میرے دوستو! جب دشمن کا خطرہ ٹل گیا تو دونوں حضرات نے پھر سے مدینہ منوره کی جانب سفر شروع فرما دیا، حضرتِ اَبُو بَكْر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ساری رات چلتے رہے، دن میں بھی سفر جاری رکھا یہاں تک کہ دوپہر ہو گئی، تو ہمیں ایک بڑی چٹان نظر آئی جس کا سایہ کافی لمبا تھا تو میں نےعرض كيا : اے اللہ کے رسولﷺ! آپ یہاں نیند فرما لیجیے.ذرا دیکھیے! کیسی عظیم قربانى او ربے مثال محبت ہے کہ حضرت اَبُو بَكْر صِدِّ يق رضی اللہ عنہ خود بھی رات بھر آپ علیہ السلام کے ساتھ چلتے رہے، تو کیا انہوں نے اپنی نیند کو ترجیح دی اور کیا انہوں خود آرام كرنا پسند كيا ؟ نہیں، ہرگز نہیں، بلکہ فرماتے ہیں: خَرَجْتُ... فَإِذَا أَنَا بِرَاعٍ فَقُلْتُ: أَفَتَحْلُبُ لِي؟ قَالَ: نَعَمْ... فَأَتَيْتُهُ ﷺ... فَشَرِبَ حَتَّى رَضِيتُ،پھر میں یہ دیکھنے کیلئے نکلا کہ کہیں دشمن ہماری تلاش میں یہاں تک نہ آچکے ہوں، ذرا آگے بڑھا تو بكريوں كےایک چرواہے کودیکھا، تو ميں نے اس سے کہا کہ کیا تم میرے لیے دودھ دوہ سکتے ہو؟ اس نے کہا ہاں بالکل، چنانچہ اس نے میرے لیے کچھ دودھ دوہا، پھر میں وه لے کر نبی کریمﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اورعرض کیا: یہ دودھ پی لیجئے، آپ علیہ السلام نے اسے نوش فرمایا تو میرا دل خوش ہو گیا، اللہ اکبر، کیا ایمان تھا، کیا عشقِ رسول تھا کہ دودھ تو اللہ کے نبی ﷺنے پیا مگر پیاس صِدِّ يقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی بجھی، چنانچہ ایک سچے عاشق کی یہی شان ہوتی ہے کہ وہ محبوب کی خوشی میں خوش ہوتا ہے، جیسا کہ سيدنا اَبُو بَكْر صِدِّ يق رضی اللہ عنہ آپ علیہ السلام کو راحت و سکون میں دیکھ کر خوش ہوئے، تو میرے بھائیو، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو رسول اللہ ﷺسے سچی محبت تهى اور يہ محبت ان کے دلوں کو صدق و اخلاص سے بھر دیتی تھی، اور اس کا پھل آپ علیہ السلام کی اتباع اور کامل اقتدا کی صورت میں ظاہر ہوتا تھا.
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ﴾.
أَقُولُ قَوْلِي هَذَا، وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ لِي وَلَكُمْ.
الْخُطْبَةُ الثَّانِيَةُ:
الْحَمْدُ لِلَّهِ وَحْدَهُ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى مَنْ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ.
أَمَّا بَعْدُ: نبی کریم ﷺ کے جانثارو! ہجرتِ نبوی ﷺکا یہ مبارک سفر مکمل ہوا اور جنابِ رسول اللہﷺ مدینہ منوره میں داخل ہوئے، تو آپ علیہ السلام کی آمد کے ساتھ ہی مدینہ کا گوشہ گوشہ جگمگا اٹھا، چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے:«أَضَاءَ مِنْهَا كُلُّ شَيْءٍ»، آپ ﷺکی تشریف آوری سے مدینہ کی ہر چیز روشن ہو گئی، اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ علیہ السلام سے اپنی سچی محبت او ر بے مثال وفاداری کا اس حد تك اظہار فرمایا، کہ ایک کہنے والے نے کہا: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا يُحِبُّ أَحَدًا؛ كَحُبِّ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ مُحَمَّدًا میں نے کسی کو کسی سے ایسی محبت کرتے نہیں دیکھا، جیسی محبت محمد کے صحابہ محمد سے کرتے ہیں، صلی اللہ علیہ وعلی آلہ واصحابہ اجمعین.
میرے دوستو! آپ علیہ السلام کی ہجرتِ مبارکہ سے ایسی سچی محبت آشکار ہوئی جو حقیقی پیروی کو جنم دیتی ہے، وفاداری کو پروان چڑھاتی ہے، اور قربانی کا جذبہ پیدا کرتی ہے؛ اسی لیے حضرت اَبُو بَكْر صِدِّ يق رضی اللہ عنہ نے اپنے محبوب جنابِ رسول اللہ ﷺکی خاطر اپنی جان، اپنے اہل و عیال اور اپنا مال سب کچھ وقف کر دیا.
میرے عزیز بھائیو! اسی طرح جو شخص اپنے وطن اور اپنی قیادت سے سچی محبت رکھتا ہے، وہ ان کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں صَرف کردیتا ہے، اپنا مال خرچ کرتا ہے، ضرورت پڑنے پر اپنی جان قربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتا، اور ہمیشہ اپنے وطن اور اپنی قیادت کے لیے خیر، ترقی، امن اور استحکام کی دعا کرتا رہتا ہے.
هَذَا وَصَلِّ اللَّهُمَّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا وَنَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ، وَارْضَ اللَّهُمَّ عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ وَعَلِيٍّ، وَعَنْ سَائِرِ الصَّحَابَةِ الْأَكْرَمِينَ.
اللَّهُمَّ احْفَظْ دَوْلَةَ الْإِمَارَاتِ مِنْ كُلِّ الْجِهَاتِ، وَاحْفَظْ قِيَادَتَهَا وَأَهْلَهَا، وَمَنْ يَعِيشُ عَلَى أَرْضِهَا.
اللَّهُمَّ احْفَظِ الشّيخ مُحَمَّد بْن زَايد رَئِيسَ الدَّوْلَةِ بِحِفْظِكَ، وَكُنْ لَهُ عَوْنًا وَسَنَدًا، وَبَارِكْ فِي عُمْرِهِ وَعَمَلِهِ، اللَّهُمَّ وَفِّقْهُ وَنُوَّابَهُ وَإِخْوَانَهُ حُكَّامَ الْإِمَارَاتِ، وَوَلِيَّ عَهْدِهِ الْأَمِينَ؛ لِمَا تُحِبُّهُ وَتَرْضَاهُ.
اللَّهُمَّ ارْحَمِ الشّيخ زَايد، وَالشّيخ رَاشِد، وَشُيُوخَ الْإِمَارَاتِ الَّذِينَ انْتَقَلُوا إِلَى رَحْمَتِكَ، وَأَدْخِلْهُمْ بِفَضْلِكَ فَسِيحَ جَنَّاتِكَ.
اللَّهُمَّ اشْمَلْ شُهَدَاءَ الْوَطَنِ بِرَحْمَتِكَ وَغُفْرَانِكَ.
اللَّهُمَّ ارْحَمِ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ: الْأَحْيَاءَ مِنْهُمْ وَالْأَمْوَاتَ.
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ﴾.
أَقُولُ قَوْلِي هَذَا، وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ لِي وَلَكُمْ.
الْخُطْبَةُ الثَّانِيَةُ:
الْحَمْدُ لِلَّهِ وَحْدَهُ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى مَنْ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ.
أَمَّا بَعْدُ: نبی کریم ﷺ کے جانثارو! ہجرتِ نبوی ﷺکا یہ مبارک سفر مکمل ہوا اور جنابِ رسول اللہﷺ مدینہ منوره میں داخل ہوئے، تو آپ علیہ السلام کی آمد کے ساتھ ہی مدینہ کا گوشہ گوشہ جگمگا اٹھا، چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے:«أَضَاءَ مِنْهَا كُلُّ شَيْءٍ»، آپ ﷺکی تشریف آوری سے مدینہ کی ہر چیز روشن ہو گئی، اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ علیہ السلام سے اپنی سچی محبت او ر بے مثال وفاداری کا اس حد تك اظہار فرمایا، کہ ایک کہنے والے نے کہا: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا يُحِبُّ أَحَدًا؛ كَحُبِّ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ مُحَمَّدًا میں نے کسی کو کسی سے ایسی محبت کرتے نہیں دیکھا، جیسی محبت محمد کے صحابہ محمد سے کرتے ہیں، صلی اللہ علیہ وعلی آلہ واصحابہ اجمعین.
میرے دوستو! آپ علیہ السلام کی ہجرتِ مبارکہ سے ایسی سچی محبت آشکار ہوئی جو حقیقی پیروی کو جنم دیتی ہے، وفاداری کو پروان چڑھاتی ہے، اور قربانی کا جذبہ پیدا کرتی ہے؛ اسی لیے حضرت اَبُو بَكْر صِدِّ يق رضی اللہ عنہ نے اپنے محبوب جنابِ رسول اللہ ﷺکی خاطر اپنی جان، اپنے اہل و عیال اور اپنا مال سب کچھ وقف کر دیا.
میرے عزیز بھائیو! اسی طرح جو شخص اپنے وطن اور اپنی قیادت سے سچی محبت رکھتا ہے، وہ ان کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں صَرف کردیتا ہے، اپنا مال خرچ کرتا ہے، ضرورت پڑنے پر اپنی جان قربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتا، اور ہمیشہ اپنے وطن اور اپنی قیادت کے لیے خیر، ترقی، امن اور استحکام کی دعا کرتا رہتا ہے.
هَذَا وَصَلِّ اللَّهُمَّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا وَنَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ، وَارْضَ اللَّهُمَّ عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ وَعَلِيٍّ، وَعَنْ سَائِرِ الصَّحَابَةِ الْأَكْرَمِينَ.
اللَّهُمَّ احْفَظْ دَوْلَةَ الْإِمَارَاتِ مِنْ كُلِّ الْجِهَاتِ، وَاحْفَظْ قِيَادَتَهَا وَأَهْلَهَا، وَمَنْ يَعِيشُ عَلَى أَرْضِهَا.
اللَّهُمَّ احْفَظِ الشّيخ مُحَمَّد بْن زَايد رَئِيسَ الدَّوْلَةِ بِحِفْظِكَ، وَكُنْ لَهُ عَوْنًا وَسَنَدًا، وَبَارِكْ فِي عُمْرِهِ وَعَمَلِهِ، اللَّهُمَّ وَفِّقْهُ وَنُوَّابَهُ وَإِخْوَانَهُ حُكَّامَ الْإِمَارَاتِ، وَوَلِيَّ عَهْدِهِ الْأَمِينَ؛ لِمَا تُحِبُّهُ وَتَرْضَاهُ.
اللَّهُمَّ ارْحَمِ الشّيخ زَايد، وَالشّيخ رَاشِد، وَشُيُوخَ الْإِمَارَاتِ الَّذِينَ انْتَقَلُوا إِلَى رَحْمَتِكَ، وَأَدْخِلْهُمْ بِفَضْلِكَ فَسِيحَ جَنَّاتِكَ.
اللَّهُمَّ اشْمَلْ شُهَدَاءَ الْوَطَنِ بِرَحْمَتِكَ وَغُفْرَانِكَ.
اللَّهُمَّ ارْحَمِ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ: الْأَحْيَاءَ مِنْهُمْ وَالْأَمْوَاتَ.
عِبَادَ اللَّهِ: اذْكُرُوا اللَّهَ الْعَظِيمَ الْجَلِيلَ يَذْكُرْكُمْ، وَاشْكُرُوهُ عَلَى نِعَمِهِ يَزِدْكُمْ. وَأَقِمِ الصَّلَاةَ.
*FRIDAY UAE KHUTBA 12-06-2026* 🎙️🇦🇪
*The Prophetic Migration* ✨
*الهجرة النبوية*
*الخطبة الأولى*:
الحمد لله الولي الحميد، بلغنا بفضله العام الهجري الجديد، وأشهد أن لا إله إلا الله، وأشهد أن سيدنا ونبينا محمدا رسول الله، صلى الله وسلم عليه وعلى آله وصحبه ومن اتبع هداه.
أما بعد: فـ﴿يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله وكونوا مع الصادقين﴾.
أيها المؤمنون: نبارك لكم العام الهجري الجديد، الذي يحمل في طياته قيما ومعاني إيمانية جليلة، في مقدمتها: محبة النبي ﷺ، التي تجلت في مواقف أبي بكر الصديق رضي الله عنه؛ فحين أخبره ﷺ بهجرته قال: الصحبة يا رسول الله. قال ﷺ: «الصحبة». قالت عائشة رضي الله عنها: فوالله ما شعرت... أن أحدا يبكي من الفرح حتى رأيت أبا بكر يبكي يومئذ فرحا. أي حب هذا؟ يعلم أن الطريق محفوف بالمخاطر، وعيناه تفيضان فرحا! والأعجب أنه كان يخشى على حبيبه ﷺ أكثر من نفسه، حتى قال له ﷺ: «ما لك تمشي ساعة بين يدي وساعة خلفي؟». فقال: أذكر الطلب، فأمشي خلفك، ثم أذكر الرصد، فأمشي بين يديك، فقال: «يا أبا بكر، لو كان شيء أحببت أن يكون بك دوني؟». قال: نعم، والذي بعثك بالحق... فلما انتهى إلى الغار، قال: مكانك يا رسول الله، حتى أستبرئ لك الغار أي: أؤمنه لك. ولما أحدق الخطر، قال الصديق بلسان الخائف على حبيبه: لو أن أحدهم نظر تحت قدميه لأبصرنا فقال ﷺ: «ما ظنك يا أبا بكر باثنين، الله ثالثهما»، ﴿فأنزل الله سكينته عليه وأيده بجنود لم تروها﴾، ثم انطلقا، قال الصديق رضي الله عنه: أسرينا ليلتنا كلها، حتى قام قائم الظهيرة... ورفعت لنا صخرة طويلة لها ظل... قلت: نم يا رسول الله. انظروا إلى عظم الحب! سار معه الليل كله، فهل آثر نومه؟ كلا، بل قال: خرجت... فإذا أنا براع فقلت: أفتحلب لي؟ قال: نعم... فأتيته ﷺ... فشرب حتى رضيت، الله أكبر! شرب النبي ﷺ، فارتوى أبو بكر؛ فالمحب الصادق تكون سعادته في راحة محبوبه. وهكذا كانت محبة النبي ﷺ تملأ القلوب صدقا وإخلاصا، وتثمر طاعة واقتداء.
﴿يا أيها الذين آمنوا أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولي الأمر منكم﴾.
أقول قولي هذا، وأستغفر الله لي ولكم.
الخطبة الثانية:
الحمد لله وحده، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده.
أما بعد: فيا أيها المحبون لنبيكم ﷺ: مضت الرحلة المباركة، ودخل ﷺ المدينة، فـ«أضاء منها كل شيء»، وأحاطه أصحابه رضي الله عنهم بمحبتهم الصادقة، حتى قال قائل: ما رأيت أحدا يحب أحدا؛ كحب أصحاب محمد محمدا،
هكذا أسفرت الهجرة عن المحبة التي تثمر التأسي والولاء والتضحية؛ إذ سخر الصديق نفسه وأسرته وماله لحبيبه ﷺ، وكذلك من أحب وطنه وقيادته؛ بذل جهده وماله ونفسه لهما، ودعا بدوام الخير والأمان عليهما.
هذا وصل اللهم وسلم وبارك على سيدنا ونبينا محمد، وارض اللهم عن أبي بكر وعمر وعثمان وعلي، وعن سائر الصحابة الأكرمين.
اللهم احفظ دولة الإمارات من كل الجهات، واحفظ قيادتها وأهلها، ومن يعيش على أرضها.
اللهم احفظ الشيخ محمد بن زايد رئيس الدولة بحفظك، وكن له عونا وسندا، وبارك في عمره وعمله، اللهم وفقه ونوابه وإخوانه حكام الإمارات، وولي عهده الأمين؛ لما تحبه وترضاه.
اللهم ارحم الشيخ زايد، والشيخ راشد، وشيوخ الإمارات الذين انتقلوا إلى رحمتك، وأدخلهم بفضلك فسيح جناتك.
اللهم اشمل شهداء الوطن برحمتك وغفرانك.
اللهم ارحم المسلمين والمسلمات: الأحياء منهم والأموات.
عباد الله: اذكروا الله العظيم الجليل يذكركم، واشكروه على نعمه يزدكم. وأقم الصلاة.
*The Prophetic Migration* ✨
*الهجرة النبوية*
*الخطبة الأولى*:
الحمد لله الولي الحميد، بلغنا بفضله العام الهجري الجديد، وأشهد أن لا إله إلا الله، وأشهد أن سيدنا ونبينا محمدا رسول الله، صلى الله وسلم عليه وعلى آله وصحبه ومن اتبع هداه.
أما بعد: فـ﴿يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله وكونوا مع الصادقين﴾.
أيها المؤمنون: نبارك لكم العام الهجري الجديد، الذي يحمل في طياته قيما ومعاني إيمانية جليلة، في مقدمتها: محبة النبي ﷺ، التي تجلت في مواقف أبي بكر الصديق رضي الله عنه؛ فحين أخبره ﷺ بهجرته قال: الصحبة يا رسول الله. قال ﷺ: «الصحبة». قالت عائشة رضي الله عنها: فوالله ما شعرت... أن أحدا يبكي من الفرح حتى رأيت أبا بكر يبكي يومئذ فرحا. أي حب هذا؟ يعلم أن الطريق محفوف بالمخاطر، وعيناه تفيضان فرحا! والأعجب أنه كان يخشى على حبيبه ﷺ أكثر من نفسه، حتى قال له ﷺ: «ما لك تمشي ساعة بين يدي وساعة خلفي؟». فقال: أذكر الطلب، فأمشي خلفك، ثم أذكر الرصد، فأمشي بين يديك، فقال: «يا أبا بكر، لو كان شيء أحببت أن يكون بك دوني؟». قال: نعم، والذي بعثك بالحق... فلما انتهى إلى الغار، قال: مكانك يا رسول الله، حتى أستبرئ لك الغار أي: أؤمنه لك. ولما أحدق الخطر، قال الصديق بلسان الخائف على حبيبه: لو أن أحدهم نظر تحت قدميه لأبصرنا فقال ﷺ: «ما ظنك يا أبا بكر باثنين، الله ثالثهما»، ﴿فأنزل الله سكينته عليه وأيده بجنود لم تروها﴾، ثم انطلقا، قال الصديق رضي الله عنه: أسرينا ليلتنا كلها، حتى قام قائم الظهيرة... ورفعت لنا صخرة طويلة لها ظل... قلت: نم يا رسول الله. انظروا إلى عظم الحب! سار معه الليل كله، فهل آثر نومه؟ كلا، بل قال: خرجت... فإذا أنا براع فقلت: أفتحلب لي؟ قال: نعم... فأتيته ﷺ... فشرب حتى رضيت، الله أكبر! شرب النبي ﷺ، فارتوى أبو بكر؛ فالمحب الصادق تكون سعادته في راحة محبوبه. وهكذا كانت محبة النبي ﷺ تملأ القلوب صدقا وإخلاصا، وتثمر طاعة واقتداء.
﴿يا أيها الذين آمنوا أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولي الأمر منكم﴾.
أقول قولي هذا، وأستغفر الله لي ولكم.
الخطبة الثانية:
الحمد لله وحده، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده.
أما بعد: فيا أيها المحبون لنبيكم ﷺ: مضت الرحلة المباركة، ودخل ﷺ المدينة، فـ«أضاء منها كل شيء»، وأحاطه أصحابه رضي الله عنهم بمحبتهم الصادقة، حتى قال قائل: ما رأيت أحدا يحب أحدا؛ كحب أصحاب محمد محمدا،
هكذا أسفرت الهجرة عن المحبة التي تثمر التأسي والولاء والتضحية؛ إذ سخر الصديق نفسه وأسرته وماله لحبيبه ﷺ، وكذلك من أحب وطنه وقيادته؛ بذل جهده وماله ونفسه لهما، ودعا بدوام الخير والأمان عليهما.
هذا وصل اللهم وسلم وبارك على سيدنا ونبينا محمد، وارض اللهم عن أبي بكر وعمر وعثمان وعلي، وعن سائر الصحابة الأكرمين.
اللهم احفظ دولة الإمارات من كل الجهات، واحفظ قيادتها وأهلها، ومن يعيش على أرضها.
اللهم احفظ الشيخ محمد بن زايد رئيس الدولة بحفظك، وكن له عونا وسندا، وبارك في عمره وعمله، اللهم وفقه ونوابه وإخوانه حكام الإمارات، وولي عهده الأمين؛ لما تحبه وترضاه.
اللهم ارحم الشيخ زايد، والشيخ راشد، وشيوخ الإمارات الذين انتقلوا إلى رحمتك، وأدخلهم بفضلك فسيح جناتك.
اللهم اشمل شهداء الوطن برحمتك وغفرانك.
اللهم ارحم المسلمين والمسلمات: الأحياء منهم والأموات.
عباد الله: اذكروا الله العظيم الجليل يذكركم، واشكروه على نعمه يزدكم. وأقم الصلاة.
*FRIDAY UAE KHUTBA 12-06-2026* 🎙️🇦🇪
*The Prophetic Migration* ✨
*الهجرة النبوية*
യുഎഇ വെള്ളിയാഴ്ച ഖുത്ബ 12-06-2026 🎙️🇦🇪
പ്രവാചകന്റെ ഹിജ്റ
✨
الهجرة النبوية
ആദ്യ ഖുത്ബ
സർവ്വ സ്തുതിയും സംരക്ഷകനും സ്തുത്യർഹനുമായ അല്ലാഹുവിനാണ്. അവന്റെ അനുഗ്രഹത്താൽ ഒരു പുതിയ ഹിജ്റ വർഷത്തിന്റെ ആരംഭം കാണാൻ നമുക്ക് അവസരം ലഭിച്ചു. അല്ലാഹുവല്ലാതെ ആരാധനാർഹനായ മറ്റാരുമില്ലെന്ന് ഞാൻ സാക്ഷ്യം വഹിക്കുന്നു. നമ്മുടെ നേതാവും പ്രവാചകനുമായ മുഹമ്മദ് ﷺ അല്ലാഹുവിന്റെ ദൂതനാണെന്നും ഞാൻ സാക്ഷ്യം വഹിക്കുന്നു. അദ്ദേഹത്തിനും കുടുംബത്തിനും സ്വഹാബികൾക്കും അദ്ദേഹത്തിന്റെ മാർഗം പിന്തുടരുന്ന എല്ലാവർക്കും അല്ലാഹുവിന്റെ അനുഗ്രഹവും സമാധാനവും ഉണ്ടാകട്ടെ.
ഇനി പറയാനുള്ളത്:
അല്ലാഹു പറയുന്നു:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ﴾
“വിശ്വസിച്ചവരേ! അല്ലാഹുവിനെ സൂക്ഷിക്കുക, സത്യസന്ധരോടൊപ്പം ആയിരിക്കുക.” (തൗബ: 119)
വിശ്വാസികളേ,
പുതിയ ഹിജ്റ വർഷത്തിന്റെ വരവിൽ നിങ്ങളെ അഭിനന്ദിക്കുന്നു. ഈ വർഷം വിശ്വാസത്തിന്റെ ആഴമേറിയ പാഠങ്ങളും ആത്മീയമായ മഹത്തായ സന്ദേശങ്ങളും ഉൾക്കൊള്ളുന്നു. അതിൽ പ്രധാനപ്പെട്ടത് പ്രവാചകൻ മുഹമ്മദ് ﷺ യോടുള്ള സ്നേഹമാണ്.
ഈ സ്നേഹത്തിന്റെ ഏറ്റവും മനോഹരമായ ഉദാഹരണം അബൂബക്കർ അസ്സിദ്ദീഖ് (റ) ആയിരുന്നു. നബി ﷺ ഹിജ്റയെക്കുറിച്ച് അറിയിച്ചപ്പോൾ അബൂബക്കർ (റ) ഉടൻ പറഞ്ഞു:
“യാ റസൂലല്ലാഹ്, നിങ്ങളുടെ സഹവാസം എനിക്കും ലഭിക്കുമോ?”
നബി ﷺ മറുപടി നൽകി:
“നിന്റെ സഹവാസം തന്നെയാണ്.” (ബുഖാരി)
ആയിഷ (റ) പിന്നീട് പറഞ്ഞു:
“ആനന്ദം കൊണ്ട് ഒരാൾ കരയുമെന്ന് ഞാൻ അറിഞ്ഞിരുന്നില്ല. അബൂബക്കർ (റ) അന്ന് സന്തോഷം കൊണ്ട് കരയുന്നത് കണ്ടപ്പോഴാണ് അത് മനസ്സിലായത്.”
ഇത് എത്ര വലിയ സ്നേഹമായിരുന്നു!
മുന്നിലുള്ള യാത്ര അപകടങ്ങൾ നിറഞ്ഞതാണെന്ന് അദ്ദേഹം അറിഞ്ഞിരുന്നു. എന്നിട്ടും അദ്ദേഹത്തിന്റെ കണ്ണുകൾ സന്തോഷക്കണ്ണീരാൽ നിറഞ്ഞു.
അതിനേക്കാൾ അത്ഭുതകരമായത്, അദ്ദേഹം സ്വന്തം ജീവനെക്കാൾ നബി ﷺ യുടെ സുരക്ഷയെക്കുറിച്ചാണ് കൂടുതൽ ആശങ്കപ്പെട്ടത്.
ഒരു ദിവസം നബി ﷺ ചോദിച്ചു:
“എന്തുകൊണ്ടാണ് ചിലപ്പോൾ നീ എന്റെ മുന്നിലും ചിലപ്പോൾ പിന്നിലും നടക്കുന്നത്?”
അബൂബക്കർ (റ) മറുപടി നൽകി:
“പിന്തുടരുന്നവരെ ഓർക്കുമ്പോൾ ഞാൻ പിന്നിൽ നടക്കുന്നു. മുന്നിൽ പതിയിരിപ്പ് ഉണ്ടാകുമോ എന്ന് ചിന്തിക്കുമ്പോൾ ഞാൻ മുന്നിൽ നടക്കുന്നു.”
അപ്പോൾ നബി ﷺ ചോദിച്ചു:
“അബൂബക്കറേ, എന്തെങ്കിലും അപകടം സംഭവിക്കേണ്ടിവന്നാൽ അത് എനിക്ക് പകരം നിനക്കാകണമെന്നാണോ നീ ആഗ്രഹിക്കുന്നത്?”
അദ്ദേഹം മറുപടി നൽകി:
“അതെ, നിങ്ങളെ സത്യവുമായി അയച്ച അല്ലാഹുവാണ് സാക്ഷി.”
അവർ ഗുഹയിലെത്തിയപ്പോൾ അബൂബക്കർ (റ) പറഞ്ഞു:
“യാ റസൂലല്ലാഹ്, നിങ്ങൾ ഇവിടെ നിൽക്കുക. ഞാൻ ആദ്യം ഗുഹ പരിശോധിക്കട്ടെ.”
അതായത്, നബി ﷺ ക്ക് സുരക്ഷിതമാണെന്ന് ഉറപ്പാക്കാൻ.
അപകടം അടുത്തെത്തിയപ്പോൾ അബൂബക്കർ (റ) ഭയത്തോടെ പറഞ്ഞു:
“അവരിൽ ഒരാൾ കാലിനടിയിലേക്ക് നോക്കിയാൽ പോലും നമ്മെ കാണും.”
അപ്പോൾ നബി ﷺ പറഞ്ഞു:
“അബൂബക്കറേ, മൂന്നാമനായി അല്ലാഹു കൂടെയുള്ള രണ്ട് പേരെക്കുറിച്ച് നിനക്ക് എന്താണ് തോന്നുന്നത്?” (ബുഖാരി, മുസ്ലിം)
ഈ സംഭവത്തെക്കുറിച്ച് അല്ലാഹു പറയുന്നു:
﴿لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا﴾
“വിഷമിക്കേണ്ട, അല്ലാഹു നമ്മോടൊപ്പമുണ്ട്.” (തൗബ: 40)
ശേഷം അവർ യാത്ര തുടർന്നു.
അബൂബക്കർ (റ) പറയുന്നു:
“ഞങ്ങൾ രാത്രി മുഴുവൻ യാത്ര ചെയ്തു. ഉച്ചയുടെ ചൂട് വന്നപ്പോൾ തണൽ നൽകുന്ന ഒരു വലിയ പാറ കണ്ടു. ഞാൻ പറഞ്ഞു: ‘യാ റസൂലല്ലാഹ്, കുറച്ച് വിശ്രമിക്കൂ.’”
ഈ സ്നേഹത്തിന്റെ മഹത്വം ചിന്തിച്ചുനോക്കൂ!
രാത്രി മുഴുവൻ യാത്ര ചെയ്തിട്ടും അദ്ദേഹം സ്വന്തം വിശ്രമത്തെക്കുറിച്ച് ചിന്തിച്ചില്ല.
പകരം അദ്ദേഹം ഒരു ഇടയനെ കണ്ടെത്തി പാൽ വാങ്ങി നബി ﷺ ക്ക് കൊണ്ടുവന്നു.
അദ്ദേഹം പറയുന്നു:
“നബി ﷺ പാൽ കുടിച്ചു. അദ്ദേഹം തൃപ്തനാകുന്നതുവരെ കുടിച്ചു. അപ്പോൾ എനിക്കാണ് സംതൃപ്തി ലഭിച്ചത്.” (ബുഖാരി, മുസ്ലിം)
അല്ലാഹു അക്ബർ!
ﷺ കുടിച്ചു; അബൂബക്കർ (റ) സന്തുഷ്ടനായി.
യഥാർത്ഥ സ്നേഹിതൻ തന്റെ പ്രിയപ്പെട്ടവന്റെ സന്തോഷത്തിലാണ് സ്വന്തം സന്തോഷം കണ്ടെത്തുന്നത്.
ഇതായിരുന്നു പ്രവാചകനോടുള്ള സ്നേഹം—അനുസരണവും വിശ്വസ്തതയും ത്യാഗവും വളർത്തിയ സ്നേഹം.
അല്ലാഹു പറയുന്നു:
﴿أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ﴾
“അല്ലാഹുവിനെയും അവന്റെ ദൂതനെയും നിങ്ങളിലെ അധികാരികളെയും അനുസരിക്കുക.” (നിസാഃ: 59)
ഞാൻ പറഞ്ഞ ഈ വാക്കുകളോടെ എനിക്കും നിങ്ങൾക്കും വേണ്ടി അല്ലാഹുവിനോട് പാപമോചനം തേടുന്നു.
രണ്ടാം ഖുത്ബ
അല്ലാഹുവിനാണ് എല്ലാ സ്തുതിയും. അവസാന പ്രവാചകനായ മുഹമ്മദ് ﷺ ക്ക് സമാധാനവും അനുഗ്രഹവും ഉണ്ടാകട്ടെ.
പ്രവാചകനെ സ്നേഹിക്കുന്നവരേ,
അനുഗ്രഹീതമായ ഹിജ്റ യാത്ര ലക്ഷ്യസ്ഥാനത്ത് എത്തി. നബി ﷺ മദീനയിൽ പ്രവേശിച്ചു.
അനസ് ഇബ്നു മാലിക് (റ) പറയുന്നു:
“അദ്ദേഹം മദീനയിൽ പ്രവേശിച്ചപ്പോൾ അവിടെയുള്ള എല്ലാം പ്രകാശിതമായി.” (തിർമിദി)
*The Prophetic Migration* ✨
*الهجرة النبوية*
യുഎഇ വെള്ളിയാഴ്ച ഖുത്ബ 12-06-2026 🎙️🇦🇪
പ്രവാചകന്റെ ഹിജ്റ
✨
الهجرة النبوية
ആദ്യ ഖുത്ബ
സർവ്വ സ്തുതിയും സംരക്ഷകനും സ്തുത്യർഹനുമായ അല്ലാഹുവിനാണ്. അവന്റെ അനുഗ്രഹത്താൽ ഒരു പുതിയ ഹിജ്റ വർഷത്തിന്റെ ആരംഭം കാണാൻ നമുക്ക് അവസരം ലഭിച്ചു. അല്ലാഹുവല്ലാതെ ആരാധനാർഹനായ മറ്റാരുമില്ലെന്ന് ഞാൻ സാക്ഷ്യം വഹിക്കുന്നു. നമ്മുടെ നേതാവും പ്രവാചകനുമായ മുഹമ്മദ് ﷺ അല്ലാഹുവിന്റെ ദൂതനാണെന്നും ഞാൻ സാക്ഷ്യം വഹിക്കുന്നു. അദ്ദേഹത്തിനും കുടുംബത്തിനും സ്വഹാബികൾക്കും അദ്ദേഹത്തിന്റെ മാർഗം പിന്തുടരുന്ന എല്ലാവർക്കും അല്ലാഹുവിന്റെ അനുഗ്രഹവും സമാധാനവും ഉണ്ടാകട്ടെ.
ഇനി പറയാനുള്ളത്:
അല്ലാഹു പറയുന്നു:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ﴾
“വിശ്വസിച്ചവരേ! അല്ലാഹുവിനെ സൂക്ഷിക്കുക, സത്യസന്ധരോടൊപ്പം ആയിരിക്കുക.” (തൗബ: 119)
വിശ്വാസികളേ,
പുതിയ ഹിജ്റ വർഷത്തിന്റെ വരവിൽ നിങ്ങളെ അഭിനന്ദിക്കുന്നു. ഈ വർഷം വിശ്വാസത്തിന്റെ ആഴമേറിയ പാഠങ്ങളും ആത്മീയമായ മഹത്തായ സന്ദേശങ്ങളും ഉൾക്കൊള്ളുന്നു. അതിൽ പ്രധാനപ്പെട്ടത് പ്രവാചകൻ മുഹമ്മദ് ﷺ യോടുള്ള സ്നേഹമാണ്.
ഈ സ്നേഹത്തിന്റെ ഏറ്റവും മനോഹരമായ ഉദാഹരണം അബൂബക്കർ അസ്സിദ്ദീഖ് (റ) ആയിരുന്നു. നബി ﷺ ഹിജ്റയെക്കുറിച്ച് അറിയിച്ചപ്പോൾ അബൂബക്കർ (റ) ഉടൻ പറഞ്ഞു:
“യാ റസൂലല്ലാഹ്, നിങ്ങളുടെ സഹവാസം എനിക്കും ലഭിക്കുമോ?”
നബി ﷺ മറുപടി നൽകി:
“നിന്റെ സഹവാസം തന്നെയാണ്.” (ബുഖാരി)
ആയിഷ (റ) പിന്നീട് പറഞ്ഞു:
“ആനന്ദം കൊണ്ട് ഒരാൾ കരയുമെന്ന് ഞാൻ അറിഞ്ഞിരുന്നില്ല. അബൂബക്കർ (റ) അന്ന് സന്തോഷം കൊണ്ട് കരയുന്നത് കണ്ടപ്പോഴാണ് അത് മനസ്സിലായത്.”
ഇത് എത്ര വലിയ സ്നേഹമായിരുന്നു!
മുന്നിലുള്ള യാത്ര അപകടങ്ങൾ നിറഞ്ഞതാണെന്ന് അദ്ദേഹം അറിഞ്ഞിരുന്നു. എന്നിട്ടും അദ്ദേഹത്തിന്റെ കണ്ണുകൾ സന്തോഷക്കണ്ണീരാൽ നിറഞ്ഞു.
അതിനേക്കാൾ അത്ഭുതകരമായത്, അദ്ദേഹം സ്വന്തം ജീവനെക്കാൾ നബി ﷺ യുടെ സുരക്ഷയെക്കുറിച്ചാണ് കൂടുതൽ ആശങ്കപ്പെട്ടത്.
ഒരു ദിവസം നബി ﷺ ചോദിച്ചു:
“എന്തുകൊണ്ടാണ് ചിലപ്പോൾ നീ എന്റെ മുന്നിലും ചിലപ്പോൾ പിന്നിലും നടക്കുന്നത്?”
അബൂബക്കർ (റ) മറുപടി നൽകി:
“പിന്തുടരുന്നവരെ ഓർക്കുമ്പോൾ ഞാൻ പിന്നിൽ നടക്കുന്നു. മുന്നിൽ പതിയിരിപ്പ് ഉണ്ടാകുമോ എന്ന് ചിന്തിക്കുമ്പോൾ ഞാൻ മുന്നിൽ നടക്കുന്നു.”
അപ്പോൾ നബി ﷺ ചോദിച്ചു:
“അബൂബക്കറേ, എന്തെങ്കിലും അപകടം സംഭവിക്കേണ്ടിവന്നാൽ അത് എനിക്ക് പകരം നിനക്കാകണമെന്നാണോ നീ ആഗ്രഹിക്കുന്നത്?”
അദ്ദേഹം മറുപടി നൽകി:
“അതെ, നിങ്ങളെ സത്യവുമായി അയച്ച അല്ലാഹുവാണ് സാക്ഷി.”
അവർ ഗുഹയിലെത്തിയപ്പോൾ അബൂബക്കർ (റ) പറഞ്ഞു:
“യാ റസൂലല്ലാഹ്, നിങ്ങൾ ഇവിടെ നിൽക്കുക. ഞാൻ ആദ്യം ഗുഹ പരിശോധിക്കട്ടെ.”
അതായത്, നബി ﷺ ക്ക് സുരക്ഷിതമാണെന്ന് ഉറപ്പാക്കാൻ.
അപകടം അടുത്തെത്തിയപ്പോൾ അബൂബക്കർ (റ) ഭയത്തോടെ പറഞ്ഞു:
“അവരിൽ ഒരാൾ കാലിനടിയിലേക്ക് നോക്കിയാൽ പോലും നമ്മെ കാണും.”
അപ്പോൾ നബി ﷺ പറഞ്ഞു:
“അബൂബക്കറേ, മൂന്നാമനായി അല്ലാഹു കൂടെയുള്ള രണ്ട് പേരെക്കുറിച്ച് നിനക്ക് എന്താണ് തോന്നുന്നത്?” (ബുഖാരി, മുസ്ലിം)
ഈ സംഭവത്തെക്കുറിച്ച് അല്ലാഹു പറയുന്നു:
﴿لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا﴾
“വിഷമിക്കേണ്ട, അല്ലാഹു നമ്മോടൊപ്പമുണ്ട്.” (തൗബ: 40)
ശേഷം അവർ യാത്ര തുടർന്നു.
അബൂബക്കർ (റ) പറയുന്നു:
“ഞങ്ങൾ രാത്രി മുഴുവൻ യാത്ര ചെയ്തു. ഉച്ചയുടെ ചൂട് വന്നപ്പോൾ തണൽ നൽകുന്ന ഒരു വലിയ പാറ കണ്ടു. ഞാൻ പറഞ്ഞു: ‘യാ റസൂലല്ലാഹ്, കുറച്ച് വിശ്രമിക്കൂ.’”
ഈ സ്നേഹത്തിന്റെ മഹത്വം ചിന്തിച്ചുനോക്കൂ!
രാത്രി മുഴുവൻ യാത്ര ചെയ്തിട്ടും അദ്ദേഹം സ്വന്തം വിശ്രമത്തെക്കുറിച്ച് ചിന്തിച്ചില്ല.
പകരം അദ്ദേഹം ഒരു ഇടയനെ കണ്ടെത്തി പാൽ വാങ്ങി നബി ﷺ ക്ക് കൊണ്ടുവന്നു.
അദ്ദേഹം പറയുന്നു:
“നബി ﷺ പാൽ കുടിച്ചു. അദ്ദേഹം തൃപ്തനാകുന്നതുവരെ കുടിച്ചു. അപ്പോൾ എനിക്കാണ് സംതൃപ്തി ലഭിച്ചത്.” (ബുഖാരി, മുസ്ലിം)
അല്ലാഹു അക്ബർ!
ﷺ കുടിച്ചു; അബൂബക്കർ (റ) സന്തുഷ്ടനായി.
യഥാർത്ഥ സ്നേഹിതൻ തന്റെ പ്രിയപ്പെട്ടവന്റെ സന്തോഷത്തിലാണ് സ്വന്തം സന്തോഷം കണ്ടെത്തുന്നത്.
ഇതായിരുന്നു പ്രവാചകനോടുള്ള സ്നേഹം—അനുസരണവും വിശ്വസ്തതയും ത്യാഗവും വളർത്തിയ സ്നേഹം.
അല്ലാഹു പറയുന്നു:
﴿أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ﴾
“അല്ലാഹുവിനെയും അവന്റെ ദൂതനെയും നിങ്ങളിലെ അധികാരികളെയും അനുസരിക്കുക.” (നിസാഃ: 59)
ഞാൻ പറഞ്ഞ ഈ വാക്കുകളോടെ എനിക്കും നിങ്ങൾക്കും വേണ്ടി അല്ലാഹുവിനോട് പാപമോചനം തേടുന്നു.
രണ്ടാം ഖുത്ബ
അല്ലാഹുവിനാണ് എല്ലാ സ്തുതിയും. അവസാന പ്രവാചകനായ മുഹമ്മദ് ﷺ ക്ക് സമാധാനവും അനുഗ്രഹവും ഉണ്ടാകട്ടെ.
പ്രവാചകനെ സ്നേഹിക്കുന്നവരേ,
അനുഗ്രഹീതമായ ഹിജ്റ യാത്ര ലക്ഷ്യസ്ഥാനത്ത് എത്തി. നബി ﷺ മദീനയിൽ പ്രവേശിച്ചു.
അനസ് ഇബ്നു മാലിക് (റ) പറയുന്നു:
“അദ്ദേഹം മദീനയിൽ പ്രവേശിച്ചപ്പോൾ അവിടെയുള്ള എല്ലാം പ്രകാശിതമായി.” (തിർമിദി)
സ്വഹാബികൾ അദ്ദേഹത്തെ അത്രയും സ്നേഹിച്ചിരുന്നു. ഒരു നിരീക്ഷകൻ പറഞ്ഞു:
“മുഹമ്മദിന്റെ സ്വഹാബികൾ മുഹമ്മദ് ﷺ നെ സ്നേഹിച്ചതുപോലെ മറ്റാരെങ്കിലും മറ്റൊരാളെ സ്നേഹിക്കുന്നത് ഞാൻ കണ്ടിട്ടില്ല.”
ഹിജ്റ യഥാർത്ഥ സ്നേഹത്തിന്റെ അർത്ഥം വെളിപ്പെടുത്തി—അനുകരണവും വിശ്വസ്തതയും ത്യാഗവും ജനിപ്പിക്കുന്ന സ്നേഹം.
അബൂബക്കർ അസ്സിദ്ദീഖ് (റ) തന്റെ ജീവനും കുടുംബവും സമ്പത്തും പ്രവാചകന്റെ സേവനത്തിനായി സമർപ്പിച്ചു.
അതുപോലെ തന്നെ, സ്വന്തം രാജ്യത്തെയും നേതൃത്വത്തെയും സ്നേഹിക്കുന്നവൻ തന്റെ പരിശ്രമവും സമ്പത്തും രാജ്യത്തിന്റെ നന്മയ്ക്കായി സമർപ്പിക്കുകയും സുരക്ഷയ്ക്കും സമൃദ്ധിക്കും വേണ്ടി പ്രാർത്ഥിക്കുകയും ചെയ്യുന്നു.
അല്ലാഹുവേ, നമ്മുടെ നേതാവും പ്രവാചകനുമായ മുഹമ്മദ് ﷺ ക്ക് അനുഗ്രഹവും സമാധാനവും നൽകണമേ.
അബൂബക്കർ, ഉമർ, ഉസ്മാൻ, അലി (റ) എന്നിവരോടും എല്ലാ സ്വഹാബികളോടും നീ തൃപ്തനാകണമേ.
അല്ലാഹുവേ, യു.എ.ഇ.യെ എല്ലാ ദോഷങ്ങളിൽ നിന്നും സംരക്ഷിക്കണമേ. അതിന്റെ നേതൃത്വത്തെയും ജനങ്ങളെയും അതിൽ താമസിക്കുന്ന എല്ലാവരെയും കാത്തുസൂക്ഷിക്കണമേ.
അല്ലാഹുവേ, രാഷ്ട്രപതിയായ ശൈഖ് മുഹമ്മദ് ബിൻ സായിദിനെ സംരക്ഷിക്കണമേ. അദ്ദേഹത്തിന് സഹായവും പിന്തുണയും നൽകുകയും അദ്ദേഹത്തിന്റെ ജീവിതത്തിലും പ്രവർത്തനങ്ങളിലും അനുഗ്രഹം നൽകുകയും ചെയ്യണമേ.
അല്ലാഹുവേ, അദ്ദേഹത്തിനും ഉപരാഷ്ട്രപതിമാർക്കും എമിറേറ്റ്സിലെ ഭരണാധികാരികൾക്കും കിരീടാവകാശിക്കും നീ ഇഷ്ടപ്പെടുന്നതും പ്രസാദിക്കുന്നതുമായ കാര്യങ്ങളിൽ വിജയം നൽകണമേ.
അല്ലാഹുവേ, ശൈഖ് സായിദിനും ശൈഖ് റാഷിദിനും അന്തരിച്ച എല്ലാ ഭരണാധികാരികൾക്കും കരുണ നൽകുകയും അവരെ സ്വർഗ്ഗത്തിൽ പ്രവേശിപ്പിക്കുകയും ചെയ്യണമേ.
അല്ലാഹുവേ, രാജ്യത്തിനുവേണ്ടി ജീവത്യാഗം ചെയ്ത ശഹീദുമാരെ നിന്റെ കരുണയിലും പൊറുപ്പിലും ഉൾപ്പെടുത്തണമേ.
അല്ലാഹുവേ, ജീവിച്ചിരിക്കുന്നവരും മരണപ്പെട്ടവരുമായ എല്ലാ മുസ്ലിം പുരുഷന്മാർക്കും സ്ത്രീകൾക്കും കരുണ നൽകണമേ.
അല്ലാഹുവിന്റെ ദാസന്മാരേ, അല്ലാഹുവിനെ സ്മരിക്കൂ; അവൻ നിങ്ങളെ സ്മരിക്കും. അവന്റെ അനുഗ്രഹങ്ങൾക്ക് നന്ദി പറയൂ; അവൻ നിങ്ങളെ വർധിപ്പിക്കും.
“മുഹമ്മദിന്റെ സ്വഹാബികൾ മുഹമ്മദ് ﷺ നെ സ്നേഹിച്ചതുപോലെ മറ്റാരെങ്കിലും മറ്റൊരാളെ സ്നേഹിക്കുന്നത് ഞാൻ കണ്ടിട്ടില്ല.”
ഹിജ്റ യഥാർത്ഥ സ്നേഹത്തിന്റെ അർത്ഥം വെളിപ്പെടുത്തി—അനുകരണവും വിശ്വസ്തതയും ത്യാഗവും ജനിപ്പിക്കുന്ന സ്നേഹം.
അബൂബക്കർ അസ്സിദ്ദീഖ് (റ) തന്റെ ജീവനും കുടുംബവും സമ്പത്തും പ്രവാചകന്റെ സേവനത്തിനായി സമർപ്പിച്ചു.
അതുപോലെ തന്നെ, സ്വന്തം രാജ്യത്തെയും നേതൃത്വത്തെയും സ്നേഹിക്കുന്നവൻ തന്റെ പരിശ്രമവും സമ്പത്തും രാജ്യത്തിന്റെ നന്മയ്ക്കായി സമർപ്പിക്കുകയും സുരക്ഷയ്ക്കും സമൃദ്ധിക്കും വേണ്ടി പ്രാർത്ഥിക്കുകയും ചെയ്യുന്നു.
അല്ലാഹുവേ, നമ്മുടെ നേതാവും പ്രവാചകനുമായ മുഹമ്മദ് ﷺ ക്ക് അനുഗ്രഹവും സമാധാനവും നൽകണമേ.
അബൂബക്കർ, ഉമർ, ഉസ്മാൻ, അലി (റ) എന്നിവരോടും എല്ലാ സ്വഹാബികളോടും നീ തൃപ്തനാകണമേ.
അല്ലാഹുവേ, യു.എ.ഇ.യെ എല്ലാ ദോഷങ്ങളിൽ നിന്നും സംരക്ഷിക്കണമേ. അതിന്റെ നേതൃത്വത്തെയും ജനങ്ങളെയും അതിൽ താമസിക്കുന്ന എല്ലാവരെയും കാത്തുസൂക്ഷിക്കണമേ.
അല്ലാഹുവേ, രാഷ്ട്രപതിയായ ശൈഖ് മുഹമ്മദ് ബിൻ സായിദിനെ സംരക്ഷിക്കണമേ. അദ്ദേഹത്തിന് സഹായവും പിന്തുണയും നൽകുകയും അദ്ദേഹത്തിന്റെ ജീവിതത്തിലും പ്രവർത്തനങ്ങളിലും അനുഗ്രഹം നൽകുകയും ചെയ്യണമേ.
അല്ലാഹുവേ, അദ്ദേഹത്തിനും ഉപരാഷ്ട്രപതിമാർക്കും എമിറേറ്റ്സിലെ ഭരണാധികാരികൾക്കും കിരീടാവകാശിക്കും നീ ഇഷ്ടപ്പെടുന്നതും പ്രസാദിക്കുന്നതുമായ കാര്യങ്ങളിൽ വിജയം നൽകണമേ.
അല്ലാഹുവേ, ശൈഖ് സായിദിനും ശൈഖ് റാഷിദിനും അന്തരിച്ച എല്ലാ ഭരണാധികാരികൾക്കും കരുണ നൽകുകയും അവരെ സ്വർഗ്ഗത്തിൽ പ്രവേശിപ്പിക്കുകയും ചെയ്യണമേ.
അല്ലാഹുവേ, രാജ്യത്തിനുവേണ്ടി ജീവത്യാഗം ചെയ്ത ശഹീദുമാരെ നിന്റെ കരുണയിലും പൊറുപ്പിലും ഉൾപ്പെടുത്തണമേ.
അല്ലാഹുവേ, ജീവിച്ചിരിക്കുന്നവരും മരണപ്പെട്ടവരുമായ എല്ലാ മുസ്ലിം പുരുഷന്മാർക്കും സ്ത്രീകൾക്കും കരുണ നൽകണമേ.
അല്ലാഹുവിന്റെ ദാസന്മാരേ, അല്ലാഹുവിനെ സ്മരിക്കൂ; അവൻ നിങ്ങളെ സ്മരിക്കും. അവന്റെ അനുഗ്രഹങ്ങൾക്ക് നന്ദി പറയൂ; അവൻ നിങ്ങളെ വർധിപ്പിക്കും.
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌿 The Prophet ﷺ said:
“Whoever leaves something for the sake of Allah, Allah will replace it with something better.”
“Success is not only winning a trophy; success is obeying Allah when everyone else is doing otherwise.”
📖 “So avoid it that you may be successful.” — Surah Al-Ma’idah 5:90
“Whoever leaves something for the sake of Allah, Allah will replace it with something better.”
“Success is not only winning a trophy; success is obeying Allah when everyone else is doing otherwise.”
📖 “So avoid it that you may be successful.” — Surah Al-Ma’idah 5:90
യുഎഇ വെള്ളിയാഴ്ച ഖുത്ബ 19-06-2026 🎙️🇦🇪
നമ്മുടെ മുതിർന്നവരെ പരിപാലിക്കുക ✨
رعاية كبارنا
ആദ്യ ഖുത്ബ
സർവ്വ മഹത്വത്തിന്റെയും പ്രതാപത്തിന്റെയും ഉടമയായ അല്ലാഹുവിനാണ് എല്ലാ സ്തുതിയും. മുതിർന്നവരെ ആദരിക്കുന്നത് ഏറ്റവും മഹത്തായ സ്വഭാവഗുണങ്ങളിൽ ഒന്നായി അവൻ നിർണയിച്ചിരിക്കുന്നു. അല്ലാഹുവല്ലാതെ ആരാധനയ്ക്ക് അർഹനായ മറ്റാരുമില്ലെന്ന് ഞാൻ സാക്ഷ്യം വഹിക്കുന്നു. നമ്മുടെ പ്രവാചകനായ മുഹമ്മദ് ﷺ അല്ലാഹുവിന്റെ ദൂതനും പ്രവാചകന്മാരുടെ അന്തിമനബിയുമാണെന്നും ഞാൻ സാക്ഷ്യം വഹിക്കുന്നു. അദ്ദേഹത്തിനും കുടുംബത്തിനും സ്വഹാബികൾക്കും അദ്ദേഹത്തെ പിന്തുടരുന്നവർക്കും അല്ലാഹുവിന്റെ സമാധാനവും അനുഗ്രഹവും കരുണയും ഉണ്ടാകട്ടെ.
ഇനി പറയാനുള്ളത്:
അല്ലാഹുവിന്റെ ദാസന്മാരേ, നിങ്ങളെയും എന്നെയും ഞാൻ അല്ലാഹുവിനെ സൂക്ഷിക്കാൻ ഉപദേശിക്കുന്നു. അല്ലാഹു പറയുന്നു:
﴿إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَالَّذِينَ هُمْ مُحْسِنُونَ﴾
“തീർച്ചയായും അല്ലാഹു തഖ്വയുള്ളവരോടും നന്മ ചെയ്യുന്നവരോടും കൂടെയുണ്ട്.” (അന്നഹ്ൽ 16:128)
വിശ്വാസികളേ,
ഒരു മഹത്തായ പ്രവാചക സംഭവത്തിൽ അബൂബക്കർ (റ) തന്റെ പ്രായമായ പിതാവിനെ നബി ﷺ യുടെ അടുക്കൽ കൊണ്ടുവന്നു. അദ്ദേഹത്തെ കണ്ടപ്പോൾ നബി ﷺ പറഞ്ഞു:
“ഈ വയോധികനെ വീട്ടിൽ തന്നെ വിട്ടിരുന്നെങ്കിൽ ഞാൻ അദ്ദേഹത്തിന്റെ അടുത്തേക്ക് വന്നേനെയല്ലോ?” (അഹ്മദ്)
എത്ര മഹത്തായ മാതൃക!
ഇതിലൂടെ നബി ﷺ മുതിർന്നവരെ വിലമതിക്കാനും ആദരിക്കാനും ബഹുമാനിക്കാനും നമ്മെ പഠിപ്പിക്കുന്നു.
അവർ അല്ലാഹുവിന്റെ സന്നിധിയിൽ ഏറ്റവും ശ്രേഷ്ഠരായ ആളുകളിൽ ഉൾപ്പെടുന്നു. നബി ﷺ പറഞ്ഞു:
“നിങ്ങളിൽ ഏറ്റവും ഉത്തമർ ദീർഘായുസ്സുള്ളവരും നല്ല പ്രവൃത്തികളുള്ളവരുമാണ്.” (അഹ്മദ്)
അല്ലാഹുവിന്റെ മുമ്പിൽ അവരുടെ സ്ഥാനം ഇത്ര മഹത്തരമാണെങ്കിൽ, അവരെ ആദരിക്കുന്നത് അല്ലാഹുവിനെ ആദരിക്കുന്നതിന്റെ ഭാഗമാണ്.
നബി ﷺ പറഞ്ഞു:
“ഒരു മുസ്ലിം വയോധികനെ ആദരിക്കുന്നത് അല്ലാഹുവിനെ മഹത്വപ്പെടുത്തുന്നതിന്റെ ഭാഗമാണ്.” (അബൂദാവൂദ്)
അതുകൊണ്ട് ഒരു വിശ്വാസിക്കും മുതിർന്നവരുടെ അവകാശങ്ങൾ അവഗണിക്കാനോ അവരുടെ ബഹുമാനം കുറയ്ക്കാനോ പാടില്ല.
നബി ﷺ പറഞ്ഞു:
“നമ്മുടെ കുട്ടികളോട് കരുണ കാണിക്കാത്തവനും നമ്മുടെ മുതിർന്നവരുടെ അവകാശം അംഗീകരിക്കാത്തവനും നമ്മിൽപ്പെട്ടവനല്ല.” (അബൂദാവൂദ്)
അവരിലൂടെ അല്ലാഹു അനുഗ്രഹം നൽകിയിരിക്കെ നാം എങ്ങനെ അവരെ വിലമതിക്കാതിരിക്കാം?
നമ്മുടെ പ്രിയപ്പെട്ട നബി ﷺ പറഞ്ഞു:
“അനുഗ്രഹം നിങ്ങളുടെ മുതിർന്നവരോടൊപ്പമാണ്.” (ഇബ്നു ഹിബ്ബാൻ)
അതിനാൽ, അവരെക്കുറിച്ച് അല്ലാഹുവിനെ ഭയപ്പെടുക.
അവരെ നഷ്ടപ്പെടുന്നതിന് മുമ്പ് അവരെ പരിപാലിക്കുക.
അവരുടെ ഖബറുകൾക്കരികിൽ മാത്രം ഇരിക്കേണ്ട ദിവസം വരുന്നതിന് മുമ്പ് അവരോടൊപ്പം ഇരിക്കുക.
നിങ്ങളുടെ കുടുംബങ്ങളിലും കൊച്ചുമക്കൾക്കിടയിലും അവർക്കൊരു പ്രത്യേക സ്ഥാനം നൽകുക.
അവരുടെ വാക്കുകൾ ശ്രദ്ധയോടെ കേൾക്കുക. മൊബൈൽ ഫോണുകൾ നിങ്ങളെ അവരിൽ നിന്ന് അകറ്റാൻ അനുവദിക്കരുത്.
അവരുടെ മുന്നിൽ സംസാരിക്കുകയോ അവരെ തടസ്സപ്പെടുത്തുകയോ ചെയ്യരുത്.
നബി ﷺ ഒരു കൂട്ടത്തിലെ ഏറ്റവും പ്രായം കുറഞ്ഞ ആളോട് പറഞ്ഞത്:
“മുതിർന്നവരെ ആദ്യം സംസാരിക്കാൻ അനുവദിക്കൂ.” (ബുഖാരി, മുസ്ലിം)
അതായത് പ്രായത്തിൽ മുതിർന്നവർക്കാണ് ആദ്യം സംസാരിക്കാനുള്ള അവകാശം.
സ്വഹാബികൾ (റ) ഈ ശീലം കൃത്യമായി പാലിച്ചിരുന്നു.
സമുറ ബിൻ ജുന്ദുബ് (റ) പറയുന്നു:
“ഞാൻ നബി ﷺ യിൽ നിന്ന് ധാരാളം പഠിച്ചു. എന്നാൽ എന്നേക്കാൾ പ്രായമുള്ളവർ ഉണ്ടായിരുന്നതിനാൽ ഞാൻ സംസാരിക്കാൻ മടിച്ചിരുന്നു.” (മുസ്ലിം)
നിങ്ങളുടെ മുതിർന്നവരുടെ ആരോഗ്യപരമായ ആവശ്യങ്ങൾ ശ്രദ്ധിക്കുക.
അവർക്ക് പ്രയാസമുള്ള ആരാധനകൾ നിർബന്ധമാക്കരുത്.
അല്ലാഹു അവരുടെ സാഹചര്യങ്ങൾക്ക് അനുസരിച്ചുള്ള ഇളവുകൾ നൽകിയിട്ടുണ്ട്.
﴿وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ﴾
“വളരെ പ്രയാസത്തോടെ മാത്രമേ നോമ്പ് അനുഷ്ഠിക്കാൻ കഴിയൂ എന്നവർക്കു പകരമായി ഫിദ്യ നൽകാം.” (അൽ ബഖറ: 184)
മുതിർന്നവരോട് സൗമ്യമായി സംസാരിക്കുക.
പ്രായം കൂടുമ്പോൾ അവരുടെ മനസ്സ് കൂടുതൽ സ്നേഹനിർഭരവും വികാരപരവുമാകാറുണ്ട്.
അതിനാൽ ഒരു നോട്ടം കൊണ്ടോ കഠിനമായ വാക്കുകൾ കൊണ്ടോ അവരുടെ മനസ്സിനെ വേദനിപ്പിക്കരുത്.
അല്ലാഹു പറയുന്നു:
﴿فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا﴾
“അവരിൽ ഒരാളോ രണ്ടുപേരോ നിന്റെ സാന്നിധ്യത്തിൽ വാർദ്ധക്യത്തിലെത്തിയാൽ അവരോട് ‘ഛേ’ എന്നു പോലും പറയരുത്. അവരെ ശകാരിക്കരുത്. അവരോട് ആദരവോടെയും സൗമ്യതയോടെയും സംസാരിക്കുക.” (അൽ ഇസ്റാ: 23)
അല്ലാഹു മറ്റൊരു സ്ഥലത്ത് പറയുന്നു:
﴿أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ﴾
“അല്ലാഹുവിനെയും അവന്റെ ദൂതനെയും നിങ്ങളിലെ അധികാരികളെയും അനുസരിക്കൂ.” (നിസാഃ 59)
ഞാൻ പറഞ്ഞ ഈ വാക്കുകളോടെ എനിക്കും നിങ്ങൾക്കും വേണ്ടി അല്ലാഹുവിനോട് പാപമോചനം തേടുന്നു.
രണ്ടാം ഖുത്ബ
അല്ലാഹുവിനാണ് എല്ലാ സ്തുതിയും. അവനല്ലാതെ ആരാധനാർഹനായ മറ്റാരുമില്ല.
നമ്മുടെ മുതിർന്നവരെ പരിപാലിക്കുക ✨
رعاية كبارنا
ആദ്യ ഖുത്ബ
സർവ്വ മഹത്വത്തിന്റെയും പ്രതാപത്തിന്റെയും ഉടമയായ അല്ലാഹുവിനാണ് എല്ലാ സ്തുതിയും. മുതിർന്നവരെ ആദരിക്കുന്നത് ഏറ്റവും മഹത്തായ സ്വഭാവഗുണങ്ങളിൽ ഒന്നായി അവൻ നിർണയിച്ചിരിക്കുന്നു. അല്ലാഹുവല്ലാതെ ആരാധനയ്ക്ക് അർഹനായ മറ്റാരുമില്ലെന്ന് ഞാൻ സാക്ഷ്യം വഹിക്കുന്നു. നമ്മുടെ പ്രവാചകനായ മുഹമ്മദ് ﷺ അല്ലാഹുവിന്റെ ദൂതനും പ്രവാചകന്മാരുടെ അന്തിമനബിയുമാണെന്നും ഞാൻ സാക്ഷ്യം വഹിക്കുന്നു. അദ്ദേഹത്തിനും കുടുംബത്തിനും സ്വഹാബികൾക്കും അദ്ദേഹത്തെ പിന്തുടരുന്നവർക്കും അല്ലാഹുവിന്റെ സമാധാനവും അനുഗ്രഹവും കരുണയും ഉണ്ടാകട്ടെ.
ഇനി പറയാനുള്ളത്:
അല്ലാഹുവിന്റെ ദാസന്മാരേ, നിങ്ങളെയും എന്നെയും ഞാൻ അല്ലാഹുവിനെ സൂക്ഷിക്കാൻ ഉപദേശിക്കുന്നു. അല്ലാഹു പറയുന്നു:
﴿إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَالَّذِينَ هُمْ مُحْسِنُونَ﴾
“തീർച്ചയായും അല്ലാഹു തഖ്വയുള്ളവരോടും നന്മ ചെയ്യുന്നവരോടും കൂടെയുണ്ട്.” (അന്നഹ്ൽ 16:128)
വിശ്വാസികളേ,
ഒരു മഹത്തായ പ്രവാചക സംഭവത്തിൽ അബൂബക്കർ (റ) തന്റെ പ്രായമായ പിതാവിനെ നബി ﷺ യുടെ അടുക്കൽ കൊണ്ടുവന്നു. അദ്ദേഹത്തെ കണ്ടപ്പോൾ നബി ﷺ പറഞ്ഞു:
“ഈ വയോധികനെ വീട്ടിൽ തന്നെ വിട്ടിരുന്നെങ്കിൽ ഞാൻ അദ്ദേഹത്തിന്റെ അടുത്തേക്ക് വന്നേനെയല്ലോ?” (അഹ്മദ്)
എത്ര മഹത്തായ മാതൃക!
ഇതിലൂടെ നബി ﷺ മുതിർന്നവരെ വിലമതിക്കാനും ആദരിക്കാനും ബഹുമാനിക്കാനും നമ്മെ പഠിപ്പിക്കുന്നു.
അവർ അല്ലാഹുവിന്റെ സന്നിധിയിൽ ഏറ്റവും ശ്രേഷ്ഠരായ ആളുകളിൽ ഉൾപ്പെടുന്നു. നബി ﷺ പറഞ്ഞു:
“നിങ്ങളിൽ ഏറ്റവും ഉത്തമർ ദീർഘായുസ്സുള്ളവരും നല്ല പ്രവൃത്തികളുള്ളവരുമാണ്.” (അഹ്മദ്)
അല്ലാഹുവിന്റെ മുമ്പിൽ അവരുടെ സ്ഥാനം ഇത്ര മഹത്തരമാണെങ്കിൽ, അവരെ ആദരിക്കുന്നത് അല്ലാഹുവിനെ ആദരിക്കുന്നതിന്റെ ഭാഗമാണ്.
നബി ﷺ പറഞ്ഞു:
“ഒരു മുസ്ലിം വയോധികനെ ആദരിക്കുന്നത് അല്ലാഹുവിനെ മഹത്വപ്പെടുത്തുന്നതിന്റെ ഭാഗമാണ്.” (അബൂദാവൂദ്)
അതുകൊണ്ട് ഒരു വിശ്വാസിക്കും മുതിർന്നവരുടെ അവകാശങ്ങൾ അവഗണിക്കാനോ അവരുടെ ബഹുമാനം കുറയ്ക്കാനോ പാടില്ല.
നബി ﷺ പറഞ്ഞു:
“നമ്മുടെ കുട്ടികളോട് കരുണ കാണിക്കാത്തവനും നമ്മുടെ മുതിർന്നവരുടെ അവകാശം അംഗീകരിക്കാത്തവനും നമ്മിൽപ്പെട്ടവനല്ല.” (അബൂദാവൂദ്)
അവരിലൂടെ അല്ലാഹു അനുഗ്രഹം നൽകിയിരിക്കെ നാം എങ്ങനെ അവരെ വിലമതിക്കാതിരിക്കാം?
നമ്മുടെ പ്രിയപ്പെട്ട നബി ﷺ പറഞ്ഞു:
“അനുഗ്രഹം നിങ്ങളുടെ മുതിർന്നവരോടൊപ്പമാണ്.” (ഇബ്നു ഹിബ്ബാൻ)
അതിനാൽ, അവരെക്കുറിച്ച് അല്ലാഹുവിനെ ഭയപ്പെടുക.
അവരെ നഷ്ടപ്പെടുന്നതിന് മുമ്പ് അവരെ പരിപാലിക്കുക.
അവരുടെ ഖബറുകൾക്കരികിൽ മാത്രം ഇരിക്കേണ്ട ദിവസം വരുന്നതിന് മുമ്പ് അവരോടൊപ്പം ഇരിക്കുക.
നിങ്ങളുടെ കുടുംബങ്ങളിലും കൊച്ചുമക്കൾക്കിടയിലും അവർക്കൊരു പ്രത്യേക സ്ഥാനം നൽകുക.
അവരുടെ വാക്കുകൾ ശ്രദ്ധയോടെ കേൾക്കുക. മൊബൈൽ ഫോണുകൾ നിങ്ങളെ അവരിൽ നിന്ന് അകറ്റാൻ അനുവദിക്കരുത്.
അവരുടെ മുന്നിൽ സംസാരിക്കുകയോ അവരെ തടസ്സപ്പെടുത്തുകയോ ചെയ്യരുത്.
നബി ﷺ ഒരു കൂട്ടത്തിലെ ഏറ്റവും പ്രായം കുറഞ്ഞ ആളോട് പറഞ്ഞത്:
“മുതിർന്നവരെ ആദ്യം സംസാരിക്കാൻ അനുവദിക്കൂ.” (ബുഖാരി, മുസ്ലിം)
അതായത് പ്രായത്തിൽ മുതിർന്നവർക്കാണ് ആദ്യം സംസാരിക്കാനുള്ള അവകാശം.
സ്വഹാബികൾ (റ) ഈ ശീലം കൃത്യമായി പാലിച്ചിരുന്നു.
സമുറ ബിൻ ജുന്ദുബ് (റ) പറയുന്നു:
“ഞാൻ നബി ﷺ യിൽ നിന്ന് ധാരാളം പഠിച്ചു. എന്നാൽ എന്നേക്കാൾ പ്രായമുള്ളവർ ഉണ്ടായിരുന്നതിനാൽ ഞാൻ സംസാരിക്കാൻ മടിച്ചിരുന്നു.” (മുസ്ലിം)
നിങ്ങളുടെ മുതിർന്നവരുടെ ആരോഗ്യപരമായ ആവശ്യങ്ങൾ ശ്രദ്ധിക്കുക.
അവർക്ക് പ്രയാസമുള്ള ആരാധനകൾ നിർബന്ധമാക്കരുത്.
അല്ലാഹു അവരുടെ സാഹചര്യങ്ങൾക്ക് അനുസരിച്ചുള്ള ഇളവുകൾ നൽകിയിട്ടുണ്ട്.
﴿وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ﴾
“വളരെ പ്രയാസത്തോടെ മാത്രമേ നോമ്പ് അനുഷ്ഠിക്കാൻ കഴിയൂ എന്നവർക്കു പകരമായി ഫിദ്യ നൽകാം.” (അൽ ബഖറ: 184)
മുതിർന്നവരോട് സൗമ്യമായി സംസാരിക്കുക.
പ്രായം കൂടുമ്പോൾ അവരുടെ മനസ്സ് കൂടുതൽ സ്നേഹനിർഭരവും വികാരപരവുമാകാറുണ്ട്.
അതിനാൽ ഒരു നോട്ടം കൊണ്ടോ കഠിനമായ വാക്കുകൾ കൊണ്ടോ അവരുടെ മനസ്സിനെ വേദനിപ്പിക്കരുത്.
അല്ലാഹു പറയുന്നു:
﴿فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا﴾
“അവരിൽ ഒരാളോ രണ്ടുപേരോ നിന്റെ സാന്നിധ്യത്തിൽ വാർദ്ധക്യത്തിലെത്തിയാൽ അവരോട് ‘ഛേ’ എന്നു പോലും പറയരുത്. അവരെ ശകാരിക്കരുത്. അവരോട് ആദരവോടെയും സൗമ്യതയോടെയും സംസാരിക്കുക.” (അൽ ഇസ്റാ: 23)
അല്ലാഹു മറ്റൊരു സ്ഥലത്ത് പറയുന്നു:
﴿أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ﴾
“അല്ലാഹുവിനെയും അവന്റെ ദൂതനെയും നിങ്ങളിലെ അധികാരികളെയും അനുസരിക്കൂ.” (നിസാഃ 59)
ഞാൻ പറഞ്ഞ ഈ വാക്കുകളോടെ എനിക്കും നിങ്ങൾക്കും വേണ്ടി അല്ലാഹുവിനോട് പാപമോചനം തേടുന്നു.
രണ്ടാം ഖുത്ബ
അല്ലാഹുവിനാണ് എല്ലാ സ്തുതിയും. അവനല്ലാതെ ആരാധനാർഹനായ മറ്റാരുമില്ല.
അവസാന പ്രവാചകനായ മുഹമ്മദ് ﷺ ക്ക് സമാധാനവും അനുഗ്രഹവും ഉണ്ടാകട്ടെ.
വിശ്വാസികളേ,
മുതിർന്നവരെ ആദരിക്കുന്നത് അവരുടെ അനുഭവങ്ങളെയും ജ്ഞാനത്തെയും അംഗീകരിക്കുന്നതാണ്.
തലമുറകൾക്ക് വഴികാട്ടിയവരും സമൂഹത്തിന്റെ ഓർമ്മകളുമാണ് അവർ.
നമ്മെ വളർത്തുകയും സമൂഹം കെട്ടിപ്പടുക്കുകയും ചെയ്ത കൈകളാണ് അവരുടെത്.
പ്രതിഫലമോ നന്ദിയോ പ്രതീക്ഷിക്കാതെ ജീവിതം മുഴുവൻ നൽകിയവരാണ് അവർ.
അതുകൊണ്ട് അവരുടെ അവകാശം നമ്മുടെ മേൽ വലിയതാണ്.
നന്ദിയും കരുതലും മികച്ച പരിചരണവും അവർക്കു നൽകേണ്ടത് നമ്മുടെ കടമയാണ്.
മുതിർന്നവരെ ബഹുമാനിക്കുന്നത് ഒരു മതപരമായ ബാധ്യതയും നന്ദിയുടെ കടമയുമാണെന്ന് നമ്മുടെ കുട്ടികളെ പഠിപ്പിക്കണം.
നബി ﷺ പറഞ്ഞു:
“നിങ്ങൾക്ക് ആരെങ്കിലും ഒരു നന്മ ചെയ്താൽ അതിന് പ്രതിഫലം നൽകുക.” (അബൂദാവൂദ്)
നമ്മെ വളർത്തുകയും രാജ്യത്തെ കെട്ടിപ്പടുക്കുകയും ചെയ്ത നമ്മുടെ മുതിർന്നവരേക്കാൾ വലിയ ഉപകാരം ചെയ്തവർ ആരുണ്ട്?
അതുകൊണ്ടാണ് മുതിർന്നവരെ ആദരിക്കൽ നമ്മുടെ എമിറാത്തി സംസ്കാരത്തിന്റെ പ്രധാന മൂല്യങ്ങളിലൊന്നായിരിക്കുന്നത്.
നമ്മുടെ ബുദ്ധിമാനായ നേതൃത്വവും അവരുടെ ക്ഷേമത്തിനായി വലിയ ശ്രദ്ധയും കരുതലും നൽകിക്കൊണ്ടിരിക്കുന്നു.
അല്ലാഹുവേ, സർവ്വലോകങ്ങൾക്കും കാരുണ്യമായി അയക്കപ്പെട്ട നമ്മുടെ നേതാവും പ്രവാചകനുമായ മുഹമ്മദ് ﷺ ക്കും അദ്ദേഹത്തിന്റെ കുടുംബത്തിനും സ്വഹാബികൾക്കും അനുഗ്രഹവും സമാധാനവും നൽകണമേ.
അബൂബക്കർ, ഉമർ, ഉസ്മാൻ, അലി (റ) എന്നിവരോടും എല്ലാ സ്വഹാബികളോടും നീ തൃപ്തനാകണമേ.
അല്ലാഹുവേ, നമ്മുടെ മുതിർന്നവരോട് നന്മ ചെയ്യാനും അവരുടെ അവകാശങ്ങൾ നിറവേറ്റാനും ഞങ്ങളെ സഹായിക്കണമേ.
അല്ലാഹുവേ, നിന്റെ അനുഗ്രഹങ്ങളിൽ നിന്ന് ഞങ്ങൾക്ക് ധാരാളം നൽകണമേ. നിന്റെ പ്രതിഫലത്തിൽ നിന്ന് ഞങ്ങളെ വഞ്ചിക്കരുതേ.
അല്ലാഹുവേ, യു.എ.ഇ.യ്ക്ക് അതിന്റെ അഭിമാനവും ശക്തിയും സുരക്ഷയും സമൃദ്ധിയും എന്നും നിലനിറുത്തണമേ.
അല്ലാഹുവേ, രാഷ്ട്രപതി ശൈഖ് മുഹമ്മദ് ബിൻ സായിദിനെ സംരക്ഷിക്കണമേ. അദ്ദേഹത്തിന് സഹായിയും പിന്തുണയും ആയിരിക്കണമേ. അദ്ദേഹത്തിന്റെ ജീവിതത്തിലും പ്രവർത്തനങ്ങളിലും അനുഗ്രഹം നൽകണമേ.
അല്ലാഹുവേ, അദ്ദേഹത്തിനും ഉപരാഷ്ട്രപതിമാർക്കും എമിറേറ്റുകളുടെ ഭരണാധികാരികൾക്കും കിരീടാവകാശിക്കും നീ ഇഷ്ടപ്പെടുന്നതിലും പ്രസാദിക്കുന്നതിലുമെല്ലാം വിജയം നൽകണമേ.
അല്ലാഹുവേ, ശൈഖ് സായിദിനും ശൈഖ് റാഷിദിനും അന്തരിച്ച എല്ലാ ഭരണാധികാരികൾക്കും കരുണ നൽകുകയും അവരെ വിശാലമായ സ്വർഗോദ്യാനങ്ങളിൽ പ്രവേശിപ്പിക്കുകയും ചെയ്യണമേ.
അല്ലാഹുവേ, രാജ്യത്തിന്റെ ശഹീദുമാരെ നിന്റെ കരുണയാലും പൊറുപ്പാലും പൊതിയണമേ.
അല്ലാഹുവേ, ജീവിച്ചിരിക്കുന്നവരും മരണപ്പെട്ടവരുമായ എല്ലാ മുസ്ലിം പുരുഷന്മാർക്കും സ്ത്രീകൾക്കും കരുണ നൽകണമേ.
അല്ലാഹുവിന്റെ ദാസന്മാരേ,
അല്ലാഹുവിനെ സ്മരിക്കൂ; അവൻ നിങ്ങളെ സ്മരിക്കും.
അവന്റെ അനുഗ്രഹങ്ങൾക്ക് നന്ദി പറയൂ; അവൻ നിങ്ങളെ കൂടുതൽ അനുഗ്രഹിക്കും.
വിശ്വാസികളേ,
മുതിർന്നവരെ ആദരിക്കുന്നത് അവരുടെ അനുഭവങ്ങളെയും ജ്ഞാനത്തെയും അംഗീകരിക്കുന്നതാണ്.
തലമുറകൾക്ക് വഴികാട്ടിയവരും സമൂഹത്തിന്റെ ഓർമ്മകളുമാണ് അവർ.
നമ്മെ വളർത്തുകയും സമൂഹം കെട്ടിപ്പടുക്കുകയും ചെയ്ത കൈകളാണ് അവരുടെത്.
പ്രതിഫലമോ നന്ദിയോ പ്രതീക്ഷിക്കാതെ ജീവിതം മുഴുവൻ നൽകിയവരാണ് അവർ.
അതുകൊണ്ട് അവരുടെ അവകാശം നമ്മുടെ മേൽ വലിയതാണ്.
നന്ദിയും കരുതലും മികച്ച പരിചരണവും അവർക്കു നൽകേണ്ടത് നമ്മുടെ കടമയാണ്.
മുതിർന്നവരെ ബഹുമാനിക്കുന്നത് ഒരു മതപരമായ ബാധ്യതയും നന്ദിയുടെ കടമയുമാണെന്ന് നമ്മുടെ കുട്ടികളെ പഠിപ്പിക്കണം.
നബി ﷺ പറഞ്ഞു:
“നിങ്ങൾക്ക് ആരെങ്കിലും ഒരു നന്മ ചെയ്താൽ അതിന് പ്രതിഫലം നൽകുക.” (അബൂദാവൂദ്)
നമ്മെ വളർത്തുകയും രാജ്യത്തെ കെട്ടിപ്പടുക്കുകയും ചെയ്ത നമ്മുടെ മുതിർന്നവരേക്കാൾ വലിയ ഉപകാരം ചെയ്തവർ ആരുണ്ട്?
അതുകൊണ്ടാണ് മുതിർന്നവരെ ആദരിക്കൽ നമ്മുടെ എമിറാത്തി സംസ്കാരത്തിന്റെ പ്രധാന മൂല്യങ്ങളിലൊന്നായിരിക്കുന്നത്.
നമ്മുടെ ബുദ്ധിമാനായ നേതൃത്വവും അവരുടെ ക്ഷേമത്തിനായി വലിയ ശ്രദ്ധയും കരുതലും നൽകിക്കൊണ്ടിരിക്കുന്നു.
അല്ലാഹുവേ, സർവ്വലോകങ്ങൾക്കും കാരുണ്യമായി അയക്കപ്പെട്ട നമ്മുടെ നേതാവും പ്രവാചകനുമായ മുഹമ്മദ് ﷺ ക്കും അദ്ദേഹത്തിന്റെ കുടുംബത്തിനും സ്വഹാബികൾക്കും അനുഗ്രഹവും സമാധാനവും നൽകണമേ.
അബൂബക്കർ, ഉമർ, ഉസ്മാൻ, അലി (റ) എന്നിവരോടും എല്ലാ സ്വഹാബികളോടും നീ തൃപ്തനാകണമേ.
അല്ലാഹുവേ, നമ്മുടെ മുതിർന്നവരോട് നന്മ ചെയ്യാനും അവരുടെ അവകാശങ്ങൾ നിറവേറ്റാനും ഞങ്ങളെ സഹായിക്കണമേ.
അല്ലാഹുവേ, നിന്റെ അനുഗ്രഹങ്ങളിൽ നിന്ന് ഞങ്ങൾക്ക് ധാരാളം നൽകണമേ. നിന്റെ പ്രതിഫലത്തിൽ നിന്ന് ഞങ്ങളെ വഞ്ചിക്കരുതേ.
അല്ലാഹുവേ, യു.എ.ഇ.യ്ക്ക് അതിന്റെ അഭിമാനവും ശക്തിയും സുരക്ഷയും സമൃദ്ധിയും എന്നും നിലനിറുത്തണമേ.
അല്ലാഹുവേ, രാഷ്ട്രപതി ശൈഖ് മുഹമ്മദ് ബിൻ സായിദിനെ സംരക്ഷിക്കണമേ. അദ്ദേഹത്തിന് സഹായിയും പിന്തുണയും ആയിരിക്കണമേ. അദ്ദേഹത്തിന്റെ ജീവിതത്തിലും പ്രവർത്തനങ്ങളിലും അനുഗ്രഹം നൽകണമേ.
അല്ലാഹുവേ, അദ്ദേഹത്തിനും ഉപരാഷ്ട്രപതിമാർക്കും എമിറേറ്റുകളുടെ ഭരണാധികാരികൾക്കും കിരീടാവകാശിക്കും നീ ഇഷ്ടപ്പെടുന്നതിലും പ്രസാദിക്കുന്നതിലുമെല്ലാം വിജയം നൽകണമേ.
അല്ലാഹുവേ, ശൈഖ് സായിദിനും ശൈഖ് റാഷിദിനും അന്തരിച്ച എല്ലാ ഭരണാധികാരികൾക്കും കരുണ നൽകുകയും അവരെ വിശാലമായ സ്വർഗോദ്യാനങ്ങളിൽ പ്രവേശിപ്പിക്കുകയും ചെയ്യണമേ.
അല്ലാഹുവേ, രാജ്യത്തിന്റെ ശഹീദുമാരെ നിന്റെ കരുണയാലും പൊറുപ്പാലും പൊതിയണമേ.
അല്ലാഹുവേ, ജീവിച്ചിരിക്കുന്നവരും മരണപ്പെട്ടവരുമായ എല്ലാ മുസ്ലിം പുരുഷന്മാർക്കും സ്ത്രീകൾക്കും കരുണ നൽകണമേ.
അല്ലാഹുവിന്റെ ദാസന്മാരേ,
അല്ലാഹുവിനെ സ്മരിക്കൂ; അവൻ നിങ്ങളെ സ്മരിക്കും.
അവന്റെ അനുഗ്രഹങ്ങൾക്ക് നന്ദി പറയൂ; അവൻ നിങ്ങളെ കൂടുതൽ അനുഗ്രഹിക്കും.
Media is too big
VIEW IN TELEGRAM
“Be patient. Your patience will strengthen your will and lead you to success.” ✨
Surah Al-Anbiya (21:30)
“Do those who disbelieve not see that the heavens and the earth were joined together, then We split them apart, and We made from water every living thing? Will they not then believe?”
Explanation
This verse highlights three important signs of Allah’s power:
The heavens and the earth were once joined together
Classical scholars explained this in different ways. Some said the heavens and earth were a single creation before Allah separated them.
Others explained that the sky did not send rain and the earth did not produce vegetation until Allah opened the sky with rain and the earth with plants.
Allah split them apart
Allah created order in the universe by separating the heavens and the earth according to His will.
“We made from water every living thing”
Water is essential for all life.
This is a reminder that every living creature depends on the provision of Allah.
Reflection
The verse invites people to think about creation and recognize Allah’s existence, power, wisdom, and mercy.
Arabic
أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا ۖ وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ ۖ أَفَلَا يُؤْمِنُونَ
Reference: The Quran (21:30)
A related verse about believing beyond what the eyes can fully perceive is:
“Indeed, it is not the eyes that are blind, but the hearts within the chests that are blind.”
Surah Al-Hajj (22:46).
“Do those who disbelieve not see that the heavens and the earth were joined together, then We split them apart, and We made from water every living thing? Will they not then believe?”
Explanation
This verse highlights three important signs of Allah’s power:
The heavens and the earth were once joined together
Classical scholars explained this in different ways. Some said the heavens and earth were a single creation before Allah separated them.
Others explained that the sky did not send rain and the earth did not produce vegetation until Allah opened the sky with rain and the earth with plants.
Allah split them apart
Allah created order in the universe by separating the heavens and the earth according to His will.
“We made from water every living thing”
Water is essential for all life.
This is a reminder that every living creature depends on the provision of Allah.
Reflection
The verse invites people to think about creation and recognize Allah’s existence, power, wisdom, and mercy.
Arabic
أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا ۖ وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ ۖ أَفَلَا يُؤْمِنُونَ
Reference: The Quran (21:30)
A related verse about believing beyond what the eyes can fully perceive is:
“Indeed, it is not the eyes that are blind, but the hearts within the chests that are blind.”
Surah Al-Hajj (22:46).
الخطبة الأولى:
الحمد لله الذي وعد الصابرين حسن المآب، وأغدق عليهم فضله بغير حساب، وأشهد أن لا إله إلا الله، وأشهد أن سيدنا ونبينا محمدا رسول الله، صلى الله وسلم وبارك عليه وعلى آله وصحبه ومن والاه.
أما بعد: فأوصيكم عباد الله ونفسي بتقوى الله: ﴿إنه من يتق ويصبر فإن الله لا يضيع أجر المحسنين﴾.
أيها المؤمنون: حديثنا اليوم عن خلق؛ يحبه رب الأرض والسماء، ويجزل لأهله العطاء، ﴿إنما يوفى الصابرون أجرهم بغير حساب﴾، إنه خلق الصبر، الذي ورد في أكثر من تسعين موضعا من كتاب الله، والصبر قيمة تحجز النفس عن المساوئ، وتحملها على المحاسن، وهو حبل الأنبياء المتين، وسبيلهم القويم، ﴿وجعلنا منهم أئمة يهدون بأمرنا لما صبروا﴾، فعلى درب الصبر مضى نوح ويعقوب، وإسماعيل وأيوب، الذي مرض بعد صحته، وابتلي بفقد ماله وأحبته، فصبر محتسبا راضيا، ثم توجه إلى ربه مناجيا: ﴿أني مسني الضر وأنت أرحم الراحمين﴾، فرد الله إليه عافيته، وضاعف له أهله وثروته، ﴿إنا وجدناه صابرا نعم العبد إنه أواب﴾،
وكان حبيبنا ﷺ نعم الصابر لربه، فأيده بنصره، وأبقى في العالمين جميل ذكره، وكذلك من سار على أثره: ألم يقل الله تعالى: ﴿ولئن صبرتم لهو خير للصابرين﴾.
وما أجمل قول عمر رضي الله عنه: وجدنا خير عيشنا بالصبر، وكيف لا؟ ونبينا ﷺ يقول: «ما أعطي أحد عطاء خيرا وأوسع من الصبر»،
فالصبر على الطاعات، رفعة في الدرجات، ووعد بالمغفرة والجنات، مصداق ذلك قول الله تعالى: ﴿إلا الذين صبروا وعملوا الصالحات أولئك لهم مغفرة وأجر كبير﴾،
وأما الصبر بالامتناع عن المحظور والسلوك الخطإ، من المعاصي ونحوها؛ فعصمة ونجاة، وفوز برحمة الله، قال جل في علاه: ﴿وأن تصبروا خير لكم والله غفور رحيم﴾،
ألا وإن من صبر عند البلاء؛ ينال عظيم الجزاء، فقد مر النبي ﷺ بامرأة تبكي على صبي لها، فقال لها: «اتقي الله واصبري» قالت: إنك لم تصب بمصيبتي، فلما عرفت من كان يخاطبها، جاءت معتذرة فقال لها: «إنما الصبر عند الصدمة الأولى»، أي: إن هذا هو الصبر الكامل، الذي يترتب عليه الأجر الجزيل.
﴿يا أيها الذين آمنوا أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولي الأمر منكم﴾.
أقول قولي هذا وأستغفر الله لي ولكم.
الخطبة الثانية:
الحمد لله وحده، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده.
أما بعد: فيا أيها المؤمنون: إن الصبر من كنوز الخير؛ فهو في طلب العلم طريق للرفعة، قال موسى عليه السلام: ﴿ستجدني إن شاء الله صابرا﴾.
وهو في الاجتهاد في العمل؛ تميز، وفي المروءة والكرم؛ إحسان، وربنا يقول: ﴿واصبر فإن الله لا يضيع أجر المحسنين﴾،
والصبر عند الضيق؛ فرج ويسر، قال ﷺ: «واعلم أن في الصبر على ما تكره خيرا كثيرا، وأن النصر مع الصبر، وأن الفرج مع الكرب، وأن مع العسر يسرا»،
والصبر من أعظم النصائح التي يتبادلها الناس، قال سبحانه: ﴿وتواصوا بالصبر﴾، فتحلوا به في جميع شؤونكم؛ تفوزوا بمعية ربكم، أعوذ بالله من الشيطان الرجيم: ﴿يا أيها الذين آمنوا استعينوا بالصبر والصلاة إن الله مع الصابرين﴾.
هذا وصل اللهم وسلم وبارك على سيدنا ونبينا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين، وارض اللهم عن أبي بكر وعمر وعثمان وعلي، وعن سائر الصحابة الأكرمين.
اللهم إنا نسألك جوامع الخير، ومعاقد البر، وخزائن فضلك، وسعة عفوك.
اللهم أدم على دولة الإمارات عزها ونصرها، واستقرارها وازدهارها، وخيرها ورخاءها.
اللهم احفظ الشيخ محمد بن زايد رئيس الدولة بحفظك، وكن له عونا وسندا، وبارك في عمره وعمله، اللهم وفقه ونوابه وإخوانه حكام الإمارات، وولي عهده الأمين؛ لما تحبه وترضاه.
اللهم ارحم الشيخ زايد، والشيخ راشد، وشيوخ الإمارات الذين انتقلوا إلى رحمتك، وأدخلهم بفضلك فسيح جناتك.
اللهم اشمل شهداء الوطن برحمتك وغفرانك.
اللهم ارحم المسلمين والمسلمات: الأحياء منهم والأموات.
عباد الله: اذكروا الله العظيم الجليل يذكركم، واشكروه على نعمه يزدكم. وأقم الصلاة.
الحمد لله الذي وعد الصابرين حسن المآب، وأغدق عليهم فضله بغير حساب، وأشهد أن لا إله إلا الله، وأشهد أن سيدنا ونبينا محمدا رسول الله، صلى الله وسلم وبارك عليه وعلى آله وصحبه ومن والاه.
أما بعد: فأوصيكم عباد الله ونفسي بتقوى الله: ﴿إنه من يتق ويصبر فإن الله لا يضيع أجر المحسنين﴾.
أيها المؤمنون: حديثنا اليوم عن خلق؛ يحبه رب الأرض والسماء، ويجزل لأهله العطاء، ﴿إنما يوفى الصابرون أجرهم بغير حساب﴾، إنه خلق الصبر، الذي ورد في أكثر من تسعين موضعا من كتاب الله، والصبر قيمة تحجز النفس عن المساوئ، وتحملها على المحاسن، وهو حبل الأنبياء المتين، وسبيلهم القويم، ﴿وجعلنا منهم أئمة يهدون بأمرنا لما صبروا﴾، فعلى درب الصبر مضى نوح ويعقوب، وإسماعيل وأيوب، الذي مرض بعد صحته، وابتلي بفقد ماله وأحبته، فصبر محتسبا راضيا، ثم توجه إلى ربه مناجيا: ﴿أني مسني الضر وأنت أرحم الراحمين﴾، فرد الله إليه عافيته، وضاعف له أهله وثروته، ﴿إنا وجدناه صابرا نعم العبد إنه أواب﴾،
وكان حبيبنا ﷺ نعم الصابر لربه، فأيده بنصره، وأبقى في العالمين جميل ذكره، وكذلك من سار على أثره: ألم يقل الله تعالى: ﴿ولئن صبرتم لهو خير للصابرين﴾.
وما أجمل قول عمر رضي الله عنه: وجدنا خير عيشنا بالصبر، وكيف لا؟ ونبينا ﷺ يقول: «ما أعطي أحد عطاء خيرا وأوسع من الصبر»،
فالصبر على الطاعات، رفعة في الدرجات، ووعد بالمغفرة والجنات، مصداق ذلك قول الله تعالى: ﴿إلا الذين صبروا وعملوا الصالحات أولئك لهم مغفرة وأجر كبير﴾،
وأما الصبر بالامتناع عن المحظور والسلوك الخطإ، من المعاصي ونحوها؛ فعصمة ونجاة، وفوز برحمة الله، قال جل في علاه: ﴿وأن تصبروا خير لكم والله غفور رحيم﴾،
ألا وإن من صبر عند البلاء؛ ينال عظيم الجزاء، فقد مر النبي ﷺ بامرأة تبكي على صبي لها، فقال لها: «اتقي الله واصبري» قالت: إنك لم تصب بمصيبتي، فلما عرفت من كان يخاطبها، جاءت معتذرة فقال لها: «إنما الصبر عند الصدمة الأولى»، أي: إن هذا هو الصبر الكامل، الذي يترتب عليه الأجر الجزيل.
﴿يا أيها الذين آمنوا أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولي الأمر منكم﴾.
أقول قولي هذا وأستغفر الله لي ولكم.
الخطبة الثانية:
الحمد لله وحده، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده.
أما بعد: فيا أيها المؤمنون: إن الصبر من كنوز الخير؛ فهو في طلب العلم طريق للرفعة، قال موسى عليه السلام: ﴿ستجدني إن شاء الله صابرا﴾.
وهو في الاجتهاد في العمل؛ تميز، وفي المروءة والكرم؛ إحسان، وربنا يقول: ﴿واصبر فإن الله لا يضيع أجر المحسنين﴾،
والصبر عند الضيق؛ فرج ويسر، قال ﷺ: «واعلم أن في الصبر على ما تكره خيرا كثيرا، وأن النصر مع الصبر، وأن الفرج مع الكرب، وأن مع العسر يسرا»،
والصبر من أعظم النصائح التي يتبادلها الناس، قال سبحانه: ﴿وتواصوا بالصبر﴾، فتحلوا به في جميع شؤونكم؛ تفوزوا بمعية ربكم، أعوذ بالله من الشيطان الرجيم: ﴿يا أيها الذين آمنوا استعينوا بالصبر والصلاة إن الله مع الصابرين﴾.
هذا وصل اللهم وسلم وبارك على سيدنا ونبينا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين، وارض اللهم عن أبي بكر وعمر وعثمان وعلي، وعن سائر الصحابة الأكرمين.
اللهم إنا نسألك جوامع الخير، ومعاقد البر، وخزائن فضلك، وسعة عفوك.
اللهم أدم على دولة الإمارات عزها ونصرها، واستقرارها وازدهارها، وخيرها ورخاءها.
اللهم احفظ الشيخ محمد بن زايد رئيس الدولة بحفظك، وكن له عونا وسندا، وبارك في عمره وعمله، اللهم وفقه ونوابه وإخوانه حكام الإمارات، وولي عهده الأمين؛ لما تحبه وترضاه.
اللهم ارحم الشيخ زايد، والشيخ راشد، وشيوخ الإمارات الذين انتقلوا إلى رحمتك، وأدخلهم بفضلك فسيح جناتك.
اللهم اشمل شهداء الوطن برحمتك وغفرانك.
اللهم ارحم المسلمين والمسلمات: الأحياء منهم والأموات.
عباد الله: اذكروا الله العظيم الجليل يذكركم، واشكروه على نعمه يزدكم. وأقم الصلاة.
*FRIDAY UAE KHUTBA 10-07-2026* 🎙️🇦🇪
الصبر خير العطاء
Patience Is the Greatest Gift
الْخُطْبَةُ الْأُولَى:
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَعَدَ الصَّابِرِينَ حُسْنَ الْمَآبِ، وَأَغْدَقَ عَلَيْهِمْ فَضْلَهُ بِغَيْرِ حِسَابٍ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ سَيِّدَنَا وَنَبِيَّنَا مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ وَسَلَّمَ وَبَارَكَ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَمَنْ وَالَاهُ.
أَمَّا بَعْدُ: فَأُوصِيكُمْ عِبَادَ اللَّهِ وَنَفْسِي بِتَقْوَى اللَّهِ:﴿إِنَّهُ مَنْ يَتَّقِ وَيَصْبِرْ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ﴾.
برادرانِ ایمان، میرے عزیز ساتھیو! ہمارا آج کا خطبہ ایک ایسی عظیم صفت کے بارے میں ہے، جو زمین وآسمان کے رب کو نہایت ہی محبوب ہے، اور جو لوگ بھی اس صفت کو اختیار کرتے ہیں تو اللہ رب العزت اُنہیں بہت اَجر وثواب سے نوازتے ہیں، اُنہی کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے﴿إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾، جو لوگ صَبْرسے کام لیتے ہیں، ان کا ثواب انہیں بے حساب دیا جائے گا، جی ہاں میرے بھائیو! صَبْر و تحمّل بڑی عظیم صفت ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن مجید فرقان حمید میں نَوّے (90) مقامات پر صَبْر کا ذکر فرمایا ہے، چنانچہ صَبْرایسی عظیم صفت ہے جو انسان کو بُرے اَخلاق سے روکتی ہے، اَچھے اَخلاق سے آراستہ کرتی ہے، صرف یہی نہیں بلکہ تمام اَنبیاءِ کرام علیہم السلام نے ہمیشہ صَبْر کا دامن تھامے رکھا،صَبْرکے راستے پر گامزن رہ کر ہی تبلیغِ دين کا فریضہ انجام دیا اورلوگوں کو اللہ رب العزت کی طرف بلایا، ارشاد باری تعالیٰ ہے﴿وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا﴾ اور ہم نے ان میں سے کچھ لوگوں کو، جب انہوں نے صَبْر کیا، ایسے پیشوا بنادیا جو ہمارے حکم سے لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے، چنانچہ حضرت نوح علیہ السلام، حضرت یعقوب علیہ السلام، اور حضرت اسماعیل علیہ السلام اللہ کے وہ جلیل القدر اَنبیاء ہیں جو صَبْرو ثَبات کے پیکر تھے، جن کے تحمُّل و برداشت کے واقعات کو خود باری تعالٰی نے قرآنِ کریم میں ذکر فرمایا ہے، اسی طرح حضرت اَیوب علیہ السلام کے عظیم صَبْر کو بیان فرمایا جو صحت و تندرستی پانے کے بعد بیماری کی آزمائش سے دوچار ہوئے ، مال و احباب اور اہل و عیال کی نعمتوں سے سرفراز ہو کرپھر اُن سے محرومی میں مُبتَلا ہوئے ، لیکن انہوں نے صَبْرِعظیم کا مظاہرہ کیا، اور اپنے رب کی رضا پر راضی رہے، پھر نہایت عاجزی اورانکساری سے اپنے رب کی بارگاہ میں یہ درخواست پیش کی:﴿أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ﴾ مجھے یہ تکلیف لگ گئی ہے، اور تو سارے رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے، تو الله رب العزت نے ان کی التجا قبول فرمائی اور انہیں صحت و عافیت سے ہمکنار فرمایا، ان کے مال و اولاد میں برکت دی اور اُسے کئی گُنا بڑھا دیا، اور ان کے صَبْرِعظيم کی یوں تعریف فرمائی:﴿إِنَّا وَجَدْنَاهُ صَابِرًا نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ﴾، حقیقت یہ ہے کہ ہم نے انہیں بڑا صَبْر کرنے والا پایا، وہ بہترین بندے تھے، واقعی وہ اللہ سے خوب لَو لگائے ہوئے تھے.
میرے عزيز بھائیو! ہمارے پیارے نبی، محمدِ مصطفٰی، اَحمدِ مجتبٰی ﷺصبر و ثَبات کے اعلى مقام پر فائز تهےاوراپنے رب کریم کی خاطر بہترین صَبْر و استقامت کا مظاہرہ کرنے والے تھے، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اپنی مدد و نصرت سے انہیں سرفراز فرمایا، اور رہتی دنیا تک اُن کے ذکرِ خیر کو جاری و باقی رکھا، اسی طرح جو بھی صَبْر و ثبات،اور تحمل و برداشت سے کام لیتا ہے تو رب تعالٰی کی نصرت اور توفیق اُس کے شاملِ حال ہو جاتی ہے. ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصَّابِرِينَ﴾. اور اگر صَبْر ہی کر لو تو یہ یقیناً صَبْر کرنے والوں کے حق میں بہترین ہے، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اس خوبصورت ملفوظ میں غور فرمائیں، آپ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ ہم نے زندگی کی ہر خیر و بھلائی صَبْر ہی میں پائی ہے،، تو پھر صَبْر کیونکر خیر و برکت کا ذریعہ نہ ہو، جبکہ ہمارے نبی کریمﷺکا ارشاد ہے:«مَا أُعْطِيَ أَحَدٌ عَطَاءً خَيْرًا وَأَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ»، کسی کو بھی صَبْر سے بڑھ کر اچھی اور بے پایاں کوئی نعمت عطاء نہیں کی گئی.
الصبر خير العطاء
Patience Is the Greatest Gift
الْخُطْبَةُ الْأُولَى:
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَعَدَ الصَّابِرِينَ حُسْنَ الْمَآبِ، وَأَغْدَقَ عَلَيْهِمْ فَضْلَهُ بِغَيْرِ حِسَابٍ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ سَيِّدَنَا وَنَبِيَّنَا مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ وَسَلَّمَ وَبَارَكَ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَمَنْ وَالَاهُ.
أَمَّا بَعْدُ: فَأُوصِيكُمْ عِبَادَ اللَّهِ وَنَفْسِي بِتَقْوَى اللَّهِ:﴿إِنَّهُ مَنْ يَتَّقِ وَيَصْبِرْ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ﴾.
برادرانِ ایمان، میرے عزیز ساتھیو! ہمارا آج کا خطبہ ایک ایسی عظیم صفت کے بارے میں ہے، جو زمین وآسمان کے رب کو نہایت ہی محبوب ہے، اور جو لوگ بھی اس صفت کو اختیار کرتے ہیں تو اللہ رب العزت اُنہیں بہت اَجر وثواب سے نوازتے ہیں، اُنہی کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے﴿إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾، جو لوگ صَبْرسے کام لیتے ہیں، ان کا ثواب انہیں بے حساب دیا جائے گا، جی ہاں میرے بھائیو! صَبْر و تحمّل بڑی عظیم صفت ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن مجید فرقان حمید میں نَوّے (90) مقامات پر صَبْر کا ذکر فرمایا ہے، چنانچہ صَبْرایسی عظیم صفت ہے جو انسان کو بُرے اَخلاق سے روکتی ہے، اَچھے اَخلاق سے آراستہ کرتی ہے، صرف یہی نہیں بلکہ تمام اَنبیاءِ کرام علیہم السلام نے ہمیشہ صَبْر کا دامن تھامے رکھا،صَبْرکے راستے پر گامزن رہ کر ہی تبلیغِ دين کا فریضہ انجام دیا اورلوگوں کو اللہ رب العزت کی طرف بلایا، ارشاد باری تعالیٰ ہے﴿وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا﴾ اور ہم نے ان میں سے کچھ لوگوں کو، جب انہوں نے صَبْر کیا، ایسے پیشوا بنادیا جو ہمارے حکم سے لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے، چنانچہ حضرت نوح علیہ السلام، حضرت یعقوب علیہ السلام، اور حضرت اسماعیل علیہ السلام اللہ کے وہ جلیل القدر اَنبیاء ہیں جو صَبْرو ثَبات کے پیکر تھے، جن کے تحمُّل و برداشت کے واقعات کو خود باری تعالٰی نے قرآنِ کریم میں ذکر فرمایا ہے، اسی طرح حضرت اَیوب علیہ السلام کے عظیم صَبْر کو بیان فرمایا جو صحت و تندرستی پانے کے بعد بیماری کی آزمائش سے دوچار ہوئے ، مال و احباب اور اہل و عیال کی نعمتوں سے سرفراز ہو کرپھر اُن سے محرومی میں مُبتَلا ہوئے ، لیکن انہوں نے صَبْرِعظیم کا مظاہرہ کیا، اور اپنے رب کی رضا پر راضی رہے، پھر نہایت عاجزی اورانکساری سے اپنے رب کی بارگاہ میں یہ درخواست پیش کی:﴿أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ﴾ مجھے یہ تکلیف لگ گئی ہے، اور تو سارے رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے، تو الله رب العزت نے ان کی التجا قبول فرمائی اور انہیں صحت و عافیت سے ہمکنار فرمایا، ان کے مال و اولاد میں برکت دی اور اُسے کئی گُنا بڑھا دیا، اور ان کے صَبْرِعظيم کی یوں تعریف فرمائی:﴿إِنَّا وَجَدْنَاهُ صَابِرًا نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ﴾، حقیقت یہ ہے کہ ہم نے انہیں بڑا صَبْر کرنے والا پایا، وہ بہترین بندے تھے، واقعی وہ اللہ سے خوب لَو لگائے ہوئے تھے.
میرے عزيز بھائیو! ہمارے پیارے نبی، محمدِ مصطفٰی، اَحمدِ مجتبٰی ﷺصبر و ثَبات کے اعلى مقام پر فائز تهےاوراپنے رب کریم کی خاطر بہترین صَبْر و استقامت کا مظاہرہ کرنے والے تھے، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اپنی مدد و نصرت سے انہیں سرفراز فرمایا، اور رہتی دنیا تک اُن کے ذکرِ خیر کو جاری و باقی رکھا، اسی طرح جو بھی صَبْر و ثبات،اور تحمل و برداشت سے کام لیتا ہے تو رب تعالٰی کی نصرت اور توفیق اُس کے شاملِ حال ہو جاتی ہے. ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصَّابِرِينَ﴾. اور اگر صَبْر ہی کر لو تو یہ یقیناً صَبْر کرنے والوں کے حق میں بہترین ہے، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اس خوبصورت ملفوظ میں غور فرمائیں، آپ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ ہم نے زندگی کی ہر خیر و بھلائی صَبْر ہی میں پائی ہے،، تو پھر صَبْر کیونکر خیر و برکت کا ذریعہ نہ ہو، جبکہ ہمارے نبی کریمﷺکا ارشاد ہے:«مَا أُعْطِيَ أَحَدٌ عَطَاءً خَيْرًا وَأَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ»، کسی کو بھی صَبْر سے بڑھ کر اچھی اور بے پایاں کوئی نعمت عطاء نہیں کی گئی.
میرے بھائیو! رب تعالٰی کی اطاعت بجا لانے میں صَبْر و استقامت سے کام لینا ایک عظیم خصلت ہے یہ خصلت بندے کے درجات کی بلندی کا ذریعہ بنتی ہے، اُسے رب تعالٰی کی طرف سے مغفرت اور وعدۂ جنت کا حقدار ٹھہراتی ہے، اور اس فرمانِ اِلٰہی کا مصداق بنا دیتی ہے:﴿إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَئِكَ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ﴾، ہاں ! مگر جو لوگ صبر سے کام لیتے ہیں، اور نیک عمل کرتے ہیں وہ ایسے نہیں ہیں، ان کو مغفرت اور بڑا اجر نصیب ہوگا، اسی طرح جن چیزوں سے اللہ رب العزت نے انسان کو منع فرمایا ہے، ان کے ارتکاب سے بچنا، نافرمانی کی راہ اختیار کرنے سے باز رہنا، معصیت اور گناہوں سے دور رہنا اور شیطان کے بہکانے کے باوجود صبر و حوصلہ سے ڈٹے رہنا اور اس کے بہکاوے میں نہ آنا، انسان کو پاکدامن بناتا ہے، دنیا و آخرت میں کامیابی اور نجات اس کا مقدر بن جاتی ہے، اور وہ رحمتِ اِلٰہی سے فیض یاب ہوتا ہے، ارشادِ ربِ رحیم ہے:﴿وَأَنْ تَصْبِرُوا خَيْرٌ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ اور اگر تم صَبْر ہی کیے رہو تو یہ تمہارے لیے بہت بہتر ہے، اور اللہ بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے.
میرے اسلامى بهائيو! جو شخص آزمائش کی گھڑی اورمصیبت کى ابتدا میں صَبْر کرتا ہے، وہ عظیم اجر و ثواب سے نوازا جاتا ہے، چنانچہ آپ علیہ السلام کا گزر ایک ایسی عورت کے پاس سے ہوا جو اپنے بچے کی وفات پر رو رہی تھی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: «اتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي» اللہ سے ڈرو اور صَبْر کرو، تو وه خاتون آپ ﷺکو نہیں پہچان سكى اور بولى : آپ کو وہ مصیبت لاحق نہیں ہوئی جو مجھے لاحق ہوئی ہے، پھر جب اسے معلوم ہوا کہ اسے سمجھانے والے کوئی اور نہیں بلکہ اللہ کے پیارے نبی محمد ﷺہیں تو وہ آپ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئی، اور انتہائی پشیمانی کے ساتھ معذرت چاہی، تو آپ علیہ السلام نے پھرشفقت بھرے انداز میں اسے نصیحت کی اور فرمایا:«إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى»، حقیقی صَبْرتو وہ ہے جو صدمہ ملنےکے آغاز میں ہی کیا جائے. یعنی مصیبت کی ابتدا ہی میں الله کیلئے صَبْر کرلینا یہی اصل اور کامل صَبْر ہے جس پر اجر و ثواب کا وعدہ کیا گیا ہے. ورنہ بعد میں تو آدمی کو فطری طور پر صَبْرآہی جاتا ہے
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ﴾.
أَقُولُ قَوْلِي هَذَا وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ لِي وَلَكُمْ.
الْخُطْبَةُ الثَّانِيَةُ:
الْحَمْدُ لِلَّهِ وَحْدَهُ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى مَنْ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ.
أَمَّا بَعْدُ: برادرانِ اسلام! صَبْر خیر کے خزانوں کا راستہ اور ہر کامیابی کی کُنجی ہے، لہذٰا حصولِ علم کے لیے محنت کرنا اور اِس راہ میں آنے والی مشکلات پر صَبْر کرنا انسان کو بلندیوں تک لے جاتا ہے، چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی ایسے ہی ایک موقع پر فرمایاتها :﴿سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا﴾. ان شاء اللہ آپ مجھے صابر پائیں گے.اسی طرح جو شخص بھی اپنے کام میں محنت کرتا ہے اور صَبْر واستقامت سے اسے پایۂ تکمیل تک پہنچانے کی تگ و دو میں لگا رہتا ہے، تو اُسے ایک امتیازی شان حاصل ہوتی ہے، جو اُسے دوسرے لوگوں سے ممتاز بناتی ہے، اور جو شخص مُرَوّت اختیار کرتا ہے، خندہ پیشانی اور کشادہ دلی سے لوگوں کے نامناسب رویوں پر صَبْر کرتا ہے وہ نیکی اور احسان کی راہ پر چلنے والا ہوتا ہے اور اجرِ عظیم سےنوازا جاتاہے،باری تعالٰی جل جلالہ كاارشادہے:﴿وَاصْبِرْ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ﴾،اور صَبْر سے کام لو، اس لیے کہ اللہ نیکی کرنے والوں کا اَ جْر ضائع نہیں کرتا، بلاشبہ دشوارى اور تنگی كے وقت صَبْر او رحوصلے سے کام لینا كشادگی او ر آسانی پیدا کرتا ہے، نبیِ مُکرّم رسولِ معظّمﷺکا ارشاد گرامی ہے: «وَاعْلَمْ أَنَّ فِي الصَّبْرِ عَلَى مَا تَكْرَهُ خَيْرًا كَثِيرًا، وَأَنَّ النَّصْرَ مَعَ الصَّبْرِ، وَأَنَّ الْفَرَجَ مَعَ الْكَرْبِ، وَأَنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا»، اور یاد رکھو! مصائب پر صَبْر کرنے میں بڑی خیر ہے کیونکہ مدد صَبْر کے ساتھ ہوتی ہے، کشادگی تنگی کے ساتھ ہوتی ہے اور آسانی سختی کے ساتھ ہوتی ہے.
میرے اسلامى بهائيو! جو شخص آزمائش کی گھڑی اورمصیبت کى ابتدا میں صَبْر کرتا ہے، وہ عظیم اجر و ثواب سے نوازا جاتا ہے، چنانچہ آپ علیہ السلام کا گزر ایک ایسی عورت کے پاس سے ہوا جو اپنے بچے کی وفات پر رو رہی تھی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: «اتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي» اللہ سے ڈرو اور صَبْر کرو، تو وه خاتون آپ ﷺکو نہیں پہچان سكى اور بولى : آپ کو وہ مصیبت لاحق نہیں ہوئی جو مجھے لاحق ہوئی ہے، پھر جب اسے معلوم ہوا کہ اسے سمجھانے والے کوئی اور نہیں بلکہ اللہ کے پیارے نبی محمد ﷺہیں تو وہ آپ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئی، اور انتہائی پشیمانی کے ساتھ معذرت چاہی، تو آپ علیہ السلام نے پھرشفقت بھرے انداز میں اسے نصیحت کی اور فرمایا:«إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى»، حقیقی صَبْرتو وہ ہے جو صدمہ ملنےکے آغاز میں ہی کیا جائے. یعنی مصیبت کی ابتدا ہی میں الله کیلئے صَبْر کرلینا یہی اصل اور کامل صَبْر ہے جس پر اجر و ثواب کا وعدہ کیا گیا ہے. ورنہ بعد میں تو آدمی کو فطری طور پر صَبْرآہی جاتا ہے
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ﴾.
أَقُولُ قَوْلِي هَذَا وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ لِي وَلَكُمْ.
الْخُطْبَةُ الثَّانِيَةُ:
الْحَمْدُ لِلَّهِ وَحْدَهُ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى مَنْ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ.
أَمَّا بَعْدُ: برادرانِ اسلام! صَبْر خیر کے خزانوں کا راستہ اور ہر کامیابی کی کُنجی ہے، لہذٰا حصولِ علم کے لیے محنت کرنا اور اِس راہ میں آنے والی مشکلات پر صَبْر کرنا انسان کو بلندیوں تک لے جاتا ہے، چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی ایسے ہی ایک موقع پر فرمایاتها :﴿سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا﴾. ان شاء اللہ آپ مجھے صابر پائیں گے.اسی طرح جو شخص بھی اپنے کام میں محنت کرتا ہے اور صَبْر واستقامت سے اسے پایۂ تکمیل تک پہنچانے کی تگ و دو میں لگا رہتا ہے، تو اُسے ایک امتیازی شان حاصل ہوتی ہے، جو اُسے دوسرے لوگوں سے ممتاز بناتی ہے، اور جو شخص مُرَوّت اختیار کرتا ہے، خندہ پیشانی اور کشادہ دلی سے لوگوں کے نامناسب رویوں پر صَبْر کرتا ہے وہ نیکی اور احسان کی راہ پر چلنے والا ہوتا ہے اور اجرِ عظیم سےنوازا جاتاہے،باری تعالٰی جل جلالہ كاارشادہے:﴿وَاصْبِرْ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ﴾،اور صَبْر سے کام لو، اس لیے کہ اللہ نیکی کرنے والوں کا اَ جْر ضائع نہیں کرتا، بلاشبہ دشوارى اور تنگی كے وقت صَبْر او رحوصلے سے کام لینا كشادگی او ر آسانی پیدا کرتا ہے، نبیِ مُکرّم رسولِ معظّمﷺکا ارشاد گرامی ہے: «وَاعْلَمْ أَنَّ فِي الصَّبْرِ عَلَى مَا تَكْرَهُ خَيْرًا كَثِيرًا، وَأَنَّ النَّصْرَ مَعَ الصَّبْرِ، وَأَنَّ الْفَرَجَ مَعَ الْكَرْبِ، وَأَنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا»، اور یاد رکھو! مصائب پر صَبْر کرنے میں بڑی خیر ہے کیونکہ مدد صَبْر کے ساتھ ہوتی ہے، کشادگی تنگی کے ساتھ ہوتی ہے اور آسانی سختی کے ساتھ ہوتی ہے.
میرے بھائیو! سب سے اَعلی اور عظیم نصیحت جو لوگ آپس میں ایک دوسرے کو کر سکتے ہیں وہ صَبْر ہی کی نصیحت ہے،جسے اللہ رب العزت نے سورۂ عصر میں بیان فرمایا ہے:﴿وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ﴾ اور ایک دوسرے کو صَبْر کی نصیحت کریں، لہذا میرے دوستو! زندگی کے تمام تر معاملات میں صبر و تحمّل کا مظاہرہ کریں اور باہم صَبْر کی تعليم و تلقین کرتے رہیں تو ان شاء اللہ آپ کو ربِّ قدیر کی تائید و توفیق حاصل ہوگی اوراُس کی نصرت و اِعانت آپ کے شاملِ حال ہو گی:أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ:﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ﴾. اے ایمان والو ! صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ***
هَذَا وَصَلِّ اللَّهُمَّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا وَنَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ، وَارْضَ اللَّهُمَّ عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ وَعَلِيٍّ، وَعَنْ سَائِرِ الصَّحَابَةِ الْأَكْرَمِينَ.
اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ جَوَامِعَ الْخَيْرِ، وَمَعَاقِدَ الْبِرِّ، وَخَزَائِنَ فَضْلِكَ، وَسَعَةَ عَفْوِكَ. اللَّهُمَّ أَدِمْ عَلَى دَوْلَةِ الْإِمَارَاتِ عِزَّهَا وَنَصْرَهَا، وَاسْتِقْرَارَهَا وَازْدِهَارَهَا، وَخَيْرَهَا وَرَخَاءَهَا.
اللَّهُمَّ احْفَظِ الشّيخ مُحَمَّد بْن زَايد رَئِيسَ الدَّوْلَةِ بِحِفْظِكَ، وَكُنْ لَهُ عَوْنًا وَسَنَدًا، وَبَارِكْ فِي عُمْرِهِ وَعَمَلِهِ، اللَّهُمَّ وَفِّقْهُ وَنُوَّابَهُ وَإِخْوَانَهُ حُكَّامَ الْإِمَارَاتِ، وَوَلِيَّ عَهْدِهِ الْأَمِينَ؛ لِمَا تُحِبُّهُ وَتَرْضَاهُ.
اللَّهُمَّ ارْحَمِ الشّيخ زَايد، وَالشّيخ رَاشِد، وَشُيُوخَ الْإِمَارَاتِ الَّذِينَ انْتَقَلُوا إِلَى رَحْمَتِكَ، وَأَدْخِلْهُمْ بِفَضْلِكَ فَسِيحَ جَنَّاتِكَ.
اللَّهُمَّ اشْمَلْ شُهَدَاءَ الْوَطَنِ بِرَحْمَتِكَ وَغُفْرَانِكَ.
اللَّهُمَّ ارْحَمِ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ: الْأَحْيَاءَ مِنْهُمْ وَالْأَمْوَاتَ.
عِبَادَ اللَّهِ: اذْكُرُوا اللَّهَ الْعَظِيمَ الْجَلِيلَ يَذْكُرْكُمْ، وَاشْكُرُوهُ عَلَى نِعَمِهِ يَزِدْكُمْ. وَأَقِمِ الصَّلَاةَ.
هَذَا وَصَلِّ اللَّهُمَّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا وَنَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ، وَارْضَ اللَّهُمَّ عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ وَعَلِيٍّ، وَعَنْ سَائِرِ الصَّحَابَةِ الْأَكْرَمِينَ.
اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ جَوَامِعَ الْخَيْرِ، وَمَعَاقِدَ الْبِرِّ، وَخَزَائِنَ فَضْلِكَ، وَسَعَةَ عَفْوِكَ. اللَّهُمَّ أَدِمْ عَلَى دَوْلَةِ الْإِمَارَاتِ عِزَّهَا وَنَصْرَهَا، وَاسْتِقْرَارَهَا وَازْدِهَارَهَا، وَخَيْرَهَا وَرَخَاءَهَا.
اللَّهُمَّ احْفَظِ الشّيخ مُحَمَّد بْن زَايد رَئِيسَ الدَّوْلَةِ بِحِفْظِكَ، وَكُنْ لَهُ عَوْنًا وَسَنَدًا، وَبَارِكْ فِي عُمْرِهِ وَعَمَلِهِ، اللَّهُمَّ وَفِّقْهُ وَنُوَّابَهُ وَإِخْوَانَهُ حُكَّامَ الْإِمَارَاتِ، وَوَلِيَّ عَهْدِهِ الْأَمِينَ؛ لِمَا تُحِبُّهُ وَتَرْضَاهُ.
اللَّهُمَّ ارْحَمِ الشّيخ زَايد، وَالشّيخ رَاشِد، وَشُيُوخَ الْإِمَارَاتِ الَّذِينَ انْتَقَلُوا إِلَى رَحْمَتِكَ، وَأَدْخِلْهُمْ بِفَضْلِكَ فَسِيحَ جَنَّاتِكَ.
اللَّهُمَّ اشْمَلْ شُهَدَاءَ الْوَطَنِ بِرَحْمَتِكَ وَغُفْرَانِكَ.
اللَّهُمَّ ارْحَمِ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ: الْأَحْيَاءَ مِنْهُمْ وَالْأَمْوَاتَ.
عِبَادَ اللَّهِ: اذْكُرُوا اللَّهَ الْعَظِيمَ الْجَلِيلَ يَذْكُرْكُمْ، وَاشْكُرُوهُ عَلَى نِعَمِهِ يَزِدْكُمْ. وَأَقِمِ الصَّلَاةَ.
യുഎഇ വെള്ളിയാഴ്ച ഖുത്ബ 10-07-2026 🎙️🇦🇪
*ക്ഷമയാണ് ഏറ്റവും വലിയ അനുഗ്രഹം *✨
الصبر خير العطاء
ആദ്യ ഖുത്ബ
ക്ഷമിക്കുന്നവർക്ക് ഏറ്റവും ഉത്തമമായ പരലോക ഭവനം വാഗ്ദാനം ചെയ്യുകയും അളവറ്റ പ്രതിഫലം നൽകുകയും ചെയ്ത അല്ലാഹുവിനാണ് എല്ലാ സ്തുതിയും. അല്ലാഹുവല്ലാതെ ആരാധനയ്ക്ക് അർഹനായ മറ്റാരുമില്ലെന്ന് ഞാൻ സാക്ഷ്യം വഹിക്കുന്നു. നമ്മുടെ നേതാവും പ്രവാചകനുമായ മുഹമ്മദ് ﷺ അല്ലാഹുവിന്റെ ദൂതനാണെന്നും ഞാൻ സാക്ഷ്യം വഹിക്കുന്നു. അദ്ദേഹത്തിനും കുടുംബത്തിനും സ്വഹാബികൾക്കും അദ്ദേഹത്തെ ആത്മാർത്ഥമായി പിന്തുടരുന്ന എല്ലാവർക്കും അല്ലാഹുവിന്റെ സമാധാനവും അനുഗ്രഹവും ഉണ്ടാകട്ടെ.
ഇനി പറയാനുള്ളത്:
അല്ലാഹുവിന്റെ ദാസന്മാരേ, നിങ്ങളെയും എന്നെയും ഞാൻ തഖ്വയിലേക്ക് ഉപദേശിക്കുന്നു.
അല്ലാഹു പറയുന്നു:
﴿إِنَّهُ مَنْ يَتَّقِ وَيَصْبِرْ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ﴾
“തീർച്ചയായും അല്ലാഹുവിനെ സൂക്ഷിക്കുകയും ക്ഷമ പാലിക്കുകയും ചെയ്യുന്നവരുടെ പ്രതിഫലം അല്ലാഹു ഒരിക്കലും പാഴാക്കുകയില്ല.” (യൂസുഫ് 12:90)
വിശ്വാസികളേ,
ഇന്നത്തെ ഖുത്ബയുടെ വിഷയം അല്ലാഹുവിന് ഏറ്റവും പ്രിയപ്പെട്ട മഹത്തായ ഒരു സ്വഭാവഗുണമാണ്.
അതിന്റെ ഉടമകൾക്ക് അല്ലാഹു അളവറ്റ പ്രതിഫലം നൽകുന്നു.
﴿إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾
“ക്ഷമിക്കുന്നവർക്ക് അവരുടെ പ്രതിഫലം കണക്കില്ലാതെ നൽകപ്പെടും.” (സുമർ 39:10)
ഇത് ക്ഷമ (സബ്റ്) എന്ന മഹത്തായ ഗുണമാണ്.
അല്ലാഹുവിന്റെ ഗ്രന്ഥത്തിൽ തൊണ്ണൂറിലധികം സ്ഥലങ്ങളിൽ ഇത് പരാമർശിക്കപ്പെട്ടിട്ടുണ്ട്.
ക്ഷമ മനുഷ്യനെ തിന്മയിൽ നിന്ന് തടയുകയും നന്മയിലേക്ക് നയിക്കുകയും ചെയ്യുന്നു.
ഇത് പ്രവാചകന്മാരുടെ ശക്തമായ മാർഗവും നേരായ പാതയുമാണ്.
അല്ലാഹു പറയുന്നു:
﴿وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا﴾
“അവർ ക്ഷമ പാലിച്ചപ്പോൾ അവരിൽ നിന്ന് നമ്മുടെ കൽപനപ്രകാരം ജനങ്ങളെ നയിക്കുന്ന നേതാക്കളെ നാം ഉണ്ടാക്കി.” (സജ്ദ 32:24)
നൂഹ് (അ), യഅ്ഖൂബ് (അ), ഇസ്മാഈൽ (അ), അയ്യൂബ് (അ) എന്നിവരെല്ലാം ക്ഷമയുടെ പാതയിലൂടെ നടന്നു.
അയ്യൂബ് (അ) ആരോഗ്യവാനായിരുന്ന ശേഷം രോഗബാധിതനായി.
സമ്പത്തും കുടുംബവും നഷ്ടപ്പെട്ടു.
എന്നിട്ടും അദ്ദേഹം ക്ഷമ പാലിച്ചു.
അദ്ദേഹം അല്ലാഹുവിനോട് പ്രാർത്ഥിച്ചു:
﴿أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ﴾
“എനിക്ക് ദുരിതം ബാധിച്ചിരിക്കുന്നു. നീ കരുണയുള്ളവരിൽ ഏറ്റവും കരുണയുള്ളവനാകുന്നു.” (അമ്പിയാഃ 21:83)
അല്ലാഹു അദ്ദേഹത്തിന് ആരോഗ്യം തിരികെ നൽകി.
കുടുംബവും സമ്പത്തും ഇരട്ടിയായി നൽകി.
ശേഷം അല്ലാഹു പ്രഖ്യാപിച്ചു:
﴿إِنَّا وَجَدْنَاهُ صَابِرًا نِعْمَ الْعَبْدُ﴾
“ഞങ്ങൾ അദ്ദേഹത്തെ ക്ഷമയുള്ളവനായി കണ്ടെത്തി. എത്ര ഉത്തമനായ ദാസൻ!” (സ്വാദ് 38:44)
നമ്മുടെ പ്രിയപ്പെട്ട പ്രവാചകൻ മുഹമ്മദ് ﷺ തന്റെ റബ്ബിന്റെ മുമ്പിൽ ക്ഷമയുടെ ഏറ്റവും മഹത്തായ മാതൃകയായിരുന്നു.
അല്ലാഹു അദ്ദേഹത്തിന് വിജയം നൽകി.
അദ്ദേഹത്തിന്റെ മഹത്തായ നാമം ലോകമെങ്ങും ഉയർത്തി.
അദ്ദേഹത്തെ പിന്തുടരുന്നവർക്കും അതേ അനുഗ്രഹമുണ്ട്.
അല്ലാഹു പറയുന്നു:
﴿وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصَّابِرِينَ﴾
“നിങ്ങൾ ക്ഷമിച്ചാൽ അത് ക്ഷമിക്കുന്നവർക്ക് ഏറ്റവും ഉത്തമമാണ്.” (നഹ്ൽ 16:126)
ഉമർ ഇബ്നുൽ ഖത്താബ് (റ) പറഞ്ഞു:
“നമ്മുടെ ജീവിതത്തിലെ ഏറ്റവും നല്ലത് ഞങ്ങൾ ക്ഷമയിലൂടെയാണ് കണ്ടെത്തിയത്.” (ബുഖാരി)
നബി ﷺ പറഞ്ഞു:
“ക്ഷമയെക്കാൾ മികച്ചതും വിശാലവുമായ ഒരു അനുഗ്രഹം ഒരാൾക്കും ലഭിച്ചിട്ടില്ല.” (ബുഖാരി, മുസ്ലിം)
ആരാധനയിൽ ക്ഷമ പാലിക്കുന്നത് മനുഷ്യന്റെ പദവി ഉയർത്തുകയും സ്വർഗ്ഗത്തിനും പാപമോചനത്തിനും കാരണമാവുകയും ചെയ്യുന്നു.
അല്ലാഹു പറയുന്നു:
﴿إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ﴾
“ക്ഷമ പാലിക്കുകയും സൽകർമ്മങ്ങൾ ചെയ്യുകയും ചെയ്യുന്നവർക്ക് പാപമോചനവും മഹത്തായ പ്രതിഫലവുമുണ്ട്.” (ഹൂദ് 11:11)
അല്ലാഹു നിരോധിച്ച കാര്യങ്ങളിൽ നിന്ന് വിട്ടുനിൽക്കാനുള്ള ക്ഷമ രക്ഷയും അല്ലാഹുവിന്റെ കരുണ നേടാനുള്ള മാർഗവുമാണ്.
﴿وَأَنْ تَصْبِرُوا خَيْرٌ لَكُمْ﴾
“നിങ്ങൾ ക്ഷമ പാലിക്കുന്നതാണ് നിങ്ങൾക്ക് ഏറ്റവും നല്ലത്.” (നിസാഃ 4:25)
ദുരിതങ്ങളിൽ ക്ഷമിക്കുന്നവർക്ക് വലിയ പ്രതിഫലമുണ്ട്.
ഒരു ദിവസം നബി ﷺ തന്റെ മകന്റെ മരണത്തിൽ കരയുന്ന ഒരു സ്ത്രീയോട് പറഞ്ഞു:
“അല്ലാഹുവിനെ ഭയപ്പെടുകയും ക്ഷമ പാലിക്കുകയും ചെയ്യുക.”
അവൾ അദ്ദേഹത്തെ തിരിച്ചറിയാതെ പറഞ്ഞു:
“എനിക്ക് സംഭവിച്ചതുപോലുള്ള ദുരന്തം നിങ്ങൾക്ക് സംഭവിച്ചിട്ടില്ല.”
ശേഷം അത് നബി ﷺ ആണെന്ന് അറിഞ്ഞപ്പോൾ അവൾ ക്ഷമ ചോദിച്ചു.
അപ്പോൾ നബി ﷺ പറഞ്ഞു:
“യഥാർത്ഥ ക്ഷമ ദുരന്തം ആദ്യം സംഭവിക്കുന്ന നിമിഷത്തിലാണ്.” (ബുഖാരി, മുസ്ലിം)
അതായത് ഏറ്റവും വലിയ പ്രതിഫലം ലഭിക്കുന്ന ക്ഷമ അതാണ്.
അല്ലാഹു പറയുന്നു:
﴿أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ﴾
“അല്ലാഹുവിനെയും ദൂതനെയും നിങ്ങളിലെ അധികാരികളെയും അനുസരിക്കൂ.” (നിസാഃ 59)
*ക്ഷമയാണ് ഏറ്റവും വലിയ അനുഗ്രഹം *✨
الصبر خير العطاء
ആദ്യ ഖുത്ബ
ക്ഷമിക്കുന്നവർക്ക് ഏറ്റവും ഉത്തമമായ പരലോക ഭവനം വാഗ്ദാനം ചെയ്യുകയും അളവറ്റ പ്രതിഫലം നൽകുകയും ചെയ്ത അല്ലാഹുവിനാണ് എല്ലാ സ്തുതിയും. അല്ലാഹുവല്ലാതെ ആരാധനയ്ക്ക് അർഹനായ മറ്റാരുമില്ലെന്ന് ഞാൻ സാക്ഷ്യം വഹിക്കുന്നു. നമ്മുടെ നേതാവും പ്രവാചകനുമായ മുഹമ്മദ് ﷺ അല്ലാഹുവിന്റെ ദൂതനാണെന്നും ഞാൻ സാക്ഷ്യം വഹിക്കുന്നു. അദ്ദേഹത്തിനും കുടുംബത്തിനും സ്വഹാബികൾക്കും അദ്ദേഹത്തെ ആത്മാർത്ഥമായി പിന്തുടരുന്ന എല്ലാവർക്കും അല്ലാഹുവിന്റെ സമാധാനവും അനുഗ്രഹവും ഉണ്ടാകട്ടെ.
ഇനി പറയാനുള്ളത്:
അല്ലാഹുവിന്റെ ദാസന്മാരേ, നിങ്ങളെയും എന്നെയും ഞാൻ തഖ്വയിലേക്ക് ഉപദേശിക്കുന്നു.
അല്ലാഹു പറയുന്നു:
﴿إِنَّهُ مَنْ يَتَّقِ وَيَصْبِرْ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ﴾
“തീർച്ചയായും അല്ലാഹുവിനെ സൂക്ഷിക്കുകയും ക്ഷമ പാലിക്കുകയും ചെയ്യുന്നവരുടെ പ്രതിഫലം അല്ലാഹു ഒരിക്കലും പാഴാക്കുകയില്ല.” (യൂസുഫ് 12:90)
വിശ്വാസികളേ,
ഇന്നത്തെ ഖുത്ബയുടെ വിഷയം അല്ലാഹുവിന് ഏറ്റവും പ്രിയപ്പെട്ട മഹത്തായ ഒരു സ്വഭാവഗുണമാണ്.
അതിന്റെ ഉടമകൾക്ക് അല്ലാഹു അളവറ്റ പ്രതിഫലം നൽകുന്നു.
﴿إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾
“ക്ഷമിക്കുന്നവർക്ക് അവരുടെ പ്രതിഫലം കണക്കില്ലാതെ നൽകപ്പെടും.” (സുമർ 39:10)
ഇത് ക്ഷമ (സബ്റ്) എന്ന മഹത്തായ ഗുണമാണ്.
അല്ലാഹുവിന്റെ ഗ്രന്ഥത്തിൽ തൊണ്ണൂറിലധികം സ്ഥലങ്ങളിൽ ഇത് പരാമർശിക്കപ്പെട്ടിട്ടുണ്ട്.
ക്ഷമ മനുഷ്യനെ തിന്മയിൽ നിന്ന് തടയുകയും നന്മയിലേക്ക് നയിക്കുകയും ചെയ്യുന്നു.
ഇത് പ്രവാചകന്മാരുടെ ശക്തമായ മാർഗവും നേരായ പാതയുമാണ്.
അല്ലാഹു പറയുന്നു:
﴿وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا﴾
“അവർ ക്ഷമ പാലിച്ചപ്പോൾ അവരിൽ നിന്ന് നമ്മുടെ കൽപനപ്രകാരം ജനങ്ങളെ നയിക്കുന്ന നേതാക്കളെ നാം ഉണ്ടാക്കി.” (സജ്ദ 32:24)
നൂഹ് (അ), യഅ്ഖൂബ് (അ), ഇസ്മാഈൽ (അ), അയ്യൂബ് (അ) എന്നിവരെല്ലാം ക്ഷമയുടെ പാതയിലൂടെ നടന്നു.
അയ്യൂബ് (അ) ആരോഗ്യവാനായിരുന്ന ശേഷം രോഗബാധിതനായി.
സമ്പത്തും കുടുംബവും നഷ്ടപ്പെട്ടു.
എന്നിട്ടും അദ്ദേഹം ക്ഷമ പാലിച്ചു.
അദ്ദേഹം അല്ലാഹുവിനോട് പ്രാർത്ഥിച്ചു:
﴿أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ﴾
“എനിക്ക് ദുരിതം ബാധിച്ചിരിക്കുന്നു. നീ കരുണയുള്ളവരിൽ ഏറ്റവും കരുണയുള്ളവനാകുന്നു.” (അമ്പിയാഃ 21:83)
അല്ലാഹു അദ്ദേഹത്തിന് ആരോഗ്യം തിരികെ നൽകി.
കുടുംബവും സമ്പത്തും ഇരട്ടിയായി നൽകി.
ശേഷം അല്ലാഹു പ്രഖ്യാപിച്ചു:
﴿إِنَّا وَجَدْنَاهُ صَابِرًا نِعْمَ الْعَبْدُ﴾
“ഞങ്ങൾ അദ്ദേഹത്തെ ക്ഷമയുള്ളവനായി കണ്ടെത്തി. എത്ര ഉത്തമനായ ദാസൻ!” (സ്വാദ് 38:44)
നമ്മുടെ പ്രിയപ്പെട്ട പ്രവാചകൻ മുഹമ്മദ് ﷺ തന്റെ റബ്ബിന്റെ മുമ്പിൽ ക്ഷമയുടെ ഏറ്റവും മഹത്തായ മാതൃകയായിരുന്നു.
അല്ലാഹു അദ്ദേഹത്തിന് വിജയം നൽകി.
അദ്ദേഹത്തിന്റെ മഹത്തായ നാമം ലോകമെങ്ങും ഉയർത്തി.
അദ്ദേഹത്തെ പിന്തുടരുന്നവർക്കും അതേ അനുഗ്രഹമുണ്ട്.
അല്ലാഹു പറയുന്നു:
﴿وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصَّابِرِينَ﴾
“നിങ്ങൾ ക്ഷമിച്ചാൽ അത് ക്ഷമിക്കുന്നവർക്ക് ഏറ്റവും ഉത്തമമാണ്.” (നഹ്ൽ 16:126)
ഉമർ ഇബ്നുൽ ഖത്താബ് (റ) പറഞ്ഞു:
“നമ്മുടെ ജീവിതത്തിലെ ഏറ്റവും നല്ലത് ഞങ്ങൾ ക്ഷമയിലൂടെയാണ് കണ്ടെത്തിയത്.” (ബുഖാരി)
നബി ﷺ പറഞ്ഞു:
“ക്ഷമയെക്കാൾ മികച്ചതും വിശാലവുമായ ഒരു അനുഗ്രഹം ഒരാൾക്കും ലഭിച്ചിട്ടില്ല.” (ബുഖാരി, മുസ്ലിം)
ആരാധനയിൽ ക്ഷമ പാലിക്കുന്നത് മനുഷ്യന്റെ പദവി ഉയർത്തുകയും സ്വർഗ്ഗത്തിനും പാപമോചനത്തിനും കാരണമാവുകയും ചെയ്യുന്നു.
അല്ലാഹു പറയുന്നു:
﴿إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ﴾
“ക്ഷമ പാലിക്കുകയും സൽകർമ്മങ്ങൾ ചെയ്യുകയും ചെയ്യുന്നവർക്ക് പാപമോചനവും മഹത്തായ പ്രതിഫലവുമുണ്ട്.” (ഹൂദ് 11:11)
അല്ലാഹു നിരോധിച്ച കാര്യങ്ങളിൽ നിന്ന് വിട്ടുനിൽക്കാനുള്ള ക്ഷമ രക്ഷയും അല്ലാഹുവിന്റെ കരുണ നേടാനുള്ള മാർഗവുമാണ്.
﴿وَأَنْ تَصْبِرُوا خَيْرٌ لَكُمْ﴾
“നിങ്ങൾ ക്ഷമ പാലിക്കുന്നതാണ് നിങ്ങൾക്ക് ഏറ്റവും നല്ലത്.” (നിസാഃ 4:25)
ദുരിതങ്ങളിൽ ക്ഷമിക്കുന്നവർക്ക് വലിയ പ്രതിഫലമുണ്ട്.
ഒരു ദിവസം നബി ﷺ തന്റെ മകന്റെ മരണത്തിൽ കരയുന്ന ഒരു സ്ത്രീയോട് പറഞ്ഞു:
“അല്ലാഹുവിനെ ഭയപ്പെടുകയും ക്ഷമ പാലിക്കുകയും ചെയ്യുക.”
അവൾ അദ്ദേഹത്തെ തിരിച്ചറിയാതെ പറഞ്ഞു:
“എനിക്ക് സംഭവിച്ചതുപോലുള്ള ദുരന്തം നിങ്ങൾക്ക് സംഭവിച്ചിട്ടില്ല.”
ശേഷം അത് നബി ﷺ ആണെന്ന് അറിഞ്ഞപ്പോൾ അവൾ ക്ഷമ ചോദിച്ചു.
അപ്പോൾ നബി ﷺ പറഞ്ഞു:
“യഥാർത്ഥ ക്ഷമ ദുരന്തം ആദ്യം സംഭവിക്കുന്ന നിമിഷത്തിലാണ്.” (ബുഖാരി, മുസ്ലിം)
അതായത് ഏറ്റവും വലിയ പ്രതിഫലം ലഭിക്കുന്ന ക്ഷമ അതാണ്.
അല്ലാഹു പറയുന്നു:
﴿أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ﴾
“അല്ലാഹുവിനെയും ദൂതനെയും നിങ്ങളിലെ അധികാരികളെയും അനുസരിക്കൂ.” (നിസാഃ 59)
ഞാൻ പറഞ്ഞ ഈ വാക്കുകളോടെ എനിക്കും നിങ്ങൾക്കും വേണ്ടി അല്ലാഹുവിനോട് പാപമോചനം തേടുന്നു.
രണ്ടാം ഖുത്ബ
അല്ലാഹുവിനാണ് എല്ലാ സ്തുതിയും.
അവസാന പ്രവാചകനായ മുഹമ്മദ് ﷺ ക്ക് സമാധാനവും അനുഗ്രഹവും ഉണ്ടാകട്ടെ.
വിശ്വാസികളേ,
ക്ഷമ നന്മയുടെ ഏറ്റവും വലിയ നിധികളിലൊന്നാണ്.
അറിവ് നേടാൻ ക്ഷമയാണ് ഉയർച്ചയുടെ വഴി.
മൂസാ (അ) പറഞ്ഞു:
﴿سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا﴾
“അല്ലാഹു ഉദ്ദേശിച്ചാൽ നിങ്ങൾ എന്നെ ക്ഷമയുള്ളവനായി കാണും.” (കഹ്ഫ് 18:69)
ജോലിയിൽ ആത്മാർത്ഥമായി പരിശ്രമിക്കാനുള്ള ക്ഷമ മികവിലേക്ക് നയിക്കുന്നു.
നല്ല സ്വഭാവത്തിലും ഔദാര്യത്തിലും ക്ഷമ പാലിക്കുന്നത് യഥാർത്ഥ സൽകർമ്മമാണ്.
അല്ലാഹു പറയുന്നു:
﴿وَاصْبِرْ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ﴾
“ക്ഷമ പാലിക്കുക. തീർച്ചയായും സൽകർമ്മം ചെയ്യുന്നവരുടെ പ്രതിഫലം അല്ലാഹു പാഴാക്കുകയില്ല.” (ഹൂദ് 11:115)
പ്രയാസങ്ങളിൽ ക്ഷമ പാലിച്ചാൽ ആശ്വാസവും വിജയവും ലഭിക്കും.
നബി ﷺ പറഞ്ഞു:
“നിനക്ക് ഇഷ്ടമില്ലാത്ത കാര്യങ്ങളിൽ ക്ഷമിക്കുന്നതിൽ വലിയ നന്മയുണ്ട്. വിജയം ക്ഷമയോടൊപ്പമാണ്. പ്രയാസത്തോടൊപ്പം ആശ്വാസമുണ്ട്. കഷ്ടതയോടൊപ്പം എളുപ്പവുമുണ്ട്.” (മുസ്നദ് അഹ്മദ്)
ക്ഷമ പരസ്പരം ഉപദേശിക്കേണ്ട ഏറ്റവും വലിയ കാര്യങ്ങളിൽ ഒന്നാണ്.
അല്ലാഹു പറയുന്നു:
﴿وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ﴾
“അവർ പരസ്പരം ക്ഷമ ഉപദേശിച്ചു.” (അൽ അസ്റ് 103:3)
അതിനാൽ ജീവിതത്തിന്റെ എല്ലാ മേഖലകളിലും ക്ഷമയെ അലങ്കാരമാക്കുക.
അപ്പോൾ നിങ്ങൾക്ക് നിങ്ങളുടെ റബ്ബിന്റെ സാന്നിധ്യം ലഭിക്കും.
അല്ലാഹു പറയുന്നു:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ﴾
“വിശ്വസിച്ചവരേ! ക്ഷമയിലൂടെയും നമസ്കാരത്തിലൂടെയും സഹായം തേടുക. തീർച്ചയായും അല്ലാഹു ക്ഷമിക്കുന്നവരോടൊപ്പമാണ്.” (ബഖറ 2:153)
അല്ലാഹുവേ, നമ്മുടെ നേതാവും പ്രവാചകനുമായ മുഹമ്മദ് ﷺ ക്കും കുടുംബത്തിനും സ്വഹാബികൾക്കും സമാധാനവും അനുഗ്രഹവും നൽകണമേ.
അബൂബക്കർ, ഉമർ, ഉസ്മാൻ, അലി (റ) എന്നിവരോടും എല്ലാ മഹത്തായ സ്വഹാബികളോടും നീ തൃപ്തനാകണമേ.
അല്ലാഹുവേ, എല്ലാ നന്മകളും, സൽകർമ്മങ്ങളുടെ അടിത്തറകളും, നിന്റെ അനുഗ്രഹങ്ങളുടെ നിധികളും, നിന്റെ വിശാലമായ പൊറുപ്പും ഞങ്ങൾ നിനക്കോട് ചോദിക്കുന്നു.
അല്ലാഹുവേ, യു.എ.ഇ.യ്ക്ക് എന്നും അഭിമാനവും വിജയവും സുരക്ഷയും സ്ഥിരതയും സമൃദ്ധിയും നന്മയും നൽകണമേ.
അല്ലാഹുവേ, രാഷ്ട്രപതിയായ ശൈഖ് മുഹമ്മദ് ബിൻ സായിദ് ആൽ നഹ്യാനെ സംരക്ഷിക്കണമേ. അദ്ദേഹത്തിന് ശക്തിയും പിന്തുണയും നൽകണമേ. അദ്ദേഹത്തിന്റെ ജീവിതത്തിലും പ്രവർത്തനങ്ങളിലും അനുഗ്രഹം നൽകണമേ.
അല്ലാഹുവേ, അദ്ദേഹത്തിനും ഉപരാഷ്ട്രപതിമാർക്കും എമിറേറ്റുകളുടെ ഭരണാധികാരികൾക്കും കിരീടാവകാശിക്കും നീ ഇഷ്ടപ്പെടുന്നതും പ്രസാദിക്കുന്നതുമായ കാര്യങ്ങളിൽ വിജയം നൽകണമേ.
അല്ലാഹുവേ, ശൈഖ് സായിദിനും ശൈഖ് റാഷിദിനും അന്തരിച്ച എല്ലാ ഭരണാധികാരികൾക്കും കരുണ നൽകുകയും അവരെ വിശാലമായ സ്വർഗോദ്യാനങ്ങളിൽ പ്രവേശിപ്പിക്കുകയും ചെയ്യണമേ.
അല്ലാഹുവേ, നമ്മുടെ രാജ്യത്തിന്റെ ശഹീദുമാരെ നിന്റെ കരുണയാലും പൊറുപ്പാലും പൊതിയണമേ.
അല്ലാഹുവേ, ജീവിച്ചിരിക്കുന്നവരും മരണപ്പെട്ടവരുമായ എല്ലാ മുസ്ലിം പുരുഷന്മാർക്കും സ്ത്രീകൾക്കും കരുണ നൽകണമേ.
അല്ലാഹുവിന്റെ ദാസന്മാരേ,
അല്ലാഹുവിനെ സ്മരിക്കൂ; അവൻ നിങ്ങളെ സ്മരിക്കും.
അവന്റെ അനുഗ്രഹങ്ങൾക്ക് നന്ദി പറയൂ; അവൻ നിങ്ങളെ കൂടുതൽ അനുഗ്രഹിക്കും.
നമസ്കാരം സ്ഥാപിക്കുവിൻ.
രണ്ടാം ഖുത്ബ
അല്ലാഹുവിനാണ് എല്ലാ സ്തുതിയും.
അവസാന പ്രവാചകനായ മുഹമ്മദ് ﷺ ക്ക് സമാധാനവും അനുഗ്രഹവും ഉണ്ടാകട്ടെ.
വിശ്വാസികളേ,
ക്ഷമ നന്മയുടെ ഏറ്റവും വലിയ നിധികളിലൊന്നാണ്.
അറിവ് നേടാൻ ക്ഷമയാണ് ഉയർച്ചയുടെ വഴി.
മൂസാ (അ) പറഞ്ഞു:
﴿سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا﴾
“അല്ലാഹു ഉദ്ദേശിച്ചാൽ നിങ്ങൾ എന്നെ ക്ഷമയുള്ളവനായി കാണും.” (കഹ്ഫ് 18:69)
ജോലിയിൽ ആത്മാർത്ഥമായി പരിശ്രമിക്കാനുള്ള ക്ഷമ മികവിലേക്ക് നയിക്കുന്നു.
നല്ല സ്വഭാവത്തിലും ഔദാര്യത്തിലും ക്ഷമ പാലിക്കുന്നത് യഥാർത്ഥ സൽകർമ്മമാണ്.
അല്ലാഹു പറയുന്നു:
﴿وَاصْبِرْ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ﴾
“ക്ഷമ പാലിക്കുക. തീർച്ചയായും സൽകർമ്മം ചെയ്യുന്നവരുടെ പ്രതിഫലം അല്ലാഹു പാഴാക്കുകയില്ല.” (ഹൂദ് 11:115)
പ്രയാസങ്ങളിൽ ക്ഷമ പാലിച്ചാൽ ആശ്വാസവും വിജയവും ലഭിക്കും.
നബി ﷺ പറഞ്ഞു:
“നിനക്ക് ഇഷ്ടമില്ലാത്ത കാര്യങ്ങളിൽ ക്ഷമിക്കുന്നതിൽ വലിയ നന്മയുണ്ട്. വിജയം ക്ഷമയോടൊപ്പമാണ്. പ്രയാസത്തോടൊപ്പം ആശ്വാസമുണ്ട്. കഷ്ടതയോടൊപ്പം എളുപ്പവുമുണ്ട്.” (മുസ്നദ് അഹ്മദ്)
ക്ഷമ പരസ്പരം ഉപദേശിക്കേണ്ട ഏറ്റവും വലിയ കാര്യങ്ങളിൽ ഒന്നാണ്.
അല്ലാഹു പറയുന്നു:
﴿وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ﴾
“അവർ പരസ്പരം ക്ഷമ ഉപദേശിച്ചു.” (അൽ അസ്റ് 103:3)
അതിനാൽ ജീവിതത്തിന്റെ എല്ലാ മേഖലകളിലും ക്ഷമയെ അലങ്കാരമാക്കുക.
അപ്പോൾ നിങ്ങൾക്ക് നിങ്ങളുടെ റബ്ബിന്റെ സാന്നിധ്യം ലഭിക്കും.
അല്ലാഹു പറയുന്നു:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ﴾
“വിശ്വസിച്ചവരേ! ക്ഷമയിലൂടെയും നമസ്കാരത്തിലൂടെയും സഹായം തേടുക. തീർച്ചയായും അല്ലാഹു ക്ഷമിക്കുന്നവരോടൊപ്പമാണ്.” (ബഖറ 2:153)
അല്ലാഹുവേ, നമ്മുടെ നേതാവും പ്രവാചകനുമായ മുഹമ്മദ് ﷺ ക്കും കുടുംബത്തിനും സ്വഹാബികൾക്കും സമാധാനവും അനുഗ്രഹവും നൽകണമേ.
അബൂബക്കർ, ഉമർ, ഉസ്മാൻ, അലി (റ) എന്നിവരോടും എല്ലാ മഹത്തായ സ്വഹാബികളോടും നീ തൃപ്തനാകണമേ.
അല്ലാഹുവേ, എല്ലാ നന്മകളും, സൽകർമ്മങ്ങളുടെ അടിത്തറകളും, നിന്റെ അനുഗ്രഹങ്ങളുടെ നിധികളും, നിന്റെ വിശാലമായ പൊറുപ്പും ഞങ്ങൾ നിനക്കോട് ചോദിക്കുന്നു.
അല്ലാഹുവേ, യു.എ.ഇ.യ്ക്ക് എന്നും അഭിമാനവും വിജയവും സുരക്ഷയും സ്ഥിരതയും സമൃദ്ധിയും നന്മയും നൽകണമേ.
അല്ലാഹുവേ, രാഷ്ട്രപതിയായ ശൈഖ് മുഹമ്മദ് ബിൻ സായിദ് ആൽ നഹ്യാനെ സംരക്ഷിക്കണമേ. അദ്ദേഹത്തിന് ശക്തിയും പിന്തുണയും നൽകണമേ. അദ്ദേഹത്തിന്റെ ജീവിതത്തിലും പ്രവർത്തനങ്ങളിലും അനുഗ്രഹം നൽകണമേ.
അല്ലാഹുവേ, അദ്ദേഹത്തിനും ഉപരാഷ്ട്രപതിമാർക്കും എമിറേറ്റുകളുടെ ഭരണാധികാരികൾക്കും കിരീടാവകാശിക്കും നീ ഇഷ്ടപ്പെടുന്നതും പ്രസാദിക്കുന്നതുമായ കാര്യങ്ങളിൽ വിജയം നൽകണമേ.
അല്ലാഹുവേ, ശൈഖ് സായിദിനും ശൈഖ് റാഷിദിനും അന്തരിച്ച എല്ലാ ഭരണാധികാരികൾക്കും കരുണ നൽകുകയും അവരെ വിശാലമായ സ്വർഗോദ്യാനങ്ങളിൽ പ്രവേശിപ്പിക്കുകയും ചെയ്യണമേ.
അല്ലാഹുവേ, നമ്മുടെ രാജ്യത്തിന്റെ ശഹീദുമാരെ നിന്റെ കരുണയാലും പൊറുപ്പാലും പൊതിയണമേ.
അല്ലാഹുവേ, ജീവിച്ചിരിക്കുന്നവരും മരണപ്പെട്ടവരുമായ എല്ലാ മുസ്ലിം പുരുഷന്മാർക്കും സ്ത്രീകൾക്കും കരുണ നൽകണമേ.
അല്ലാഹുവിന്റെ ദാസന്മാരേ,
അല്ലാഹുവിനെ സ്മരിക്കൂ; അവൻ നിങ്ങളെ സ്മരിക്കും.
അവന്റെ അനുഗ്രഹങ്ങൾക്ക് നന്ദി പറയൂ; അവൻ നിങ്ങളെ കൂടുതൽ അനുഗ്രഹിക്കും.
നമസ്കാരം സ്ഥാപിക്കുവിൻ.