکے،*

*❀_ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:-_ کیا تم دین حق کی اشاعت میں میری پوری پوری مدد کرو گے؟ اور جب میں تمہارے شہر میں جا بسوں اور میرے ساتھیوں کی حمایت اپنے اہل وعیال کی مانند کرو گے ؟ ایمان والوں نے پوچھا:- ایسا کرنے کا ہم کو معاوضہ کیا ملے گا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :- بہشت (جو نجات اور اللہ کی خوشنودی کا محل ہے )*
*❀_ ایمان والوں نے عرض کیا:- اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ تو ہماری تسلی فرما دیجئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو کبھی چھوڑ تو نہ دیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:- میرا جینا، میرا مرنا تمہارے ساتھ ہوگا_,*
*"_ اس آخری فکرے کا سننا تھا کہ عاشقان صداقت عجب سرور و نشاط کے ساتھ جانثاری کی بیعت اسلام کرنے لگے، براء بن معرور رضی اللہ عنہ پہلے بزرگ ہیں جنہوں نے اس شب سب سے پہلے بیعت کی،*
❤1
*❀_ ایک شیطان نے پہاڑ کی چوٹی سے یہ نظارہ دیکھا اور چیخ کر اہل مکہ کو پکار کر کہا :- لوگوں ! آؤ، دیکھو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے فرقے کے لوگ تم سے لڑائی کے مشورے کر رہے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :- تم اس آواز کی پرواہ نہ کرو، عباس بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا :- اگر حضور کی اجازت ہو تو ہم کل ہی مکہ والوں کو اپنی تلوار کے جوہر دکھا دیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا- نہیں مجھے جنگ کی اجازت نہیں _,"*
*( زادالمعاد -3/48)*

*📓 رحمة للعالمين ﷺ - مصنف قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری رحمۃ اللہ _,*
❤2
⚂⚂⚂.
▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁
✮┣ l ﺑِﺴْـــﻢِﷲِﺍﻟـﺮَّﺣـْﻤـَﻦِﺍلرَّﺣـِﻴﻢ ┫✮
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*■ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﷺ ■*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
★ *پوسٹ-30_* ★
─━━━════●■●════━━━─
*❀_ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے 12 نقیب :- اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے بارہ اشخاص کا انتخاب کیا اور ان کا نام نقیب رکھا اور یہ بھی فرمایا کہ جس طرح عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے اپنے لیے بارہ شخصوں کو چن لیا تھا اسی طرح میں تمہیں انتخاب کرتا ہوں، تاکہ اہل یثرب میں جا کر دین کی اشاعت کرو، مکہ والوں میں میں خود یہ کام کروں گا_,*

*❀_ ان کے نام یہ ہیں:- قبیلہ بنو خزرج کے 9 - اسد بن زرارہ رضی اللہ عنہ, رافع بن مالک رضی اللہ عنہ، عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ( یہ تینوں عقبہ اولیٰ میں بھی تھے) سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ، منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ، براہ بن معرور رضی اللہ عنہ، عبداللہ عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ، سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ،*
*"_ قبیلہ اوس کے 3 - اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ، سعد بن خیثمہ رضی اللہ عنہ، ابوالہشیم بن تیہان رضی اللہ عنہ،*

*❀_ عقبہ ثانیہ کی بیعت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مسلمانوں کو جو مکہ سے باہر نہ گئے تھے لیکن جن پر اب اتنے ظلم و ستم ہونے لگے تھے کہ پیارا وطن ان کے لیے آگ کا پہاڑ بن گیا، یثرب چلے جانے کی اجازت فرمادی، ان ایمان والوں کو گھربار، قریبی رشتے دار و اقارب ، باپ، بھائی، زن و فرزند کے چھوڑنے کا ذرا بھی غم نہ تھا بلکہ خوشی یہ تھی کہ یثرب جاکر اللہ وحدہٗ لاشریک کی عبادت پوری آسانی سے کر سکیں گے_,"*

*❀_ ہجرت کرنے والوں اور گھر بار چھوڑ کر جانے والوں کو قریش کی سخت مزاحمت کا مقابلہ کرنا پڑتا تھا، صہیب رومی رضی اللہ عنہ جب ہجرت کر کے جانے لگے تو قریش نے انہیں آ گھیرا، کہا - صہیب جب تو مکہ آیا تھا تو مفلس و قلاش تھا، یہاں ٹھہر کر تو نے ہزاروں کمائے، آج یہاں سے جاتا ہے اور چاہتا ہے کہ سب مال و زر لے کر چلا جائے گا، یہ تو کبھی نہیں ہونے والا، صہیب رضی اللہ عنہ نے کہا- اچھا اگر میں اپنا سارا مال و متاع تمہیں دے دوں تب تم مجھے جانے دو گے ؟ کہا- ہاں, حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے سارا مال انہیں دے دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ قصہ سن کر فرمایا کہ اس سودے میں صہیب رضی اللہ عنہ نے نفع کمایا _," ( سیرت ابن ہشام -168)*

*📓 رحمة للعالمين ﷺ - مصنف قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری رحمۃ اللہ _,*
⚂⚂⚂.
▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁
✮┣ l ﺑِﺴْـــﻢِﷲِﺍﻟـﺮَّﺣـْﻤـَﻦِﺍلرَّﺣـِﻴﻢ ┫✮
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*■ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﷺ ■*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
★ *پوسٹ-31_* ★
─━━━════●■●════━━━─
*❀_حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے شوہر ابو سلمہ رضی اللہ عنہ نے ہجرت کا ارادہ کیا، مجھے اونٹ پر چڑھیا، میری گود میں میرا بچہ سلمیٰ تھا، جب ہم چل پڑے تو بنو مغیرہ نے آکر ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کو گھیر لیا، کہا - تو جا سکتا ہے، مگر ہماری لڑکی کو نہیں لے جا سکتا، اب بنو عبدلاسد بھی آگئے، انہوں نے ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے کہا- تو جا سکتا ہے مگر بچہ کو جو ہمارے قبیلے کا بچہ ہے، تو نہیں لے جا سکتا,*

*❀_ غرض انہوں نے ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے اونٹ کی مہار لے کر اونٹ بٹھا دیا، بنو عبدالاسد تو گود کے بچے کو ماں سے چھین کے لے گئے اور بنو مغیرہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو لے آئے، ابو سلمہ رضی اللہ عنہ جو دین کے لیے ہجرت کرنا فرض سمجھتے تھے اپنے بیوی بچے کے بغیر روانہ ہوگئے _,"*

*❀_ ام سلمہ رضی اللہ عنہا روز شام کو اسی جگہ جہاں بچہ اور شوہر سے الگ ہو گئی تھی پہنچ جاتی، گھنٹوں رو دھو کر واپس آ جاتی، ایک سال اسی طرح روتے چلاتے گزر گیا، آخر ان کے ایک چچیرے بھائی کو رحم آیا اور ہر دو قبائل سے کہہ سن کر ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو اجازت دلا دی کہ اپنے شوہر کے پاس چلی جائے، بچہ بھی ان کو واپس دے دیا گیا، ام سلمہ رضی اللہ عنہا ایک اونٹ پر سوار ہو کر مدینہ کو تنہا چل دیں_," ( سیرت ابن ہشام- 108)*

*❀_ ایسی ہی مشکلات کا سامنا تقریباً ہر ایک صحابی کو کرنا پڑا تھا،*

*📓 رحمة للعالمين ﷺ - مصنف قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری رحمۃ اللہ _,*
⚂⚂⚂.
▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁
✮┣ l ﺑِﺴْـــﻢِﷲِﺍﻟـﺮَّﺣـْﻤـَﻦِﺍلرَّﺣـِﻴﻢ ┫✮
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*■ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﷺ ■*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
★ *پوسٹ-32_* ★
─━━━════●■●════━━━─
*❀_ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ عیاش رضی اللہ عنہ اور ہشام رضی اللہ عنہ صحابی بھی ان کے ساتھ مدینہ چلنے کو تیار ہوئے تھے، عیاش بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہ تو روانگی کے وقت جائے مقررہ پر پہنچ گئے، مگر ہشام بن العاص رضی اللہ عنہ کی بابت مشرکین کو خبر لگ گیی، ان کو قریش نے قید کر دیا، عیاش رضی اللہ عنہ مدینہ جا پہنچے تھے کہ ابوجہل اپنے بھائی حرث کے ساتھ مدینہ پہنچا، عیاش رضی اللہ عنہ ان کے چچیرے بھائی تھے اور تینوں کی ایک ماں تھی_,"*

*❀_ ابوجہل و حرث نے کہا کہ تمہارے بعد والدہ کی بری حالت ہو رہی ہے، اس نے قسم کھائی ہے کہ عیاش کا منہ دیکھنے تک نہ سر میں کنگھی کروں گی اور نہ سایہ میں بیٹھوں گی، اس لئے بھائی تم چلو اور ماں کو تسکین دے کر آ جانا _,"*
*❀_ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کہا - عیاش رضی اللہ عنہ مجھے تو یہ فریب معلوم ہوتا ہے، تمہاری ماں کے سر میں کوئی جوں پڑ گئی تو وہ خود ہی کنگھی کر لے گی اور مکہ کی دھوپ نے ذرا خبر لی تو وہ خود ہی سایہ میں جا بیٹھےگی، میری رائے تو یہ ہے کہ تم کو جانا نہیں چاہیے، عیاش رضی اللہ عنہ بولے - نہیں، میں والدہ کی قسم پوری کرکے واپس آ جاؤں گا، عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کہا - اچھا اگر یہی رائے ہے تو سواری کے لئے میری ناقہ لے جاؤ، یہ بہت تیز رفتار ہے، اگر راستے میں تمہیں ذرا بھی ان سے شبہ گزرے تو تم اس ناقہ پر باآسانی ان کی گرفت سے بچ کر آ سکو گے_,"*

*❀_ عیاش رضی اللہ عنہ نے ناقہ لے لی، یہ تینوں چل پڑے، ایک روز راہ میں (مکہ کے قریب) ابوجہل نے کہا- بھائی ہمارا اونٹ تو ناقہ کے ساتھ چلتا چلتا رہ گیا، بہتر ہے کہ تم مجھے اپنے ساتھ سوار کرلو، عیاش رضی اللہ عنہ بولے- بہتر, جب عیاش رضی اللہ عنہ نے ناقہ بٹھائیں تو دونوں بھائیوں نے انہیں پکڑ لیا، مشکیں کس لیں اور مکہ میں اسی طرح لے کر داخل ہوئے، یہ دونوں بڑے فخر سے کہتے تھے کہ دیکھو، بے وقوفوں، احمقوں کو یوں سجا دیا کرتے ہیں، اب عیاش کو بھی ہشام بن العاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ قید کر دیا گیا،*

*❀_ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ پہنچ گئے، تب حضور کی تمنا پوری کرنے کے لیے ولید بن مغیرہ رضی اللہ عنہ مکہ میں آئے، زندان خانے سے دونوں کو شباشب نکال کر لے گئے، ( سیرت ابن ہشام - 1/167)*

*❀_ ان حکایات سے قارئین یہ معلوم کر سکتے ہیں کہ ہجرت کے وقت بھی صحابہ کرام کو کیسی سخت مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا، گھر چھوڑنا بھی بلا خاص جدوجہد اور ابتلاء وامتحان کے آسان نہ تھا_,*

*📓 رحمة للعالمين ﷺ - مصنف قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری رحمۃ اللہ _,*
⚂⚂⚂.
▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁
✮┣ l ﺑِﺴْـــﻢِﷲِﺍﻟـﺮَّﺣـْﻤـَﻦِﺍلرَّﺣـِﻴﻢ ┫✮
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*■ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﷺ ■*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
★ *پوسٹ-33_* ★
─━━━════●■●════━━━─
*❀_نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کی تدبیر :- جب صحابہ کرام مکہ میں گنتی کے رہ گئے اور مشہور صحابہ میں سے صرف ابوبکر و علی رضی اللہ عنہم ہی باقی رہے تو قریش مکہ نے کہا کہ اب محمد ﷺ کے قتل کر دینے کا اچھا موقع ہے، تدبیر قتل پر غور کرنے کے لیے دارلندوہ میں خفیہ اجلاس ہوا، دار الندوہ کو قصی بن کلاب نے قائم کیا تھا، یہ گویا قریش کا ایوان ( مکان) پارلیمنٹ تھا، اس اجلاس میں نجدی کا ایک تجربہ کار بوڑھا شیطان بھی آ کر شامل ہوا تھا اور قریش کے مشہور قبائل میں سے مشہور سردار موجود تھے، ایک بولا- اسے پکڑ کر گلے میں طوق و زنجیر ڈال کر ایک مکان میں قید کر دو اور مکان کا دروازہ دہ تیغہ کر دوں تاکہ یہ بھی زہیر و نابعہ شاعروں کی موت کا مزہ چکھنا ہوا مر جائے، بوڑھا نجدی بولا - نہیں، یہ ٹھیک نہیں، محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے قید ہونے کی خبر باہر نکلے بغیر نہ رہے گی, مسلمان اسے چھڑا لے جائیں گے اور طاقت پا کر تمہیں بھی فنا کر دیں گے_,"*

*❀_ دوسرا بولا - ایک سرکش اونٹ پر بٹھلا کر ہم اسے یہاں سے نکال دیں، ہماری طرف سے کہیں جائے، کہیں رہے، جی جئیے چاہے مرے، بوڑھا نجدی بولا - نہیں یہ رائے بھی ٹھیک نہیں, کیا تم محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی دلائل آویز باتوں کو بھول گئے ہو، کیا تم نہیں دیکھتے کہ وہ جس سے بات کرتا ہے اس کو اپنا بنا لیتا ہے، وہ دلوں پر کیسی آسانی سے قابو پا لیتا ہے، جہاں جائے گا، وہیں کے باشندے اس کے ساتھ لگ جائیں گے اور وہ بالآخر تم سے اپنے نبی کا بدلہ لے کے چھوڑیں گے_, آخر ابوجہل نے ایسی تدبیر بتلائیں جسے تمام جلسہ نے بلا اتفاق منظورکرلیا- تجویز اور تدبیر یہ تھی کہ عرب کے ہر ایک مشہور قبیلے سے ایک ایک جواں مرد کا انتخاب کیا جائے، یہ سب بہادر رات کی تاریکی میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے گھر کو گھیر لیں اور جب محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) صبح کی نماز کے لیے باہر نکلے, اس وقت یہ سب سے بہادر اپنی اپنی تلوار سے وار کریں اور اس کی بوٹی بوٹی کر دیں، اس تدبیر کا یہ فائدہ بتایا گیا کہ جس قتل میں تمام قبیلے شامل ہوں گے، اس کا بدلہ نہ تو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا قبیلہ لے سکے گا اور نہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کو سچا ماننے والے کچھ شر و فساد اٹھا سکیں گے_,*

*❀_ انسانی تدبیر کے مقابلے میں الہی تدبیر:- انسانی تدبیر کے مقابلے اب الہی طاقت اور ربانی حمایت کو دیکھیے کہ جب رات کو ان لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر آ گھیرا، اس وقت اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیارے بھائی علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا- تم میرے بستر پر میری چادر لے کر سو رہو، ذرا فکر نہ کرنا، کوئی شخص تمہارا بال بھی بیکا نہ کر سکے گا، حضرت علی رضی اللہ عنہ تو ان تلواروں کے سائے میں نہایت بے فکری سے مزے کی نیند سو رہے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی حفاظت میں باہر نکلے اور ان دل کے اندھوں کی آنکھوں میں خاک ڈالتے ہوئے اور سورہ یسن پڑھتے ہوئے صاف نکل گئے، کسی نے نبی صلی وسلم کو جاتے نہ دیکھا، یہ واقعہ 27 صفر 13 نبوت بروز جمعرات (12 ستمبر 621) کا ہے،*

*❀_ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پیارے دوست ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر پہنچے اور انہوں نے جلدی سے سفر کا ضروری سامان درست کیا، ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیٹی اسماء رضی اللہ عنہا نے اپنا کمر بند کاٹ کر ستوؤں کے تھیلے کا منہ باندھ دیا، اسی شب کی تاریکی میں دونوں بزرگوار چل پڑے، مکہ سے چار میل کے فاصلے پر کوہ ثور ہے، اس کی چڑھائی سر توڑ ہے، راستہ سنگلاخ تھا، نوکیلے پتھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نازک پاؤں کو زخمی کر رہے تھے اور ٹھوکر لگنے سے بھی تکلیف ہوتی تھی، ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے کندھے پر اٹھا لیا اور ایک غار پر پہنچے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو باہر ٹھہرایا، خود اندر جا کر غار کو صاف کیا، تن کے کپڑے پھاڑ پھاڑ کر غار کے سوراخ بند کیے اور پھر عرض کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئیں _, صبح ہوئی حضرت علی رضی اللہ عنہ حسب معمول خواب سے بیدار ہوئے، قریش نے قریب جا کر انہیں پہچانا، پوچھا - محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا- مجھے کیا خبر, کیا میرا پہرہ تھا، تم لوگوں نے انہیں نکل جانے دیا اور وہ نکل گئے، قریش غصے اور ندامت سے علی رضی اللہ عنہ پر پل پڑے، ان کو مارا اور خانہ کعبہ تک پکڑ لائے اور تھوڑی دیر کے لئے رکھا، آخر چھوڑ دیا _,*
❤1
*❀_ اب قریش ابو بکر رضی اللہ عنہ کے گھر آئے، دروازہ کھٹکھٹایا، اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا باہر نکلی، ابو جہل نے پوچھا- لڑکی تیرا باپ کدھر ہے ؟ وہ بولی- بخدا مجھے معلوم نہیں، بدزبان ابوجہل نے ایسا طمانچہ کھینچ مارا کہ اسماء رضی اللہ عنہا کے کان کی بالی نیچے گر گئی_,*
*( طبری -247)*

*📓 رحمة للعالمين ﷺ - مصنف قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری رحمۃ اللہ _,*
⚂⚂⚂.
▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁
✮┣ l ﺑِﺴْـــﻢِﷲِﺍﻟـﺮَّﺣـْﻤـَﻦِﺍلرَّﺣـِﻴﻢ ┫✮
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
*■ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﷺ ■*
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
★ *پوسٹ-34_* ★
─━━━════●■●════━━━─
*❀_ ایک لڑکی کی قوت ایمانی :- ہجرت کے متعلق ایک چھوٹی سی بات قابل ذکر ہے کہ اسماء بنت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے والد جاتے ہوئے گھر سے نقد روپیہ سب اٹھا کر لے گئے تھے، یہ پانچ یا چھ ہزار روپے تھے، والد کے چلے جانے کے بعد میرے دادا ابو قحافہ نے کہا- بیٹی میں سمجھتا ہوں کہ ابو بکر نے تم کو دوہری مصیبت میں ڈال دیا ہے، وہ خود بھی چلا گیا اور نقد و مال بھی ساتھ لے گیا_,"*

*❀_ ابو قحافہ اس وقت تک مسلمان نہ ہوئے تھے، فتح مکہ کے دن یہ مسلمان ہوئے تھے، ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے خاندان کو جملہ صحابہ میں یہ خاص خصوصیت حاصل ہے کہ ان کے خاندان کی چار نسلیں صحابی ہیں_,*

*❀_ اسماء رضی اللہ عنہا بولی :- نہیں دادا جان، وہ ہمارے لئے کافی روپیہ چھوڑ گئے ہیں، اسماء رضی اللہ عنہا نے ایک پتھر لیا، اس پر کپڑا لپیٹا اور جس گھڑے میں روپیہ ہوا کرتا تھا وہاں رکھ دیا اور پھر دادا کا ہاتھ پکڑ کر لے گئی، ابو قحافہ کی آنکھیں جاتی رہی تھیں، کہا - دادا جان ہاتھ لگا کر دیکھو کہ مال موجود ہے،*

*❀_ بوڑھے نے اسے ٹٹولا اور پھر کہا:- خیر جب تمہارے پاس سرمایہ کافی ہے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے جانے کا اس قدر غم نہیں، یہ ابو بکر نے اچھا کیا اور میں سمجھتا ہوں کہ تمہارے لئے کافی انتظام کر گیا ہے_,"*

*❀_ اسماء رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ یہ تدبیر میں نے بوڑھے دادا کے اطمینان قلب کے لئے کی تھی ورنہ والد بزرگوار تو سب کچھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کے لیے ساتھ لے گئے تھے_,*
*®_( ابن ہشام -173)"*

*📓 رحمة للعالمين ﷺ - مصنف قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری رحمۃ اللہ _,*